کیا وزیراعظم مستعفی ہوجائیں گے؟

ڈرون حملے

جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو پھر ان کے سامنے کوئی ڈھال پائیدار نہیں رہتی۔ رکاوٹیں ریت کی دیواریں بن جاتی ہیں، تماشا دیکھنے والے بھی ان کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ ہوا کا رخ بدلنے پر کشتیوں کے رخ موڑ دیئے جاتے ہیں، صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی، چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔

برطانیہ میں عوام کے موڈ کے خلاف فیصلے کرنے کی کوشش میں دو وزرائے اعظم کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا، تیسرا لائن میں لگا ہوا۔ برطانوی پالیمان نے 12 دسمبر کو قبل از وقت انتخابات کا بل پاس کرلیا ہے۔ لبنان میں حکومت مخالف ہوا چلی تو طوفان بن کر سعد حریری کو لے اڑی۔ عراق میں بے روزگاری اور مہنگائی سے تنگ لوگ سڑکوں پر آئے تو عراقی وزیر اعظم اپنے عوام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے۔ ہانگ کانگ میں عوامی اشتعال چین کےلیے درد سر بنا ہے جسے لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں دبا پارہا۔ وینزویلا میں عوامی تحریک حکمرانوں کو کھا گئی۔ شام میں لوگ نکلے تو ملک خانہ جنگی کا ایسا شکار ہوا کہ پتا نہیں چلتا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ہے بھی یا نہیں۔ اسپین، چلی میں ایسی صورتحال ہے، مطلب کہ آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔

پاکستان میں موسم سرد ہوتے ہی سیاست کا میدان گرم ہوگیا، اس کی حدت سے کوئٹہ سے پنڈی تک لوگوں کے پسینے چھوٹ چکے ہیں۔ کراچی سے خیبر تک سرد ہوا بھی گرم لُو کی طرح تھپیڑے مار رہی ہے۔ قصہ مختصر جس کھیل کےلیے مولانا فضل الرحمان ایک عرصے سے تیاری کررہے تھے، وہ انہوں 27 اکتوبر سے شروع کردیا۔ کراچی اور کوئٹہ سے شروع ہونے والا میچ اب اسلام آباد کے گراؤنڈ میں کھیلا جارہا ہے۔ مولانا اسے ٹیسٹ نہیں ٹی ٹوئنٹی کی طرح کھیلنا چاہتے ہیں۔ وہ انتہائی جارحانہ موڈ میں ہیں، جارحانہ کھیل کھیلنے کے بعد مولانا فارم میں آگئے ہیں۔ اب وہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مارچ آگے بڑھے گا، یہ نہیں پتا کہ کتنا بڑھے گا؟ مولانا اب ایک استعفے پر راضی نہیں ہوں گے، ان کے دل میں دو اور استعفوں کی بھی خواہش جنم لے رہی ہے۔ دو دن کے اندر ایک استعفیٰ نہ ملا تو بات تین استعفوں کی طرف بھی جاسکتی ہے۔ مارچ کا رخ موڑا بھی جاسکتا ہے۔ فی الحال ان کو اتحادیوں نے روکا ہوا ہے۔ گلگت میں ہونے والی تقریر نے جلتی پر تیل ڈالا ہے، شاید وہ بھانپ گئے ہیں کہ ’’ایمپائرز‘‘ایک ہی سال میں بیزار ہوگئے ہیں۔

صرف وہی نہیں، عوام بھی ان کے بیانیے سے بیزار نظر آتے ہیں۔ ان کی حمایت کرنے والے کارکن اب صرف ضد پر قائم ہیں۔ دفاع کےلیے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ سابقہ حکومتوں پر الزام دینے اور خود کچھ نہ کرنے کا چورن اب مارکیٹ کی ڈسٹ بن کا حصہ بن چکا ہے۔

گیلپ نے حال ہی میں ایک سروے کیا جس کے مطابق 53 فیصد پاکستانی مہنگائی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں جب کہ صرف 4 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ 23 فیصد افراد نے بے روزگاری، 8 فیصد نے کشمیر اور 2 فیصد نے سیاسی عدم استحکام کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ سروے میں 4 فیصد نے پانی کے بحران، ایک فیصد نے لوڈ شیڈنگ اور ایک فیصد نے ڈینگی وائرس کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ جی ہاں! مہنگائی ہی وہ چیز ہے جو کسان، مزدور، طالب علم، مرد و خواتین، سبھی کی چیخیں نکال رہی ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں کے بدلے لاکھوں افراد کو بے روزگار ہونا پڑا۔ 50 لاکھ گھروں کا پتا نہیں، لیکن تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تجاوزات کے نام پر لوگ بے گھر ضرور ہوئے ہیں۔

میرا بھی خیال تھا کہ اپوزیشن جھوٹ بولتی ہے، یہ نعرے لگاتی ہے، یہ صرف عوام کو دھوکا دے رہی، میری آنکھیں اس وقت کھلیں جب میں نے عام پبلک سے سوال کیا کہ آپ ’’عمران خان کی حکومت سے کتنے خوش اور مطمئن ہیں؟‘‘ کسی نے مجھے برا بھلا کہا تو کسی نے ووٹ لینے والوں کو۔ ستر فیصد افراد نے مہنگائی کا رونا رویا، سب نے یہی کہا کہ عمران خان ہماری امید تھے، ہماری جینے کی وجہ تھے، ہم نے اسے دوسروں سے بہتر سمجھا، ان کے وعدوں پر ایمان کا حصہ سمجھ کر یقین کیا۔

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعصابی جنگ !

جس حکومت کے قائم ہونے کے صرف ایک سال بعد ہی استعفیٰ مانگ لیا جائے، اسے ہم آئیڈیل تو نہیں کہہ سکتے۔ لیکن پانچ سال کےلیے منتخب کردہ حکومت بزور طاقت ختم کرنے کا رواج غلط ہے۔ یہ اپوزیشن سے پی ٹی آئی کے کیے کی سزا ہے۔ جو روایت انہوں نے شروع کی، آج انہیں اس کا سامنا ہے۔ کہتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ اس وقت اپوزیشن اسی اسکرپٹ پر کام کر رہی ہے جس کے تحت کپتان نے کیا تھا، لیکن اس بار رائٹر کوئی اور ہے۔

اب کیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟ گراؤنڈ کیا بن رہی ہے؟ جولائی 2018 میں جو جوا کھیلا گیا، کھلاڑیوں نے جس گھوڑے کو پھرتیلا سمجھ کر ڈربی ریس میں اتارا تھا، وہ نکما نکلا۔ ان کو یقین ہوگیا ہے کہ لنگڑے گھوڑے سے ریس نہیں جیتی جاسکتی۔ ’’وہ‘‘ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ سردست پرانے گھوڑے کو آؤٹ کیا جائے اور فی الوقت ’’نیا گھوڑا‘‘ میدان میں لایا جائے، جبکہ یہ معاملہ بھی ادھر ہی طے ہوا ہے جہاں پہلے ہوتا آیا ہے۔ اسی لیے دھرنا قیادت نے اپنا زور صرف ’’گو نیازی گو‘‘ تک محدود رکھا ہے اور شہبازشریف نے ’’اسٹیج‘‘ سے خود کو موقع دیئے جانے کےلیے ’’آفر‘‘ کردیا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ ’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلی کے ذریعے قائدِ حزبِ اختلاف کو نیا قائد ایوان منتخب کروایا جائے۔

جس اسٹیج پر مریم نواز کو ہونا چاہیے تھا، اس پر شہباز شریف کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نوازشریف کو ’’اماں‘‘ کے ذریعے فی الحال اپنی صحت پر توجہ دینے کےلیے منا لیا گیا ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ممکن کیسے ہوگا؟ وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہیں قومی اسمبلی کے ذریعے فارغ کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت میں اس وقت نمبر گیم میں تھوڑا بہت فرق ہے۔ بی این پی مینگل، ایم کیو ایم اور باپ کے لوگ کسی بھی وقت ادھر ادھر ہوسکتے ہیں۔ بی این پی مینگل اور ایم کیو ایم کے ساتھ کیے گئے وعدے حکومت نے پورے نہیں کیے۔ جنہوں نے یہ وعدے کروائے، وہ کچھ بھی کروا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نئے سیٹ اپ کے آتے ہی کیا ہوگا؟

نئے وزیراعظم کے آتے ہی پہلا کام نیب قوانین میں تبدیلی ہوگا، تمام اسیروں کو باہر لایا جائے گا۔ دوسری قانون سازی نواز شریف کی ایوان میں واپسی کےلیے ہوگی۔ تیسرا قانون ایکس ٹینشن کا راستہ روکنے کےلیے ہوگا۔ سیاستدانوں کے مائنس 3 کا جو فارمولا اپنایا گیا تھا، وہ اب کسی اور کےلیے استعمال ہوگا۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے یہ کیا بے پر کی چھوڑ رہا ہے۔ ہم نے پاکستان کی 72 سالہ کی تاریخ میں یہی دیکھا ہے کہ پہلے ہم ہیرو بناتے ہیں، پھر اسی ہیرو کو زیرو بھی بناتے ہیں۔ جو کندھے پر اٹھاتا ہے، وہ نیچے اتار کر تھپڑ بھی مارتا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

(Visited 79 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں