ہے کوئی جو اس طرف توجہ دے؟

شیخ رشید احمد

قومی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے حال ہی میں ملک میں ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دی۔ اس پر عوامی حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔یہ ردعمل فطری تھا کیونکہ ادویات کی گرانی کے حوالے سے عوام پہلے ہی پریشان تھے اور مارکیٹ میں بہت سی دواوں کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں اضافے کی شکایت کر رہے تھے۔

دوا ساز کمپنیوں کو 100 ادویات کی قیمت میں 30فیصد تک کمی کا حکم بھی دیا گیا تھا۔یہ ادویات کئی سنگین بیماریوں کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں جن میں شوگر، بلڈ پریشر، دمہ ، انفیکشن، الرجی اور معدے کی بیماریاں شامل ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے منظوری کے بعد دوا ساز اداروں نے قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر تو فوری طور پر عمل کر لیا لیکن جہاں قیمتیں کم کرنے کا کہا گیا تھا اسے نظر انداز کردیا۔

کئی دہائیوں سے اس مد میں قوم کو ایک بنیادی فیصلے کا انتظار ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں مزید انتظار نہیں کروانا چاہیے۔ ادویات کی قیمتیں ہمارے ملک میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نے بڑی بڑی دواساز کمپنیوں کو اپنے برانڈ کی ادویہ بنانے، درآمد کرنے اور بیچنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ادویات بنانا اور بیچنا ان کے لیے صرف ایک منافع بخش کاروبار ہے باقی دیگر کاروباروں کی طرح جن میں مقصد صرف اور صرف منافع کمانا ہوتا ہے۔

یہ کمپنیاں اپنے نام کی قیمت وصول کرتی ہیں۔ ادویات کی لاگو قیمت میں اصل دوا کی لاگت کم اور اس کی پیکنگ اور فروخت کے عمل میں دی جانے والی مراعات کے اخراجات کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ معالج دوا ساز کمپنی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دوا تجویز کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کمپنی کے نام کے ساتھ ایک اعتماد جڑا ہوتا ہے لیکن ایک بڑی وجہ معالجین اور دواساز کمپنیوں کے مابین ایک گٹھ جوڑبھی ہے۔ ڈاکٹر اور دواساز کا رشتہ کچھ ظاہر ہوتا ہے کچھ پسِ پردہ۔ اس پر بہت سے اخلاقی سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔

یہ سوالات صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک، جن میں بعض ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں، میں شدید عوامی بحث کا موضوع رہتے ہیں۔ ہمارے جیسے ممالک میں اخلاقی اقدار کا سختی سے نفاذ تاحال ایک خواب ہے۔ اس لیے ہمارے ہاں یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ حکومت ادویات کی برانڈنگ پر نظر ثانی کرے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان میں پہلی اور آخری مرتبہ اس نظام کی نظر ثانی پر کام ہوا تھا۔

ان کے وزیر صحت شیخ محمد رشید نے پالیسی تیار کی کہ آئندہ ادویات برانڈ نام سے یعنی کمپنیوں کے دیئے ناموں سے نہیں بنیں اور بکیں گی بلکہ ادویات کے نام وہی ہوں گے جن نمکیات اور کیمیائی اجزا کو ملاکریہ بنائی گئی ہوں۔ جن جن ممالک میں یہ نظام نافذ ہے وہاں قیمتوں میں حیرت انگیز کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تقریبانصف صدی پرانی بات ہے لیکن تفصیل میں جائے بغیر اتنا یاد دلا دیں کہ ان کمپنیوں، جن میں سے اکثر بین الاقوامی تھیں، کے ہاتھ بہت لمبے اور مضبوط تھے۔ ان کی جیبیں، جیسے انگریزی میں کہاجاتا ہے، بہت گہری تھیں۔ یہ اس وقت کی حکومت کے ارادے پر غالب آگئیں۔

70 کی دہائی کے بعد اِن کمپنیوں نے دوبارہ کسی حکومت کو پاکستان میں ایسا سوچنے کی اجازت نہیں دی۔ اب پھر تاریخ دہرانے کا وقت آگیا ہے ۔ اب پھر ایک ایسی حکومت قائم ہے جو عام آدمی کے مفاد کا امین ہونے کی دعویدار ہے۔کیا غریب کیا امیر، ادویات سب کی ضرورت ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں غریب یا محدود وسائل والے لوگ بہت زیادہ ہیں مگر ادویات کی قیمتوں اور مارکیٹنگ کے موجودہ نظام کی وجہ سے اکثر ادویات درمیانی اور محدود آمدنی والے شہریوں کی پہنچ سے باہرہو چکی ہیں۔ ہے کوئی جو اس طرف توجہ دے؟

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں