مسئلہ کشمیر اور مقامی سیاسی قیادت

مسئلہ کشمیر

کشمیر کا خطہ عرصہ دراز سے ایک متنازع علاقہ بنا ہوا ہے، جس کے تین بڑے فریق ہیں، پاکستان بھارت اور مقامی کشمیری اور ان کی سیاسی قیادت۔

1931 سے راجہ ہری سنگھ کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد شروع ہوتی ہے، پھر جموں میں مہاراجہ کی بدترین وحشیت، جس میں نئی ریاست پاکستان کی طرف ہجرت کےلیے گامزن دو سے تین لاکھ تک کشمیریوں کو بدترین نسل کشی کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس تاریخی واقعے کے ہوتے ہوئے بھی کوئی سبق ان صاحبان اختیار اور اونچے طبقے کے لوگوں نے نہیں سیکھا، جو معاشرے کے عام لوگوں کو کسی طرف ہانک کرلے جاتے ہیں۔ لمبی چوڑی تقریریں اور وعظ کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، لیکن ذاتی مفادپرستی، اناپرستی اور چند دن کے اقتدار کےلیے بڑی بڑی تاویلیں پیش کرنے والے لیڈر فرماتے تھے کہ ہم نے اسلامی ریاست پاکستان کے الحاق کا آپشن ہوتے ہوئے بھی انڈیا کے ساتھ الحاق کیا، جو نظریہ سیکولر، انسانیت دوستی، انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے۔

Photo: File

پھر اسی انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے نے کشمیری لوگوں پر پیلٹ گنز استعمال کیں، ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا، عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں، دو لاکھ کشمیری اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ نام نہاد، کٹھ پتلی مقامی کشمیری سیاسی قیادت اقتدار کےلیے اچھل کود کرتی تھی۔ یہ لوگ خود کو وزیراعلیٰ بننے پر بڑا تیس مارخان سمجھ بیٹھے تھے، کہنے لگے دو قومی نظریہ نہ ماننے کا اثر آج الٹا پڑ گیا ہے۔ فاروق عبداللہ کہتے ہیں کہ میری پیٹھ پر گولی نہ مارو، میرا سینہ حاظر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے آباؤاجداد نے کشمیرفروشی کی اور اقتدار کے مزے لوٹے۔

وہ لوگ جو انڈیا کے سیکولرازم کے گیت سن کر دیوانے ہوگئے تھے، آج روتے پھرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑے اور صاحب اقتدار لوگوں کے غلط فیصلوں کی قیمت معاشرے کے عام لوگوں کو چکانا پڑتی ہے۔ قائد اعظمؒ نے مولانا عبدالکلام آزاد کو کانگریس کا شو بوائے کہا تھا کہ تم لوگوں کے غلط فیصلے کی قیمت بعد میں مسلمانوں کو چکانا پڑے گی۔ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ متعصب ہندوؤں کا رویہ بہت بدل چکا ہے۔ کہتے ہیں کہ رہنا ہے تو ہماری شرائط پر رہو، نہیں تو پچاس سے زیادہ اسلامی ممالک ہیں وہاں چلے جاؤ۔

پاکستان کے قیام سے ہی اسلام کے نام پر بنے ملک کی مخالفت انتہاپسند بھارتی ہندوؤں کا وتیرہ رہا ہے۔ بھارت ہر وہ حرکت کرتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے۔ لیکن ایمان رکھیے قدرت نے اس ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا انجام اچھا نہیں کیا۔

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر بلاشبہ کسی بھی پاکستانی لیڈر کی بین الاقوامی فورم پر بہترین تقریر قرار دی جاسکتی ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا، کشمیر پر بھارت کے ظلم وستم، مودی کیے آر ایس ایس نظریہ کا پرچارک اور ایڈولف ہٹلر سے تشبیہ کو انتہائی تفصیل، مفصل انداز میں اور جرأت کے ساتھ پیش کیا۔ اور کشمیر میں جاری بھارت کی پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

لیکن ایک اور نکتہ ہے جس کی طرف خال ہی کوئی پاکستانی لکھاری توجہ دیتا ہے۔ بھارت کی سوچ تو پاکستان مخالف ہی رہنی ہے، ہندوؤں نے بھی اسلام کے بارے میں کلمہ خیر کم ہی رکھنا ہے، اور سیاست دان چاہے افریقہ کے ہوں یا کشمیر کے، وہی اقتدارپرستی اور غلبے کی ہوس۔ اور زندگی کسی سے نباہ نہیں کرتی بلکہ زندگی سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔ 72 سال سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ
Photo: File

امریکا، برطانیہ اور عالمی برادری پر زور دیا جاتا رہا ہے، لیکن نتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پاکستانی حکومت، اہل دانش اور تجزیہ نگاروں کا موقف ایک ہی ہے کہ دنیا بھر میں سفارتی وفود بھیجے جائیں، وہ دوسروں ملکوں کی حکومتوں، میڈیا کو اس بارے میں آگاہ کریں۔ کشمیری اب بھی شہید ہورہے ہیں، لیکن ان کے نام پر بیرونی دورے جس میں پارلیمانی وفود شامل ہوں، فقط سیرسپاٹا اور موج مستی ہی کہا جاسکتا ہے۔ اور پھر ہم یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ہم یونہی یورپی، وسطی ایشیائی، آسیان اور جنوبی امریکا سمیت دنیا کے بااثر ممالک کو آگاہ کریں گے۔ جھٹ پٹ مسئلہ کشمیر دنیا کا نمبر ایک ایشو بن جائے گا۔ تمام ممالک اور اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، آسیان تنظیم، سارک، اقتصادی تعاون تنظیم، شنگھائی تعاون تنظیم سب کے سب بھارت پر زور دیں گے کہ کشمیر آزاد کردو۔ لیکن ایسا ہونے والا نہیں۔

وہ جو عمران خان تقریر میں نہ کہہ سکے !

72 سال سے ہم یہی راگ الاپ رہے ہیں، لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ الٹا آج کشمیری حریت قیادت کہہ رہی ہے کہ ہماری خودمختاری کیوں سلب کی؟ پاکستان کا بھی یہی موقف ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35A ختم کرکے کشمیریوں کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ کشمیر بھارت کا جائز حصہ ہے، اور کشمیریوں کو بھارتی آئین کے مطابق حقوق ملنے چاہئیں۔ اور ہم اس پر دنیا کی توجہ مبذول کرانے میں مصروف ہیں کہ بھارت نے کشمیر کی خودمختاری پر حملہ کردیا ہے۔ لیکن ٹھہریے کشمیری حریت قیادت بھی یہی کہہ رہی ہے کہ ہماری خودمختاری پر حملہ کیا گیا ہے، ہمیں ہمارے حقوق دو۔

یہ کس سے حق مانگا جارہا ہے؟ ظاہر ہے انڈیا سے۔ لیکن یہی حریت قیادت کشمیر کے ریاستی انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیتی ہے۔ کہتے ہیں یہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ ماننے کے مترادف ہوگا۔ بھائی آپ کے نام نہاد کشمیری رہنما نے کشمیر کا الحاق کروا دیا تھا۔ اب دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو جنگ شروع کردی جائے۔ کشمیر میں کراچی سے لے کر خیبر تک اور افغانستان سے لے کر ازبکستان تک کے سارے جہادی اور مجاہدین اکھٹے کیے جائیں، اور یکبارگی حملہ کردیا جائے، کشمیر میں بغاوت کروا دی جائے، آن بان میں بھارتی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا جائے۔ یا پھر دوسرا جمہوری طریقہ اپنایا جائے کہ تمام کشمیری یک جان ہوکر کشمیر کے ریاستی انتخابات میں حصہ لیں اور ایک اکثریتی پارٹی ابھرے۔ ریاست کشمیر کی تمام اکائیاں جموں، لداخ اور وادی کے کشمیری ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیں۔ کشمیر اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلی جائے۔ اور پھر اس کا فیصلہ خود کشمیری قیادت کرے کہ ہم نے 1947 سے اب تک کیا حاصل کیا ہے؟ اور اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ کیا بھارت سے الگ ہونا چاہیے یا اس کا حصہ رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے چاہئیں یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔

کشمیر کے لوگوں نے جبر بھی دیکھ اور سہہ لیا، آزادی مارچ بھی کرلیے، اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی پاس کرلیں۔ اب یہ بھی کرلیں۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ کشمیری اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار خود حاصل کریں اور خود ہی اس راہ پر چلیں۔ پہلا راستہ کٹھن ہے، جس میں بہت بڑے فساد کا خطرہ ہے، دوسرا راستہ جمہوری ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کا ریفرنڈم اور بریگزٹ اس کی مثالیں قرار دی جاسکتی ہیں۔ کم سے کم اس سے فساد کا خطرہ کم ہوگا۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں