انگلینڈ کے کرکٹ گراؤنڈز سے جڑی یادیں!

انگلینڈ کے کرکٹ گراؤنڈز

کرکٹ کے کھیل میں موسم اور پچ کی صورتحال بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس دفعہ کا ورلڈکپ انگلینڈ اور ویلز میں کھیلا جا رہا ہے. انگلینڈ کے کرکٹ گراؤنڈز روایتی طور پر تیز گیند بازوں کو مدد دیتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم 2019 کے عالمی کپ کےپہلے مرحلہ کے نو میچ سات مختلف میدانوں پر کھیل رہی ہے۔ ان گراؤنڈز میں ٹرینٹ برج، برسٹل، ٹاؤنٹن، اولڈ ٹریفرڈ، ایجبسٹن، ہیڈنگلے اور لارڈز شامل ہیں۔

ہر میدان کی اپنی تاریخ ہے اور اس میں پاکستانی ٹیم کی مجموعی اور کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا کہیں نہ کہیں ذکر اور وابستگی ضرور موجود رہی ہے۔

آئیے ہم آپ کو ان میدانوں سے متعارف کرواتے ہیں جن میں پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں نو میچ کھیلے گی۔

ٹرینٹ برج کرکٹ گراؤنڈ، نوٹنگھم
ٹرینٹ برج انگلش کاؤنٹی ناٹنگھم شائر کا ہوم گراؤنڈ ہے۔

ناٹنگھم شائر کا ذکر آتے ہی ذہن میں تین بڑے آل راؤنڈرز کے نام آتے ہیں جن میں ویسٹ انڈیز کے سر گیری سوبرز، نیوزی لینڈ کے سر رچرڈ ہیڈلی اور جنوبی افریقہ کے کلائیو رائیس شامل ہیں۔

ٹرینٹ برج گراؤنڈ پر انگلینڈ نے دو مرتبہ ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور بنایا ہے۔ 2016 میں انھوں نے پاکستان کے خلاف 444 رنز بنائے تھے۔ گذشتہ سال انگلینڈ نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا ہی ریکارڈ توڑ کر 481 رنز سکور کرڈالے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ میں اپنا اولین ایک روزہ میچ اسی گراؤنڈ پر کھیلا تھا جس میں ماجد خان نے ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی طرف سے پہلی سنچری بنائی تھی۔

پاکستان کا ٹرینٹ برج میں ون ڈے ریکارڈ انگلینڈ کے دیگر تمام گراؤنڈز سے اچھا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم نے یہاں 13 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں جن میں سے سات میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس سب کے باوجود پاکستانی ٹیم اس ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا میچ بری طرح ہار چکی ہے اور اسی گراؤنڈ میں آج اپنا دوسرا میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلے گی۔

برسٹل کاؤنٹی گراؤنڈ، برسٹل
برسٹل گلوسٹر شائر کاؤنٹی کا گراؤنڈ ہے۔ یہ کاؤنٹی بابائے کرکٹ ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کی کاؤنٹی ہے۔

سنہ 70 اور 80 میں پاکستان کے ظہیرعباس نے گلوسٹر شائر کی نمائندگی کی۔ وہ واحد ایشین بیٹسمین ہیں جنھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سو سے زائد سنچریاں بنائی ہیں جن میں سے 49 سنچریاں گلوسٹر شائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے بنائیں۔

پاکستان نے برسٹل میں دو ایک روزہ میچ کھیلے ہیں جن میں سے ایک میں جیت اور دوسرے میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنا اولین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سنہ 2006 میں برسٹل کے میدان میں ہی کھیلا تھا۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم برسٹل میں سری لنکا کے خلاف میچ کھیلے گی۔

ٹاؤنٹن کاؤنٹی گراؤنڈ، ٹاؤنٹن
ٹاؤنٹن انگلش کاؤنٹی سمرسیٹ کا گراؤنڈ ہے جس سے شہرۂ آفاق بیٹسمین سر وویئن رچرڈز کے علاوہ ای این بوتھم اور جوئیل گارنر کھیلے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے ٹاؤنٹن انگلینڈ کی خواتین کرکٹ کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم ابھی تک ٹاؤنٹن کے میدان پر کوئی ون ڈے نہیں کھیلی ہے۔

ورلڈ کپ میں یہاں اس کا میچ آسٹریلیا کے خلاف ہوگا۔

ہیڈنگلے کرکٹ گراؤنڈ، لیڈز
ہیڈنگلے انگلش کاؤنٹی یارک شائر کا گراؤنڈ ہے۔

یارکشائر انگلینڈ کی سب سے قدامت پسند اور روایت پسند کاؤنٹی رہی ہے جس نے ایک طویل عرصے تک صرف اپنے علاقے کے کرکٹرز کو ٹیم میں شامل کیے رکھا لیکن جب اس نے یہ روایت کی تو اس کا پہلا انتخاب سچن تندولکر تھے۔

یارکشائر کاؤنٹی کے مشہور کرکٹرز میں سر لین ہٹن، ہربرٹ سٹکلف، فریڈ ٹرومین اور جیفری بائیکاٹ شامل ہیں۔

ہیڈنگلے کا میدان سنہ 1981 کی ایشیز سیریز کے ڈرامائی ٹیسٹ کے لیے بھی مشہور ہے جس میں انگلینڈ نے فالو آن پر مجبور ہونے کے بعد آسٹریلیا کو شکست دی تھی۔

یہ وہی میچ ہے جس میں این بوتھم نے پہلی اننگز میں نصف سنچری اور دوسری اننگز میں 149 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی جس کے بعد باب ولیز کی تباہ کن بولنگ نے انگلینڈ کی جیت یقینی بنا دی تھی۔

پاکستان نے انگلینڈ کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز سنہ 1987 میں ہیڈنگلے ٹیسٹ کی جیت کے باعث ہی جیتی تھی جس میں کپتان عمران خان کی سات وکٹیں قابل ذکر تھیں۔

پاکستان نے ہیڈنگلے میں نو ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں جن میں سے چار میں فتح اور پانچ میں شکست ہوئی ہے۔ اس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم ہیڈنگلے میں افغانستان کے خلاف میچ کھیلے گی۔

اولڈ ٹریفرڈ کرکٹ گراؤنڈ، مانچسٹر
اولڈ ٹریفرڈ لنکاشائر کاؤنٹی کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ پاکستان کے وسیم اکرم ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ اور سری لنکن اسپنر متایا مرلی دھرن اسی کاؤنٹی کی طرف سے کھیلتے رہے ہیں۔

اس میدان پر انگلینڈ کے آف اسپنر جم لیکر نے ٹیسٹ میچوں میں 19 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ آسٹریلوی اسپنر شین وارن نے اسی میدان پر مائیک گیٹنگ کو بولڈ کرکے شہرت پائی تھی۔ ان کی وہ گیند ’بال آف دی سنچری‘ یعنی صدی کی گیند قرار پائی تھی۔

پاکستان نے اولڈ ٹریفرڈ میں آٹھ ایک روزہ میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس نے صرف دو جیتے ہیں اور چھ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ اسی گراؤنڈ میں دو روایتی حریفوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان 16 جون کو کھیلا جائے گا۔

ایجبیسٹن کرکٹ گراؤنڈ، برمنگھم
انگلینڈ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں واقع ایجبیسٹن گراؤنڈ وارک شائر کاؤنٹی کی ملکیت ہے۔

اس گراؤنڈ پر کئی یادگار میچ اور انفرادی کارکردگیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔

ظہیرعباس کی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 274 رنز کی اننگز کو بھلا کون بھول سکتا ہے۔ برائن لارا نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 501 اسی میدان میں کھیلی ہے۔

1981 کی ایشیز سیریز میں این بوتھم کی صرف ایک رن پر پانچ وکٹوں کی ڈرامائی کارکردگی اور سنہ 2005 کی ایشیز سیریز کے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی ایک رن سے جیت بھی سب کو یاد ہے۔

اسی میدان پر ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے سنسنی خیز میچ 1999 میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں لانس کلوزنر اور ایلن ڈونلڈ کے رن آؤٹ نے اس میچ کو ٹائی کرا دیا تھا۔

ایجبیسٹن میں پاکستانی ٹیم 13 میں سے آٹھ ایک روزہ میچ ہارچکی ہے اور پانچ میں اسے فتح حاصل ہوئی ہے۔

پاکستانی ٹیم اس ورلڈ کپ میں ایجبیسٹن میں نیوزی لینڈ سے مدمقابل ہوگی۔

لندن میں واقع لارڈز کرکٹ گراؤنڈ ’ہوم آف کرکٹ‘ یعنی کرکٹ کے گھر کے نام سے مشہور ہے۔

یہ مڈل سیکس کاؤنٹی کا ہوم گراؤنڈ ہے۔

لارڈز کو انگلینڈ میں کھیلے گئے گزشتہ چاروں ورلڈ کپ کے فائنل کی میزبانی کا منفرد اعزاز حاصل ہے اور وہ اس عالمی کپ کے فائنل کی بھی میزبانی کرے گا۔

پاکستان نے سنہ 1982 میں لارڈز پر یادگار کامیابی حاصل کی تھی جس میں محسن خان کی ڈبل سنچری اور مدثر نذر کی چھ وکٹوں کی چونکا دینے والی بولنگ قابل ذکر تھی۔

پاکستانی ٹیم اس کے بعد لارڈز پر مزید چار ٹیسٹ میچز جیت چکی ہے تاہم ون ڈے انٹرنیشنل میں یہاں پاکستانی ٹیم 11 میں سے صرف 4 بار کامیاب ہوسکی ہے اور بقیہ سات میچوں میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستانی ٹیم اس ورلڈ کپ میں لارڈز کے میدان میں دو میچ جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گی۔

عبدالرشید شکور

بشکریہ بی بی سی

(Visited 2 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں