قومی ترقی اور ٹیکس اصلاحات

قومی ترقی

پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ٹیکس اصلاحات اور آمدن بڑھانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ ٹیکس حکام وفد کو اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم سے بھی آگاہ کریں گے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مرحلے میں تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوئے جن میں ٹیکس اصلاحات اور آمدن بڑھانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبہ کے لئے تجاویز تیار کر لی ہیں۔

آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ ایف بی آر سٹیٹ بینک سمیت متعلقہ اداروں سے مذاکرات کریگا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر تک قرض ملنے کا امکان ہے۔

پاکستان نے نئے بجٹ میں ایف بی آر کا ہدف 4500ارب روپے مقرر کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے 500ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی یقین دہانی کرا دی۔ رواں سال ایف بی آر 41سو ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرے گا۔ آئی ایم ایف وفد10مئی تک پاکستان رہے گا۔ انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت خطے کی معاشی صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ معیشت سست روی کا شکار ہے۔ ہنگامی اصلاحات کے ذریعے مالی مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بھارت: عالمی دہشت گردی کا سرغنہ

پاکستان کو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہمی کا فوری بندوبست کرنا ہوگا۔ خطے کی ترقی کی شرح بھی پاکستان کی ترقی میں کمی پر اثر انداز ہوگی جس سے مزید مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ نے پاکستان اور علاقائی ممالک سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس میں اکنامکسآﺅٹ لک آف مڈل ایسٹ، جنوبی افریقہ، افغانستان سمیت پاکستان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تیل درآمد کرنے والے ممالک کے قرضوں میں اضافے کا سلسلہ جارہی ہے اور پاکستان سمیت خطے کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔ اگر ہنگامی اصلاحات کے ذریعے مالی مسائل سے نمٹنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی۔ بین الاقوامی تجارتی تنازعات بھی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں ان کے حل پر بھی اقدامات کرنے ہونگے۔

دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس قومی فریضہ سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے وہاں کے شہری اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر وہ ٹیکس ادا کریں گے تو حکومت انہیں بہتر سہولیات فراہم کرے گی اور وہ پرسکون زندگی بسرکر سکیں گے لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

یہاں پر لوگ ٹیکس چوری کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ اس کام کیلئے باقاعدہ قانون دانوں سے مدد لی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی فیکٹریوں ملوں اور کارخانوں کے قریب ہسپتال مدرسہ یا ڈسپنسری بنا کر باقاعدہ اس کی آڑ میں ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے ٹیکس قوانین میں اصلاحات لا کر اس کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے ٹیکس بیس میں اضافے کو انتخابی منشور کا حصہ بنایا تھا، گو ابتدائی 8ماہ کے عرصے میں حکومت اپنے انتخابی نعرے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی لیکن وزیر اعظم عمران خان ٹیکس اصلاحات لانے کے اعلان پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا ہے؛ اگر وہ اسی دھن کے ساتھ لگے رہے تو امید ہے کہ پاکستان میں بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح ٹیکس کا نفاذ ہوجائے گا؛ اگر ہم نے غربت پسماندگی اور محرومیوں کی دلدل سے نکلنا ہے تو ہر بالغ شخص کو ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔ ملک خالی نعروں اور دعوﺅں سے چلتے ہیں نہ ہی خوشحالی بغیر کسی محنت کے آتی ہے اس لئے اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کے ۔ہم پلہ ہونے کے آرزو مند ہیں تو پھر ہمیں ایمانداری کے ساتھ ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔

گزشتہ مالی سال میں موبائل ٹیکس سے 27ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے لیکن سپریم کورٹ کے حکم امتناعی کے بعدامسال حکومت اس ٹیکس سے محروم رہی ہے جس بنا پر دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر ٹیکس بڑھانا پڑا ہے۔ ٹیلی فون کا استعمال ہر شہری کیلئے اختیاری ہے ضروری نہیں اس لئے جو لوگ اسے اپناتے ہیں انہیں خوشی سے ٹیکس بھی ادا کرنا ہے۔ ایک طرف عوام جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہیں دوسری جانب اس کا معاوضہ بھی دینے سے انکاری ہیں ایسے رویے ملکی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حکومت صرف ٹیلی فون کی صنعت پر ہی ٹیکس نہ عائد کرے بلکہ پراپرٹی پر بھی ٹیکس لاگو کیا جائے۔ مشینری ہوزری چمڑے اور چھوٹی صنعتوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات کئے جائیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں درجہ چہارم کے سرکاری ملازم سے لے کر پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے افراد تک ہر کوئی اپنی تنخواہ سے ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن پھل دودھ پیزا اور شوارما فروش ماہانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کمانے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ٹیکس کی تلوار صرف تنخواہ دار طبقے پر چلائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس طبقے میں احساس محرومی جنم لیتا ہے۔ ڈاکٹرز انجینئر ز اور دوسرے نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جب خود بخود اپنے آپ کو ٹیکس نیٹ میں لے کر نہیں آئیں گے تب تک ہم حکمرانوں کوکوستے رہیں گے۔

ہمارے ملک میں جب تک بااثر اور غریب قانون کی نظر میں ایک نہیں ہوں گے ہم ایسے ہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے۔ ہر آنے والی حکومت انتخابات میں دعوے اور وعدے تو بہت کرتی ہے لیکن جب میدان میں آ کر عملی طور پر کام کرتی ہے تو اس کے ہاتھ پاﺅں پھول جاتے ہیں۔ حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔حکومتی پالیسی کے مطابق؛ سموسے پکوڑے حجام حلوائی اور قصائی سمیت سب کو ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس سلسلے میں چھوٹے دکانداروں پر پروفیشنل ٹیکس لگانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ حکومت کے مجوزہ ٹیکس کی شرح بالکل مناسب ہے حکومت اسی مناسبت سے عوام کو ریلیف فراہم کرے گی اور پھر ہم بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے قابل ہو سکیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں