عوامی نمائندوں کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل

اسمبلی

سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 1174 ارکان میں سے 483 نے اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے جبکہ 645 ارکان اسمبلی اور 43 سینیٹرز کو اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر نوٹس جاری کر دیا گیاہے ۔ قومی اسمبلی کے 187، پنجاب اسمبلی کے 258، سندھ اسمبلی کے 86، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 80 اور بلوچستان اسمبلی کے 34 ارکان نے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔

منتخب اراکین کی جانب سے اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروانے میں تاخیر معمول بنتا جا رہا ہے۔ نصف سے زیادہ ارکانِ پارلیمنٹ نے آخری تاریخ کو آخری تاریخ نہیں سمجھا۔ اس سے عوام میں کیا تاثر پیدا ہوتا ہے شاید اس کی انہیں پروا نہیں۔ کیا یہ ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ ہے؟ اس طرزِ عمل کی وجہ سے عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر ان کے منتخب کردہ نمائندوں کا ایک آئینی تقاضا پورا کرنے کے معاملے میں رویہ یہ ہے تو وہ عام آدمی کے مسائل کے حل کے سلسلے میں ضروری اور ناگزیر قانون سازی میں کتنی دلچسپی دکھاتے ہوں گے۔ سیاسی جماعتیں بھی اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہیں۔

گوشوارے جمع نہ کرانے والے خواتین و حضرات کا جس سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق ہے اس کے احساسِ ذمہ داری کے بارے کیا تاثر بنتا ہے؟ یہی کہ سیاسی جماعتوں کو بھی ایک آئینی ضرورت کے پورا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اپنے معاملات میں مست ہیں۔ یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 137 کے مطابق ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹر اپنے، شریکِ حیات، زیرِ کفالت بچوں کے اثاثے اور اخراجات کی تفصیلات 31 دسمبر سے پہلے الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کی فہرست جاری کر دیتا ہے۔

مزید پڈھیں: گیس،بجلی چوری: ملک گیر آپریشن کی ضرورت

علاوہ ازیں اگر کسی رکن کی جانب سے جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات میں جھوٹ پایا جائے تو 120 دن کے اندر اس کے خلاف بد عنوانی کی کارروائی کی جاتی ہے۔ 15 جنوری تک تفصیل جمع نہ کرانے والے ارکان کی رکنیت 16 جنوری کو معطل کر دی جاتی ہے۔ اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے ہر سال ایسی ہی صورتحال سامنے آتی ہے۔ اراکین کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں تو وہ گوشوارے جمع کرا دیتے ہیں، حالانکہ یہی کام وقت رہتے بھی کیا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس بارے میں انہیں از خود احساسِ ذمہ داری کیوں نہیں؟ کیا عوام کے منتخب نمائندوں کا یہ طرزِ عمل ان کے جمہوری ہونے کی غمازی کرتا ہے؟ تحریکِ انصاف حکومت میں ہے اور وہ یقیناً ذمہ داری اور قانون کی پاسداری کے دعوے بھی رکھتی ہے۔ تحریکِ انصاف کو سوچنا چاہیے کہ اس نے کیسے یقینی یہ بنایا تھا کہ اس کے سب اراکین مقررہ مہلت کے دوران گوشوارے جمع کروا دیں؟ جنہوں نے تاخیر کی ہے ان کے بارے جماعت کی حکمتِ عملی کیا ہو گی؟ کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ عوامی نمائندے نہ صرف بروقت گوشوارے جمع کرا دیں بلکہ ایوان میں اپنی حاضری بھی یقینی بنائیں، کیونکہ مشاہدے میں آتا ہے کہ کچھ نمائندے منتخب ہونے کے بعد ایوان کا کم کم ہی رخ کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سال بھر میں متعدد بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا پڑتا ہے، جس سے ان اجلاسوں کا اہتمام کرنے پر خرچ ہونے والا سرمایہ تو ضائع جاتا ہی ہے، اہم امور پر بات چیت اور بحث مباحثے کا عمل بھی آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، یوں قانون سازی متاثر ہوتی ہے۔ گوشوارے بروقت جمع نہ کرانے کا عمل بھی قانون سازی کے عمل میں تعطل کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے اراکین کو اثاثوں کے گوشوارے بروقت جمع کرانے کا پابند بنائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں