پاکستان کی سلامتی پر کاری وار

پاکستان کی سلامتی

شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے فوجی جوانوں پر افغانستان سے دہشتگردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید اور 7 زخمی ہوگئے ، فوجی جوان شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے الواڑہ میں اہلکار باڑ لگانے میں مصروف تھے کہ 60 سے 70 دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے دھاوا بول دیا تاہم پاک فوج کے جوانوں نے حملہ پسپا کردیا اور جوابی کارروائی میں کئی دہشتگرد مارے گئے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام رکاوٹوں کے باوجود باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا، افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے، افغان سکیورٹی فورسز اور حکام کو سرحد پر کنٹرول موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

ادھر پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے حملے پر احتجاج کیا ۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع ژوب میں بھی افغانستان سے 5 راکٹ فائر کئے گئے جس سے 2 افراد زخمی ہوگئے ۔ پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس سے سرحد پار حملہ آور فرار ہوگئے ۔

امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے ابھی گزشتہ روز ہی اس امر کا اظہار کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے۔ انکے یہ الفاظ ابھی فضا میں تحلیل بھی نہیں ہوئے کہ دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے اندر سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملہ کر دیا گیا جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ کابل اور دہلی کی ملی بھگت سے پاکستان کی سلامتی کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے مگر امریکہ کو پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ایسے ٹھوس شواہد بھی نظر نہیں آتے اور واشنگٹن انتظامیہ کی تان اس پر ہی ٹوٹتی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمہ کیلئے مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

قومی ترقی اور ٹیکس اصلاحات

امریکی نائب وزیر خارجہ نے بھی اسی تناظر میں گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیرریاستی عناصر کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ انکے بقول امریکہ افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے جبکہ افغانستان کے امن سے پاکستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ افغانستان کے مسئلہ کے حل کیلئے پاکستان سے کیا توقع رکھتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس پر انہیں باور کرایا گیا کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردوں کے حملے ہو رہے ہیں جس پر انہوں نے روایتی ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جو عناصر پاکستان کے دشمن ہیں وہ امریکہ کے بھی دشمن ہیں۔ اس تناظر میں تو امریکہ کو بھارت اور افغانستان کے اندر سے پاکستان کے اندر کی جانیوالی دہشت گردی کی کارروائیوں کے ان ٹھوس ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر بھارت اور افغانستان کو شٹ اپ کال دینی چاہیے تھی جو پاکستان نے ایک ڈوزیئر کی شکل میں اقوام متحدہ ہی نہیں امریکی دفتر خارجہ کو بھی فراہم کئے تھے مگر واشنگٹن انتظامیہ نے اس ڈوزیئر پر کوئی کارروائی عمل میں لانا تو کجا اسکے مطالعہ کی زحمت بھی گوارا نہیں کی اور اسکی جانب سے بھارتی لب و لہجے میں ہی دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے اب تک تقاضے کئے جارہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے موثر کردار کی وجہ سے ہی امریکہ افغانستان اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی جبکہ افغان حکومت اور بھارت کو افغان امن عمل کیلئے پاکستان کا یہ مثبت کردار ایک آنکھ نہیں بھا رہا جنہوں نے اپنے ممالک میں ہونیوالی ہر دہشت گردی کا ملبہ بلاتحقیق پاکستان پر ڈالنا اپنی پالیسیوں کا حصہ بنا رکھا ہے اور پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کو اپنی ایجنسیوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے عملی جامہ بھی پہناتے رہتے ہیں۔

پاک افغان سرحد پر افغانستان کے اندر سے پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملے کی یہ پہلی کارروائی نہیں یہ سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے جبکہ دہشت گرد افغان سکیورٹی فورسز کی سرپرستی میں باقاعدہ جتھہ بند ہوکر پاکستان کے اندر گھس کر حملہ آور ہوتے رہے ہیں جس کے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

درحقیقت افغانستان کی سابقہ کٹھ پتلی کرزئی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کو افغان سرزمین پر اپنے دہشت گردوں کو تربیت دینے کی کھلی چھوٹ دی گئی جس کیلئے افغانستان کے غیرمعروف شہروں میں بھارت کے 14 قونصل خانے قائم کئے گئے اور انکی مدد سے دہشت گردوں کی تربیت اور فنڈنگ کرکے انہیں پاک افغان سرحد کے ذریعے غیرقانونی طور پر پاکستان بھجوایا جاتا رہا چنانچہ بالخصوص بلوچستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی 80 فیصد سے بھی زیادہ وارداتیں افغانستان اور بھارت کی سرپرستی میں انہی دہشت گردوں نے کیں۔

پاکستان نے اسی صورتحال میں پاک افغان سرحد پر باڑ اور انٹرنس گیٹ لگانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے آغاز میں ہی افغانستان کی جانب سے پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملے کرکے سخت سرحدی کشیدگی پیدا کر دی گئی۔ کابل انتظامیہ بھارتی ایما پر ہی پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی مخالفت کرتی رہی کیونکہ باڑ لگنے سے بھارت کیلئے پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے مواقع ختم ہو سکتے تھے جبکہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنا بھارت نے اپنی حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنا رکھا ہے ۔

یہ امر واقع ہے کہ دہشت گردوں کے تمام محفوظ ٹھکانے افغانستان کی سرزمین پر ہیں جو نہ صرف افغانستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں بلکہ یہی دہشت گرد پاکستان کے اندر بھی بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی وارداتوں اور خودکش حملوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ افغانستان کے اندر امریکی نیٹو فورسز کو انہی دہشت گردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ امریکہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی معاونت حاصل کرنے پر مجبور ہوا۔ آج اگر امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغان امن عمل کی کامیابی کے آثار نظر آرہے ہیں تو یہ پاکستان کی کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں