طلبہ کے مظاہرے اور مطالبات

طلبہ کے مظاہرے اور مطالبات

جمعہ کے روز طلبہ انجمنوں، سٹوڈنٹس یونینز کی بحالی کے لئے طلباء اور سول سائٹی کے نمائندوں نے ملک بھر میں مظاہرے کیے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور لاہور میں ناصر باغ سے فیصل چوک تک بھٹہ مزدوریکجہتی مارچ ہوا۔ ان مظاہروں کے دوران مقررین نے اپنی تقاریر میں جو مطالبات سامنے رکھے ان میں طلباء تنظیموں پر پابندی کا خاتمہ، کم از کم تنخواہ 17500 روپے، بھٹہ مزدوروں کی اجرت میں اضافہ، تعلیمی بجٹ کو بڑھا کر بجٹ کا 5 فیصد کرنا، پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں کمی اور ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا شامل ہیں۔ تاہم ان مطالبات میں بہت نمایاں مطالبہ طلبا تنظیموں پر پابندی کاخاتمہ ہے اور جمعہ کے روز اس نقطہ پر مختلف مکاتب فکر کے لوگ یک جان نظر آئے۔

طلبہ کے مظاہرے اور مطالبات

طلباء یونینز پر پابندی آج سے قریباً 3 دہائیاں قبل جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں لگائی گئی تھی۔ ان کے مخالفین آج بھی الزام لگاتے ہیں کہ اس اقدام کا مقصد معاشرے سے فوجی حکومت کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت ختم کرنا تھا۔ اس پابندی کے اغراض و مقاصد پر بحث کی جاسکتی ہے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس زمانے کی طلباء سیاست میں تشدد کا عنصر نمایاں ہوچکا تھا۔70ء کی دہائی کی سیاست نے معاشرے میں مختلف مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں کے درمیان بہت بڑی خلیج پیدا کردی۔ برداشت کا خاتمہ ہوا۔ آج کے بڑے بڑے سیاستدانوں نے سٹوڈنٹ لیڈری کے دور میں جو ’کارنامے‘ سرانجام دئیے، وہ سب کے سب تاریخ میں محفوظ ہیں۔نظریاتی یا سیاسی اختلافات جانی دشمنیوں میں بدلے، یونیورسٹیوں کا نظم و ضبط متاثر ہوا اور روزانہ کی لڑائیاں سنگین تنازعات میں بدلنے لگیں۔ تین دہائیاں قبل جو رُخ طلبا سیاست نے اختیار کر لیا، اس پر چلنے کی اجازت دینا بھی ریاست کیلئے ممکن نہ تھا۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ بظاہر طلبا یونینز پر پابندی اس لئے لگائی گئی کہ طلباء تعلیم اور پرامن ثقافتی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کریں لیکن انہیں مصروف رکھنے کے لئے یونینز کے متبادل کوئی سرگرمی مہیا نہیں کی جا سکی۔ تعلیمی انحطاط وہی کا وہی یا اس سے بھی بدتر ہے، کالجوں میں جو کچھ تھوڑی بہت منظم سرگرمیاں منعقد کی جاتی تھیں وہ بھی دم توڑ گئیں۔ یونینز پر پابندی کے باوجود کوئی بھی پاکستانی یونیورسٹی عالمی رینکنگز میں نمایاں جگہ نہ بناسکی۔ آج دنیا کی 100 ٹاپ کی درسگاہوں میں سے ایک کا تعلق بھی وطن عزیز سے نہیں ہے۔ غرضیکہ طلبا تنظیموں کے ذریعے طلبہ کے درمیان جو مکالمہ ہوتا تھا وہ بھی بند ہوگیا اور اس کی جگہ نوجوان نسل میں فرسٹریشن نے لے لی۔

طلبہ کے مظاہرے اور مطالبات

loading...

بہتر ہوتا کہ ان پر یکسر پابندی لگانے کی بجائے ضابطے بنائے جاتے اور لاگو کئے جاتے۔ تاہم اب کئی دہائیوں بعد طلبا کے جذبوں نے پھر سر اٹھایا ہے، جمعہ کے روز منعقد ہونے والے مظاہروں میں طلبا کی کثیر تعداد کی شمولیت بہت سے لوگوں کے لئے حیران کن تھی۔ خوش آئند بات ہے کہ اس مطالبے کو حکومت اور حزب اختلاف دونوں سے حمایت ملی ہے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ وہ یونینز پر پابندی کو جمہوریت کے منافی سمجھتے ہیں، ان کے مطابق یونینز پر پابندی کا مقصد مستقبل کی سیاست محدود کرتی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ سٹوڈنٹس یونینز پر پابندی لگائی گئی لیکن طلبہ نسلی اور فرقہ وارانہ گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ اسی طرح بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس مطالبے کی پرزور حمایت کی۔

”دوتہائی اکثریت یا اتفاق رائے “

خوش آئند ہے کہ اس معاملے پر معاشرے میں اتفاق رائے پیدا ہورہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ، سیاستدان، حکومت اور اساتذہ تمام فریقین ا س معاملے پر اکٹھے بیٹھیں، اپنی اپنی تجاویز پیش کریں، طلبا یونینز کے لئے ضابطہ اخلاق مرتب کر کے انہیں بحال کریں اور ضابطے پر عملدرآمد بھی یقینی بنائیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سٹوڈنٹس یونین کا زور پرائیویٹ کی نسبت سرکاری کالجز میں زیادہ ہوتا ہے۔ بغیرسوچے سمجھے کوئی قدم اٹھاکر ڈسپلن خراب کرنے سے بہتر ہے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرلی جائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر گزشتہ چندروز سے ایک یونیورسٹی کے چند طلبا کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔ اس میں یہ ”انقلابی“ نظمیں پڑھتے اور سوشلزم کے حق میں نعرے لگاتے نظر آرہے ہیں۔ اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ ملک میں ہر کسی کو اپنی بات کرنے، اپنی منشاء کا نعرہ لگانے کی پوری آزادی ہے۔ لیکن غور طلب بات ہے کہ ہمارے بعض نوجوان طلباء ایک ایسے فلسفے سے متاثر کیوں نظر آرہے ہیں جو خود پوری دنیا میں ناکام ہوچکا ہے۔ اس معاشی ماڈل سے روس اور چین نے خود بھی توبہ کرلی۔ پاکستانی معاشرے سے بھی یہ بحثیں ختم ہوگئیں۔

آج کل کے دور میں ملک کی معروف ترین یو نیورسٹی کے طلبہ کے منہ سے یہ دقیانوسی نعرے سننا حیرت اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اپنے خیالات سے طلباء کو ماضی میں الجھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ معیشت کو ڈسپلن اور ضابطوں کے تابع ہونا چاہیے لیکن معیشت چلانے کے لئے سوشلزم کا فلسفہ فیل ہوچکا، آج کل کے طالب علموں کو آج میں زندہ رہنا چاہیے اورمستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔ جو خیالات اور فلسفے ماضی میں رہ گئے، ان کے پیچھے لگ کر کیا ہم واپس ماضی کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں