لیڈی ڈیانا اور ایک پاکستانی کا افیئر!

لیڈٰ ڈیانا

بہترین شخصیت کی مالک شہزادی ڈیانا کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے 21 برس ہوچکے ہیں مگر ان کی زندگی کے ایسے گوشوں مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں، جن کا علم بہت کم افراد کو ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں برطانوی روزنامے ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں آنجہانی پرنسز آف ویلز کی ایک قریبی دوست کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ شہزادی ڈیانا ایک پاکستانی کی محبت میں گرفتار اور پاکستان ہی منتقل ہوجانے کے لیے تیار تھیں۔

رپورٹ میں شیزادہ ڈیانا کی قریبی دوست اور موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کے 2013 کو ونیٹی فیئر کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا۔

جمائمہ خان نے اس انٹرویو میں بتایا کہ شہزادی ڈیانا پاکستانی ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرنا چاہتی تھیں اور برطانیہ چھوڑنے کر پاکستان بسنے کے لیے تیار تھیں۔

ڈاکٹر حسنات خان اس زمانے میں برطانیہ میں ہارٹ سرجن کے طور پر کام کررہے تھے اور لیڈی ڈیانا کے دیگر معاشقوں کے برعکس پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے ان کے تعلق کو زیادہ پبلسٹی نہیں ملی۔

جمائمہ خان نے انٹرویو میں کہا ‘ڈیانا حسنات خان کی محبت میں پاگل اور شادی کرنا چاہتی تھیں، یہاں تک کہ پاکستان میں رہنے کے لیے بھی تیار تھیں، اور یہ بھی ان وجوہات میں سے ایک ہے جو ہم دوست بنے’۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘ ڈیانا مجھ سے جاننا چاہتی تھیں کہ پاکستان میں زندگی گزارنا میرے لیے کس حد تک مشکل ثابت ہوئی’۔

خیال رہے کہ جمائمہ خان نے عمران خان سے شادی کے بعد پاکستان میں رہائش اختیار کرلی تھی۔

22 فروری 1996 کی اس تصویر میں عمران خان لیڈی ڈیانا کے ساتھ شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا دورہ کر رہے ہیں — اے پی فوٹو
جمائمہ خان کے مطابق پرنسز آف ویلز نے 2 بار پاکستان کا دورہ کرکے یہاں مستقل رہائش کے لیے ان سے مشورہ کیا ‘ڈیانا پاکستان میں عمران خان کے ہسپتال کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مدد کے لیے آئی تھیں، مگر دونوں بار وہ چھپ کر ان کے خاندان سے بھی ملیں تاکہ حسنات سے شادی کے امکانات پر بات کرسکیں’۔

ونیٹی فیئر کے لیے کام کرنے والی سارہ ایلیسین نے دعویٰ کیا ‘شہزادی ڈیانا کا تعلق 1995 سے 1997 تک ڈاکٹر حسنات خان سے رہا، یہ جوڑا شادی کرنا چاہتا تھا، مگر ڈاکٹر کی والدہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ شہزادی نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ حسنات سے شادی کے بعد ایک بیٹی کی خواہشمند ہیں’۔

شہزادی ڈیانا حسنات کے خاندان کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں خصوصاً ان کی والدہ کی منظوری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

جمائمہ نے اس حوالے سے بتایا ‘اپنے بیٹے کی کسی انگلش لڑکی شادی ہر قدامت پسند پشتون ماں کے لیے بھیانک خواب ہے، آپ اپنے بیٹے کو تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایک انگلش دلہن لے آتا ہے، جو کہ خوفزدہ کردیتا تھا´۔

رپورٹ میں شہزادی ڈیانا کے کچھ دوستوں کے حوالے سے کہا گیا کہ حسنات کی جانب سے شادی سے انکار پر پرنسز آف ویلز دلبرداشتہ ہوگئی تھیں، اس بارے میں جمائمہ خان نے بتایا ‘ڈاکٹر حسنات اس بات سے نفرت کرتے تھے کہ اس شادی کے بعد ان کی پوری زندگی پبلسٹی کی زد میں رہے گی’۔

اپنی موت سے قبل شہزادی ڈیانا نے اپنے ایک دوست کو بتایا ‘ہر ایک نے مجھے فروخت کیا، حسنات واحد شخص ہیں جس نے مجھے کبھی فروخت نہیں کیا’۔

ڈاکٹر حسنات سے تعلق ختم ہونے پر لیڈی ڈیانا نے دودی الفائید سے نیا تعلق شروع کیا۔

خیال رہے کہ 19 جولائی 1981 کو لیڈی ڈیانا کی شادی شہزادہ چارلس سے ہوئی جسے دنیا بھر کے میڈیا نے دکھایا اور دو بچوں کی پیدائش بھی ہوئی۔

دو بچوں کی پیدائش کے بعد شہزادہ چارلس کی سرد مہری سے لیڈی ڈیانا کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اور شادی کے مقدس بندھن میں دراڑ پیدا ہونے لگی۔

20 دسمبر 1995 میں شہزادی ڈیانا اور ان کے شوہر شہزادہ چارلس کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔

بشکریہ ڈان نیوز

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں