وہ جو عمران خان تقریر میں نہ کہہ سکے !

جنرل اسمبلی

امی اور ابو دونوں کے پڑھے لکھے ہونے کا نقصان یہ تھا کہ ہر دو طرف سے نصیحت میں دلیل کا تڑکا لگا ہوتا تھا اس لیے اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اکثر اوقات بات کرنے کے بعد سامنے بٹھا کر پوچھا جاتا تھا “اچھا بتاؤ، اس میں کچھ غلط ہے؟ سوچ کر بتاؤ”۔ اب اس کے بعد ہم سوچتے تھے ، کبھی کبھی کوئی دورازکار نکتہ نکالتے تو اس کو منوانے کے لیے دلیل نہ ملتی، دلیل مل جاتی تو مثال ادھر ادھر ہو جاتی لہذا اکثر اوقات بات نہ صرف ماننی پڑتی بلکہ اس پر عمل بھی کرنا پڑتا۔

ابو نے بچپن میں شطرنج سکھائی۔ سکھانے کا طریق یہ نکلا کہ مجھے ہر چال کا حساب دینا پڑتا۔ یہ جواب قابل قبول نہیں تھا کہ یہ چال میں نے ایسے ہی چل دی ہے۔ ابو کا کہنا تھا کہ ہر قدم کا جواز ہوتا ہے، شعور میں جواز نہیں ملتا تو تحت الشعور کو کنگھالو لیکن اپنے کیے کا جواز بھی دو اور وقت آئے تو حساب بھی۔

اس شعوری تربیت میں جذبات کی جگہ تو تھی لیکن ان کی بنیاد پر مقدمہ استوار کرنے کی روایت نہیں تھی۔ ذہن سازی میں استحصال کے ہتھیار کم کم استعمال ہوتے۔ عقیدت کے بت بنائے تو گئے پر ان پر گاہے گاہے سنگ ساری کی اجازت بھی دے دی گئی۔ لکیر کھینچنا سکھایا تو ساتھ یہ بھی سکھا دیا گیا کہ ہر لکیر حق اور باطل کے بیچ نہیں ہوتی۔ امی اور ابو اپنے اپنے فلسفہ زندگی کے خوگر تو تھے اور اس کا پرتو ہماری زندگی میں دیکھنے کے بھی خواہاں تھے پر اس کے لیے جذباتیت کا سہارا لینے کے بجائے انہوں نے ہماری زندگی کی عمارت کی بنیاد عملیت پسندی اور عقلیت پسندی پر رکھنے کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم معاشرے میں ان سے بھی زیادہ مس فٹ ہو گئے۔ جس معاشرے میں مداری کی ڈگڈگی، شعبدہ باز کی تقریر اور جادوگر کی ٹوپی سے نکلتے خرگوش معیار ہوں، وہاں عقل کی بات کرنا کفر سے کم نہیں ہوتا۔

امی کی یاد آتی ہے تو آتی چلی جاتی ہے۔ کل کچھ طعنے سمیٹتے ہوئے نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم کا شعر یاد آ گیا۔ امی کو یہ شعر پسند ہی نہیں تھا ان کے نزدیک یہ زندگی کی بہترین تعریف بھی تھی۔ اس لیے انہوں نے بتایا ، سکھایا ، پڑھایا کہ یہی اصول ہے جس پر دنیا چلتی ہے ، کہنے کو کوئی کچھ بھی کہتا رہے۔ شعر مشہور ہے ، آپ نے سنا ہو گا ۔ نہیں تو اب سن لیجیے اور اس سادہ سی دانش کو پھیلا کر دیکھیے ، سب عالم اس میں سمٹ جائے گا

کل جُگ نہیں، کر جگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے ، اس ہات دے، اس ہات لے

دنیا کے سب سودے نفع نقصان کے سودے ہیں ۔ انگریزی میں اسے cost benifit analysis کہتے ہیں ۔ آپ ہر وہ کام کریں گے جس میں نفع زیادہ ہے اور ہر وہ کام نہیں کریں گے جس میں نقصان زیادہ ہے۔ زندگی کا کوئی فیصلہ اس اصول سے مبرا نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ماں باپ کی محبت غیر مشروط ہے۔ ایسا ہوتا تو تاریخ میں کسی اولاد کو عاق کرنے کی نوبت نہ آتی۔ محبت دی جاتی ہے تو محبت ملتی ہے۔ زیادہ دے سکتے ہو ، زیادہ پا لو گے، کم دو گے ، کم ملے گی۔ یہ اصول لوگوں پر ہی نہیں ، قبیلوں پر ، قوموں پر اور آج کی جدید نیشن سٹیٹس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کوئی آپکا دوست نہیں ہے، کوئی آپکا دشمن نہیں ہے۔ اصول ، ضابطے، قانون، اخلاقیات سب خوشنما چھلکے ہیں۔ درحقیقت سب نفع اور نقصان کے سودے ہیں، اس کے علاؤہ کچھ نہیں

کشمیر بٹا تو بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ جا پہنچے۔ قراردادیں منظور ہوئیں۔ استصواب رائے کے لالی پاپ ہر پاکستانی کے منہ میں ٹھونس دیے گئے۔ شادیانے بجے پھر کسی نے یہ نہ بتایا کہ استصواب کی شرائط کیا ہیں۔ قرارداد میں پاکستان جارح کیوں سمجھا گیا ہے۔ فوج کس کی پہلے نکلے گی۔ لوگ کہاں کے پہلے بے دخل ہوں گے۔

واقفان حال جانتے تھے کہ یہ تل سوکھے ہیں تو ان سے کبھی تیل نکالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہاں ان کا بھرا مرتبان آج بھی سیاہ کاغذ میں لپیٹ کر کبھی جنرل اسمبلی، کبھی سلامتی کونسل کی میز پر رکھ کر دونوں ملک نورا کشتی لڑ لیتے ہیں ۔عوام خوش ہو لیتے ہیں۔ مداری پھر ڈگڈگی گڈری میں ڈالتا ہے اور عوام کے گلے میں رسی ڈال کر اگلے تماشے کی طرف چل پڑتا ہے۔ پہلی بار یہ تماشہ 1948 میں ہوا۔ ادھر ادھر کودا پھاندی ہوئی۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ مداری نے داد سمیٹی۔ کشمیر وہیں پڑا رہا

آپریشن جبرالٹر ہوا۔ محاذ کھلتے کھلتے لاہور تک آن پہنچے۔ منصوبہ بنانے والے بھول گئے کہ منصوبے تو سرحد کے اس طرف بھی بن سکتے ہیں ۔ سترہ دن پنجہ آزمائی ہوئی۔ اقوام متحدہ سے ہوتے ہوتے یار لوگ تاشقند جا نکلے،جنگ کی گرد بیٹھی اور ایوب خان کا بند مکا کھلا تو پتہ چلا کہ کشمیر وہیں پڑا ہے۔

بھٹو صاحب پندرہ دسمبر کو اقوام متحدہ میں تاریخ کی جوشیلی ترین تقریر کر کے نکلے ۔ قوم نے انہیں سر پر بٹھا لیا۔ پر ہوا یہ کہ اگلے دن آدھا ملک نقشے سے مٹ گیا۔ یحیی خان غرق مئے ناب رہے، کشمیر پھر وہیں پڑا رہا۔

ضیاء صاحب کو افغانستان کی کھیر ملی تو حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ امریکا کی امداد مونگ پھلی دکھائی دینے لگی۔ ریگن سے دانت کاٹے کی دوستی ہو گئی۔ چارلی ولسن تیرہ شبوں کا ساتھی بنا۔ ربانی، سیاف اور حکمت یار کے ہاتھوں میں سٹنگر تھما دیے گئے پھر جنرل اسمبلی کے بھرے ہال میں ضیا صاحب کے ایمان افروز خطاب سے پہلے قرآن کی باقاعدہ تلاوت کا منصوبہ بنا ۔وہ تو اقوام متحدہ کے کارپرداز کم بخت سیکولر کافر نکلے۔انہوں نے تلاوت کروانے سے صاف انکار کر دیا۔ پر وہ مرد مومن کی فراست کو نہ بھانپ سکے۔ اقوام متحدہ میں نہ سہی۔ اوپر ریکارڈنگ بوتھ سے قاری صاحب نے پی ٹی وی کی براہ راست نشریات میں تلاوت کر ڈالی۔ اتنی دیر ضیا صاحب خاموش ایسے کھڑے رہے جیسے تلاوت سن رہے ہوں۔ ادھر پی ٹی وی پر قاری صاحب خاموش ہوئے ادھر انہیں اشارہ کر دیا گیا کہ تقریر شروع کریں۔

Photo: File

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام سمجھے کہ تلاوت اقوام متحدہ میں ہو رہی ہے۔ ہر کسی کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ رقت سے گلے رندھ گئے۔ ضیاء صاحب نے اس کے بعد اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے ایک بصیرت افروز خطاب کیا۔ اس کے بعد ملک میں ہیروئین اور کلاشنکوف کا معاشی انقلاب آیا۔ افغان خون اور پاکستانی خون دشت لیلی کی ریت میں جذب ہوتا گیا۔ بھارت میں ابھی منموہن سنگھ کی معاشی اصلاحات نہیں تھیں۔ ان کا روپیہ ہم سے کمزور تھا اور پھر کہنے کو ہم مغرب کے نور نظر تھے۔ پر ہم تقریر سے آگے دنیا کو بھارت کے خلاف کھڑا کرنے میں ناکام رہے۔ اقوام متحدہ میں ایک بار نہیں ،کئی بار جانا ہوا۔ پھر آنا ہوا، پھر جانا ہوا۔ اس آنا جانی کرتے کرتے ایک دن ضیاء صاحب کا جہاز فضا میں “پھٹ” گیا ۔ کشمیر وہیں پڑا رہا۔

بی بی اور میاں صاحب نے بھی اپنی اپنی باری کی۔ میاں صاحب کے خطاب پر بھی قوم واری گئی۔ بی بی کی تقریر بھی ہر تقریر کی طرح تاریخی رہی۔ پر زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد ، کشمیر وہیں پڑا رہا۔

مشرف صاحب کو گیارہ ستمبر کا تحفہ نعمت غیر مترقبہ کی طرح ملا۔ اچانک سب پابندیاں اڑن چھو ہو گئیں۔ بش صاحب ڈھلتی عمر میں لنگوٹیا یار بن گئے۔ امداد کے نئے در کھلے۔ افغانستان میں نئی تزویراتی ڈرلنگ کا آغاز ہوا۔ ادھر سے چہرے اٹھا کر ادھر کر دیے گئے۔ ادھر کے چہرے کوئٹہ چلے آئے۔ ہم دو ہاتھوں میں پانچ گیندیں اس دور میں بھی اچھالتے رہے۔ اقوام متحدہ نے آمریت اور جمہوریت کے فرق کو کسی گہری دراز میں ڈالا اور جنرل صاحب نے بھی جنرل اسمبلی سے تاریخ ساز بلکہ تاریخ شکن خطاب کی سعادت حاصل کی۔ لاہور سے آگرہ کے سفر ہوئے۔ ہاتھ ملائے گئے۔ سینے ملائے گئے۔ دل نہیں مل سکے۔ کشمیر وہیں اسی طرح بے دم ، بے سدھ پڑا رہا

بی بی کے خون کے طفیل زرداری صاحب بھی دنیا کے سب سے بڑے سٹیج پر پہنچے۔ ایک اور تقریر ہو گئ۔ باری ختم ہوئی تو میاں صاحب کو بھی یہی موقع پھر ہاتھ آیا۔ اسی ڈائس سے ایک دفعہ پھر بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیے گئے۔ چنے ختم ہوئے تو پتہ لگا کہ کشمیر اب بھی وہیں ہے جہاں تھا۔

اب یہی موقع خان صاحب کو ملا۔ ہمارا میڈیا ، ان کے دوست ، ان کے حامی وہی راگ پھر سے سنا رہے ہیں جو ہم ستر سال سے سنتے آ رہے ہیں۔ وہی خبر ہے ، ہر کچھ سال بعد اس کے چوکھٹے میں نیا چہرہ لگا دیا جاتا ہے۔ ہر دور حکمرانی میں خانہ کعبہ کا دروازہ اور اقوام متحدہ کا سٹیج دونوں ہمارے حکمرانوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ پر نہ کبھی آسمان سے کوئی نعمت نازل ہوئی نہ زمین میں کھنچی سرحدوں میں کوئی تغیر آیا۔ ایک سبز خواب شاید ہی کسی قوم کو اتنی بار بیچا گیا ہو۔ دیکھیے ، شاعر بے بدل افضل خان کیسے وقت میں یاد آئے۔

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں ، اسی چال میں آ جاتے ہیں

تقریر ہو گئی۔ مودی صاحب کی بھی ہو گئی۔ خان صاحب کی بھی ہو گئی۔ اس کے بعد انڈیا کے وزیراعظم ایک آئ ٹی سپر پاور کو لوٹ گئے جس کا غیر ملکی زر مبادلہ ساڑھے چار سو ارب ڈالر ہے۔ تین سو ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات ہیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ داری پچھلے ایک سال میں پچاس ارب ڈالر کو پہنچنے کو ہے۔ چین سے لے کر فرانس اور فرانس سے لے کر امریکا تک ہر ملک بھارتی منڈی میں رسائی کا خواہاں ہے۔ دنیا کی تمام مشہور مصنوعات بھارت میں بن رہی ہیں. آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال بھارت کی شرح نمو سات اعشاریہ دو فی صد ہو گی۔

ادھر ہمارے وزیراعظم ایسے ملک کو لوٹیں گے جس کا غیر ملکی زر مبادلہ گرتے گرتے پندرہ ارب ڈالر پر جا پہنچا ہے۔ ہماری کل برآمدات کوئی تئیس چوبیس ارب ڈالر ہیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ داری پچھلے ایک سال میں منفی ہے، یعنی صفر سے بھی کم۔ کوئی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں سرمایہ داری کی خواہاں نہیں ۔ ہم کسی ملک کی بی ٹیم کو بھی اس پر آمادہ نہیں کر پاتے کہ وہ یہاں ایک میچ ہی کھیل لیں، طویل المدت سرمایہ کاری تو دور کی بات ہے۔ دنیا میں سب سے تیزی سے قدر کھونے والی کرنسیوں میں پاکستانی روپیہ سر فہرست ہے۔ ہماری اگلے سال کی شرح نمو کا تخمینہ ساڑھے تین فی صد ہے یعنی بھارت کے نصف سے بھی کم۔ ہم ایک ایک ملک کے آگے آدھے سے ایک ارب ڈالر کے لیے کشکول لیے دنیا میں پھر رہے ہیں ۔

اس ہات دے، اس ہات لے۔ دنیا کو دینے کے لیے ہمارے پاس کیا ہے کہ اس کے بدلے دنیا ہمیں کچھ دے گی۔ ہمیں تو اس وقت کچھ نہیں ملا جب ہم کسی قابل تھے۔ اب تو ایک انگریزی محاورے کے مطابق فقیر کو انتخاب اور خواہش کا اختیار بھی نہیں رہا۔ کیا نہائیں گے اور کیا نچوڑیں گے۔

تقریر اچھی تھی یا بری تھی ، یہ ایک لایعنی بحث ہے۔ تقریر کے داخلی تضاد اپنی جگہ ہیں۔ ایک ملک جو فٹیف کی سیاہ اور سرمئی فہرست کے بیچ جھونجھ رہا ہو ، وہ اقوام عالم کو ایک سانس میں امن کا پیغام دیتا ہے اور دوسری سانس میں جوہری جنگ کی دھمکی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد شاید پہلی دفعہ دنیا نے کسی عالمی رہنما کو یوں جوہری جنگ کو ایک بارگینگ چپ کے طور پر استعمال کرتے دیکھا ہے۔ اس سے کیا پیغام جائے گا۔ کیا دنیا اب اور مشوش ہو کر ہمارے جوہری اثاثوں کو مقفل کرنے کی بات نہیں کرے گی۔

Photo: FIle

کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کوئی بھی ذی شعور انسان کیسے منکر ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اس ضمن میں انگلی اٹھانی ہو تو پہلے یہ یقین ہونا چاہیے کہ بلوچستان ، قبائلی علاقوں، خیبر پختونخوا، کراچی اور ساہیوال میں ہم نے انسانی حقوق کو مقدم جانا ہے، سمجھا ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں نہیں تو بات میں اثر نہیں رہے گا۔

اسلاموفوبیا پر بات کرنے سے پہلے ہزاروں لاکھوں مدارس کے نصاب اور مبلغین اسلام کی تقریروں کو ایک نظر دیکھ لیں تو کوئی ہرج نہیں ۔ کبھی کبھی جواب اپنے ہی گریبان میں مل جاتا ہے۔

ماحولیات پر بات بہت اچھی تھی، بہت عمدہ تھی لیکن ہم اپنے ماحول کے لیے ایک بہتر آبی پالیسی بنا کر یہ بات کریں تو کچھ تاثیر بھی پیدا ہو۔ جو ریاست چندہ مانگ کر آج کے دور میں بڑے ڈیم بنانے کے فیصلے کر رہی ہو جس سے ماحول کی اور وسیع تر تباہی مقدر ہے ، اس سے بہت سے ایسے سوال ہو سکتے ہیں جس کے جواب ان کے پاس نہیں ہیں۔ جو ریاست سی پیک کے تحت ملک میں ناکارہ اور ماحولیات دشمن کوئلے کے پاور پلانٹ لگا رہی ہو، الیکٹرک اور ہائیبرڈ گاڑیوں پر امپورٹ ڈیوٹی لگا رہی ہو، جو اپنے شہروں کا کچرا بھی تلف نہ کر پا رہی ہو وہ ماحولیات پر کیسے کسی کو درس دے گی۔ بلین ٹری سونامی ایک قابل قدر ، قابل تعریف منصوبہ تھا پر جس طرح اسے بروئے کار لایا گیا۔ جس طرح بیوروکریسی اور اشرافیہ نے اس ضمن میں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکا، اس کے بعد کیا کسی کا اعتبار کرے کوئی۔

ملیحہ لودھی کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا ؟

پر یہ داخلی تضاد بھی بھول جائیے تو بھی تقریر وہی پرانے گھسے پٹے بیانیے پر مشتمل تھی جس سے نہ پہلے کبھی کچھ حاصل ہوا ، نہ اب ہونا ہے۔ آپ بھی یہیں ہیں اور میں بھی یہیں ہوں۔ آج تقریر پر خوش ہونے والوں سے سال بعد پوچھ لیں گے کہ سیپی کا منہ کھلنے پر کون سے سچے موتی برآمد ہوئے ہیں۔

اچھا ، پھر ہزار سوالوں کا ایک سوال۔ کیا کرنا چاہیے تھا۔ مجھ سے پوچھیے تو حقیقت آشنائی سے کام لینا چاہیے تھا۔ روایتی اور جوہری جنگ کی دھمکی دینے کے بجائے کہنا چاہیے تھا کہ کشمیر کی زمین معنی نہیں رکھتی، کشمیر کے لوگ معنی رکھتے ہیں ۔ آئیے ایک بے سود جنگ کو ختم کرتے ہیں ۔ اگر ساری سرحدیں نہیں کھول سکتے تو کم از کم کشمیر کی سرحد کو ہی نرم کرتے ہیں۔ کشمیر کو سیاسی مسئلے کے بجائے انسانی مسئلہ بناتے ہیں۔ دونوں طرف بٹے ہوئے کشمیریوں کو ایک کرتے ہیں۔

القاعدہ کی تربیت کا اعتراف تو ہم کر ہی چکے ہیں اب ایک قدم آگے بڑھ کر ان اصلاحات کا اعلان کرتے جو ملک میں موجود شدت پسندی کے خاتمے کے لیے معاون ہوتیں۔ فٹیف کے حوالے سے واضح پالیسی دیتے۔ ملک میں موجود سو سے زیادہ دہشت گرد کالعدم تنظیموں کے مکمل انسداد کا پلان دیتے۔ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے مراعات کا اعلان کرتے۔ شخصی آزادی، اظہار رائے کے حق ، عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ضیاء صاحب کےدور سے چلے آ رہے سرکاری اصلی والے بیانیے کو تجنے کی بات کرتے۔

پیداواری ذرائع میں چھوٹی انڈسٹریز کے کردار کو فعال بنانے کے اشارے دیتے۔ نظام تعلیم میں اصلاحات کی بات کرتے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیر کو فلیش پوائنٹ بنانے کے بجائے عوام کی سطح پر رابطے بنانے کی بات کرتے تو پھر میں بھی آپ کے ساتھ تالیاں بجاتا۔ لیکن جس تقریر پر آپ مر مٹے ہیں یہ تقریر میں پہلے بھی دس بار سن چکا ہوں اور اس سوچ کے ثمرات دیکھ بھی لیے ہیں، بھگت بھی لیے ہیں۔

یاد رکھیے ، دنیا بے وقوف نہیں ہے اور اس سے ابھی اہم یہ کہ دنیا مفاد کے سودے کے علاوہ کوئی سودا نہیں کرتی۔ جس دن اقوام عالم کے مفاد آپ سے وابستہ ہو جائیں گے۔ جب آپ کی منڈیاں ان کے لیے سود مند ہوں گی۔ جب وہ آپ کے اہم تجارتی شریک ہوں گے۔ جب سائنس ، صنعت، زراعت، تعلیم اور سرمایہ داری کے میدان میں آپ کے پاس دنیا کو کچھ دینے کے لیے ہو گا تو بدلے میں وہ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آپ کی بات سنیں گے۔ فقیر کی صدا پر یا تو کشکول میں چند سکے مل سکتے ہیں یا پھر سفارت کاری کی گنجلک زبان مین لپٹے ہوئے وعدہ فردا ۔ اس سے زیادہ نہ پہلے کبھی کچھ ملا ہے نہ اب ملے گا۔ میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے، بس اقبال کے اشعار کی حد تک ہی رہے تو مناسب ہے۔

میزانیہ سامنے رکھ دیا ہے۔ سچ کے ساتھ رسوائی بندھی ہے، یہ جانتے ہیں۔ غدار پہلے بھی کہلاتے تھے ۔ اب بھی کہہ لیجیے ۔ سزاوار سہی، غلط کار نہ ہوں، بس یہی تمنا ہے۔

(Visited 78 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں