نا بول کہ لب غلام ہیں تیرے!

نوازشریف

نوید نسیم

سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبعی بنیادوں پر چھ ہفتوں کیلئے ضمانت بھی مل گئی اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل سے خارج کر دیا گیا۔

بلاول بھٹو کا کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ بھی ختم ہوا اور سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے جعلی اکاؤنٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت بھی حاصل کرلی۔

یہ عمران خان کے نئے پاکستان میں سیاسی حالات ہیں یا برساتی بادل۔ جو نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ دھوپ چھاؤں کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔

نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں میں ایسی کونسی پیشرفت ہوئی ہے کہ شریف برادران کو ایک ہی دن میں عدالتوں سے ریلیف مل گیا۔ جبکہ سابق صدر آصف زرداری کو گرفتاری کے لالے پڑیں ہیں۔

بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ ؟

سابق سربراہ نواز لیگ کی طبعی بنیادوں پر ضمانت اتنی ہی عجیب ہے۔ جتنی اپنے بیٹے کی کمپنی سے نا حاصل کردہ تنخواہ کو ظاہر نا کرنے پر نااہلی۔۔۔ جبکہ سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی آج تک آزادی اتنی ہی حیران کن ہے۔ جتنی موجودہ حکومت کی اٹھارہویں ترمیم پر تشویش۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جو شخص پاکستان کے کسی بھی ہسپتال یا ڈاکٹر سے علاج کروانے سے انکاری تھا۔ وہ چھ ہفتوں میں بیرون ملک جائے بغیر علاج کہاں سے کروائیگا؟۔

دوسری طرف سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے متعلق پچھلے سال کے آخر میں ہی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ وہ اگلے سال کا سورج جیل میں دیکھیں گے۔ لیکن “ایک زرداری، سب پر بھاری” بھی سیاسی داؤ پیچ استعمال کرنے کے گورو ہیں۔ جس کی وجہ سے آج تک وہ آزاد ہیں۔

نئے پاکستان میں رونما ہونے والےسیاسی تغیرات کو اگر بغور دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے جب سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا دفاع اور کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی مخالفت شروع کی ہے۔ سابق صدر آصٖف زرداری اور بلاول بھٹو کے ستارے گردش میں آگئے ہیں۔

loading...

اس کے برعکس تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور مریم نواز نے جب سے چُپ کے روزے رکھنا شروع کئے ہیں۔ ان کے ستارے سنبھلنے لگے ہیں۔ چاہے وقتی طور پر ہی سہی، لیکن موجودہ حالات میں تینوں شریفوں کا جیل میں ناہونا کسی موجزے سے کم نہیں۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے لیڈران کیوں سابق وزیراعظم نواز شریف جیسے بیانات دے رہے ہیں۔ جو آج تک کسی کو بھولے نہیں۔ انھیں نواز لیگ کی “ایک چُپ، سو سکھ” والی حکمت عملی کیوں سمجھ نہیں آرہی۔ جو نواز لیگ نے دیر سے ہی سہی، لیکن اپنا لی ہے۔

پیپلز پارٹی کو بس یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ وقت گیا۔ جب عوامی مہم اور غیر جمہوری طاقتوں کے آشیر باد سے حکومتوں کو گھر بھیج دیا جاتا تھا۔ اب پیپلز پارٹی کو چاہیئے کہ وہ اگلے انتخابات کا انتظار کرے۔ کیونکہ اکیسویں صدی میں جمہوری حکومتوں کی مدت مکمل ہونے کی جمہوری روائت پڑ چکی ہے۔ ایسے میں بہتری اسی میں ہے کہ سابق صدر اور بلاول بھٹو نیویں نیویں ہو کر سیاست کریں اور سندھ میں جب تک بھٹو زندہ ہے۔ اس کی قبر پر پھول چڑھاتے رہیں۔ کیونکہ آج کی سیاست میں بچاؤ قبروں پر پھول چڑھانے میں ہی ہے۔ جو کہ پیپلز پارٹی کے پاس دو ہیں اور نواز لیگ کے پاس ایک۔

نواز لیگ کو بھی چاہیئے کہ وہ پانچ سالہ دور حکومت پہلی بار مکمل کرنے کے بعد “ستّو” پی کر حوصلہ کریں اور اس وقت کا انتظار کریں کہ جب موجودہ حکمرانوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونا شروع ہو۔ جیسا تین بار برسر اقتدار رہنے والے شریف خاندان کے ساتھ گزشتہ چند ماہ سے ہورہا ہے۔ وہ تسلی رکھیں کہ ان کی باری پھر ضرور آئے گی کیونکہ سیاسی مارکیٹ میں انگلیوں پر ناچنے والوں کی شدید قلت ہے۔

نواز لیگ کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کا دارومدار ان چھ ہفتوں میں نواز شریف کی زباں بندی پر ہے۔ جو اس کا ثبوت ہوگا کہ نواز شریف کی ضمانت کی اصل وجہ ان کی صحت نہیں، بلکہ دوران قید زبان بندی ہے۔ جس پر مزید کنٹرول رکھ کر سابق وزیراعظم آزاد بھی رہ سکتے ہیں اور بیرون ملک علاج کے لئے بھی جاسکتے ہیں۔

ایسے میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کو فیض احمد فیض کی مشہور غزل “بول کے لب آزاد ہیں تیرے” کو ذرا سی غزلی ترمیم کے ساتھ پڑھنا چاہیئے۔

نا بول کہ لب غلام ہیں تیرے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں