ماہ رمضان اور ہماری ضروریات

رمضان

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے ہر طرف تیاری ہو رہی ہے ہر طرف افراتفری کا عالم ہے ہر ایک کی کوشش ہے کہ وہ ذیادہ سے ذیادہ جمع کرے ۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جلدی ہے ۔ مگر رکیئے جناب ! یہ تیاری کوشش یا جلدی ماہ رمضان میں عبادت کی نہیں ہے ۔ بلکہ اشیاء خودنوش کی ہے۔

ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو ہمیں لازمی یہ محسوس ہو گا کہ ہمارا آدھے سے زیادہ وقت کھانے میں ہی گزر جاتا ہے ۔ ہم سارا وقت شکم سیری میں لگے رہتے ہیں یا تو مادی ضروریات پوری کرنے میں ۔
مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے ضرویات کی تکمیل کو ہی اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھ لیا ہے ۔ حالانکہ اس کے الٹ چلنا چاہیئے تھا ۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا ایک دوسرے کے کام آنا یہ بس کتابی باتیں ہی رہ گئیں ہیں ۔ اچھا چلو یہ تو ہم سارا سال ہی کرتے رہتے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ماہ رمضان جیسے مقدس اور بابرکت مہینے میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ” میں اس کا اجر دوں گا ”

آقا دوجہاں حضورؐ نے ارشاد فرمایا :

” اگر میری امت کو معلوم ہو جاتا کہ رمضان کا کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ پورا سال ہی رمضان مانگتے “

اس کو جہاں ہم مادیت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں ہمارا مقصد مخلوق خدا کی مدد کے بجائے اپنے گھروں کی الماریاں بھرنا ہی رہ گیا ہے ۔ ہم اب اپنی ضروریات سے زیادہ خریداری کو اپنی سعادت سمجھنے لگ گئے ہیں ۔ ہمیں جہاں ایک یا دو کی ضرورت ہو گی وہاں ہم چار لے کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہوتے۔ کہ ہم نے کفایت شعاری کر لی ہے ۔

اسکی مثال میں یوں بیاں کروں گی کہ میری جاننے والی رشتے دار خواتین اتنا راشن لایا کرتی تھیں کہ میں حیران ہوتی تھی کہ دو خواتین ہیں کتنا استعمال کر لیں گی ۔ آخر دس پندرہ دنوں وہ راشن ان سے تو ختم نہ ہوتا تھا البتہ وہ ان کے گھر کے چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کی خوراک ضرور بنا کرتا تھا ۔ میرے پوچھنے پر انکا جواب ہوتا کہ کون روز روز جا کر راشن خرید کر لائے ۔ یہ تو حال ہے ۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی لوگوں نے مہنگائی مہگائی کرتے ہوئے سارا وقت خرید و فروخت میں گزار دینا ہے ۔
لوگ عبادت کو چھوڑ کر خریداری میں مصروف رہتے ہیں ۔اور رمضان کا اصل مقصد بھول جاتے ہیں ۔

آخر میں یہ کہ کر بات ختم کرتی ہوں کہ اگر ہم اس دنیا کے پیچھے ہی بھاگتے رہیں گے تو نا تو کبھی ضروریات پوری ہوں گی اور نا ہی کبھی ہمیں راحت ملے گی ۔ لیکن اگر ہم سب اللہ پر چھوڑ کر اس کے پیچھے بھاگیں گے تو وہ ہمیں دونوں جہاں کی راحتیں اور خوشیاں عطا کر دے گا. کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اپنے بندوں سے کے وہ انہیں کبھی بھوکا نہیں رکھے گا ۔ وہ تو پرندوں کو گھونسلوں میں خوراک مہیا کرتا ہے ہم تو پھر اشرف المخلوقات ہیں ہم کو وہ کہسے بھول سکتا ہے اس لیئے اس رمضان زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزاریں ۔ اور مخلوق خدا کی خدمت میں ۔ اسی میں خوشی ہے ہم مسلمانوں کے لیئے ۔ اور جہاں تک ہو سکے مسلمان بھایوں کو یاد رکھیں ۔ اور انکی مدد کریں جو کہ صحیح معنوں میں مدد کے حق دار ہیں ۔ جیسا کہ بوسینا عراق شام اور کشمیر کی عوام ہے ۔ آئیئے ان کے لیئے امداد جمع کرتے ہیں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیاں ہمارے ساتھ منا سکیں .

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں