سرفروشی کی تمنا اور میرا دکھ…!

تو یہ طے ہوا کہ ٹین ایج میں جو انقلابی نہیں اس کی جوانی پہ تف ہے۔ ہم سرخ سویرے کا خواب لے کر باہر نکلے ہیں، بھوک اور ننگ جب تک رہے گی ہماری یہ جنگ جاری رہے گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سگریٹ منہ سے لگایا اور لمبا کش بھر کر دھوئیں کے مرغولے اڑانے لگا۔ ہم دونوں اس دوپہر لاہور میں منعقد فیض امن میلے میں موجود تھے اور میں اپنی نظروں کے سامنے نوجوانوں کو گول دائرے میں کھڑے ہوکر ڈھول کی تھاپ پر انقلابی نعرے لگاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور ان کے مخصوص انداز سے محظوظ ہورہا تھا۔

کہانی شروع یہیں سے ہوئی۔ یہ وہ کہانی ہے جس کا ذکر ہم گزشتہ ہفتے سے سن رہے ہیں، مگر اس کہانی کے سبھی کردار ابھی کھل کر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی اس کہانی کا قلم کار جلوہ نما ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر اِس امن میلے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں اور لوگ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس پر تبصرے کرنے لگے۔ کوئی کہتا رہا کہ یہ سب ایلیٹسٹ یعنی امیر کبیر بچوں کے ذہنوں کا فتور ہے، تو کوئی اسے ملک کے روشن مستقبل کا ضامن قرار دینے لگا۔ کوئی اس کے حق میں بولنے والے لبرلز کے تانے بانے بیرونی سازش سے جوڑتا رہا، تو کسی کو اس میں اپنے دین ایمان کی کشتی ڈولتی دکھائی دی۔ میں سب کچھ دیکھتا اور سنتا رہا۔

ہم ایک ہنستی مسکراتی قوم نہیں رہے یا شاید بہتر سالہ حبس زدہ موسم ہمیں اپنا عادی بنا چکا ہے۔ کوئی نیا نعرہ، کوئی نئی ایکٹیوٹی ہمیں فوراً سے بیرونی ایجنڈا محسوس ہوتا ہے اور ہم اس کی آڑ میں چھپی سازش ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھنا تو شاید غلط نہ ہو، مگر اتنا شکی مزاج ہونا کہ کسی نئے آئیڈیا پر سوچا بھی نہ جاسکے، انتہائی الارمنگ ہے۔

فیض امن میلے میں ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں نے سرخ انقلاب، لال پرچم، جنگ رہے گی، جیسے کئی توجہ طلب نعرے لگائے۔ جو سب سے زیادہ وائرل ہوئے وہ بسمل عظیم آبادی کے اشعار تھے۔ گو کہ یہ بسمل عظیم آبادی کی نظم خالص عشقیہ ٹائپ ہے، مگر یہ کمبخت انقلابی بھلا کب کسی کی سنتے ہیں۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئے وہ، شوقِ شہادت جن کے دل میں ہے

ان نوجوانوں کو لیڈ عروج اورنگزیب نے کیا۔ سوشل میڈیا پر ضیائی باقیات نے اس لڑکی کی ہر انداز سے کردارکشی کی۔ کوئی اسے ناچ گانے کی ترغیب دیتا رہا تو کوئی اسے امیر گھرانے سے تعلق رکھنے کا طعنہ دیتا رہا۔ کسی کو اس کی لیدر جیکٹ کا غم ستانے لگا کہ دس ہزار کی جیکٹ پہننے والے بھلا کیسے انقلابی ہوسکتے ہیں۔ کوئی اس کے کھلے بالوں پر تنقیدی نشتر آزماتا رہا۔ کسی کو اس کے دل میں سرفروشی کی تمنا سے بیر تھا، تو کوئی اس کے سینے میں چھپی آگ میں اپنا وقت سلگاتا رہا۔ وہ تو بھلا ہو کچھ میڈیا فرمز کا، جو بعد میں اس کے کچھ انٹرویوز سامنے لے آئے، جس میں اس نے بتایا کہ وہ ایلیٹسٹ نہیں ہے۔

اس کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ پارٹ ٹائم نوکری کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہے۔ وہ آرٹس سے دلچپسی رکھتی ہے اور سیاست کو اس کے حقیقی معنوں میں بحال کرنا چاہتی ہے۔ اسٹوڈنٹس کو درپیش مسائل پر اس کا دل کڑھتا ہے تو وہ اور اس کے چند دوست طلباء کے مسائل حل کرنے کےلیے اسٹوڈنٹس یونینز کی بحالی چاہتے ہیں۔ امن میلے کے اختتام پر یہ اعلان کیا گیا کہ انتیس نومبر کو پاکستان کے پچاس شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی اور وہاں پر طلباء اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔

loading...

احتجاج میں ان کی جو اولین ڈیمانڈز سامنے آئیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جامعات میں اسٹوڈنٹ یونینز کی بحالی چاہتے ہیں۔ جِس میں طلباء کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے اور ان کا استحصال روکا جاسکے۔ یہ ایچ ای سی کے بجٹ میں کٹوتیوں کی بھی واپسی چاہتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی بھی ان کی ڈیمانڈ ہے اور ساتھ ہی فیسوں میں کمی، ملک بھر میں طلباء تنظیموں کے الیکشنز کے بھی یہ حامی ہیں۔ یہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمے کےلیے بھی نکلے ہیں۔ جنسی ہراسانی کے قانون کے تحت کمیٹیوں کی تشکیل اور اس میں طلباء کی نمائندگی کے بھی خواہاں ہیں۔ تعلیم کی جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگی بھی ان کی لسٹ میں ہے۔ یہ حکومت سے نوجوانوں کےلیے روزگار کے مواقع بھی مانگ رہے ہیں اور دور دراز سے آنے والے طلباء کےلیے ہاسٹلز کا قیام بھی چاہتے ہیں۔ یہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کے حق میں نہیں اور زبان، صنف یا مذہب کی بنیاد پر تفریق کے بھی خلاف ہیں۔

پچاس سے زائد شہروں میں طلباء کا اکٹھا ہونا ایک ایسا معاملہ ہے جسے کسی صورت ہلکا نہیں لیا جاسکتا۔ وزیرِاعظم کا اس پر ٹوئٹ، جس میں اشارتاً انہوں نے ان تنظیموں کی شرطیہ بحالی کا ذکر کیا، اس احتجاج کی کامیابی کا اعلان ہے۔ اسٹوڈنٹ یونینز سے پابندی اٹھنی چاہیے اور انہیں مکمل طور پر فعال ہونا چاہیے یا نہیں، یہ بات اتنی آسان نہیں ہے۔ اس پر بحث و مباحثہ درکار ہے، جس میں ہر پہلو اور زاویے کا جائزہ لیا جائے۔ اسٹوڈنٹ یونینز کی ریگولیشن کے سخت قوانین بننے چاہئیں اور ماضی کے واقعات کو کیس اسٹڈی بناکر مستقبل کی راہ متعین کرنے کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر غنڈہ گردی کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔

ہمارا نوجوان عدم برداشت کا شکار ہے۔ وہ کنفیوز ہے اور مایوس بھی۔ وہ کنزرویٹو بھی ہے اور لبرل بھی۔ وہ لادین بھی ہے اور مذہبی بھی۔ وہ حاصل کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے اور حصول کی راہ نہ ہونے پر پریشان بھی ہے۔ وہ لڑنا بھی چاہتا ہے، بھڑنا بھی چاہتا ہے، سوال بھی کرنا چاہتا ہے، مگر سماج اور رواج اسے چپ سادھنے کا اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی سماج مذہب میں گندھا ہوا ہے۔ معاشرے تباہ تب ہی ہوتے ہیں جب اس کی روایات کو دقیانوس سمجھ کر کچل دیا جائے اور اس پر ایک ہائبرڈ کلچر کا بلڈوزر چڑھا دیا جائے۔ نئی نسل دشمن کا آسان ترین ٹارگٹ ہوسکتی ہے اور ایک ایسے وقت میں کہ ہم ڈیجیٹل ایج میں داخل ہوچکے ہیں، وہاں کچے اور پریشان ذہنوں میں ریاست مخالف مواد ڈالنا، انہیں معاشرے کی دیرینہ روایات سے متنفر کرنا، پروگریسیونیس اور لبرل ازم کے نام پر ایک ایسی سوچ کا پروان چڑھانا جس میں مادر پدر آزادی کو طریق زندگی گردانا جائے، مذہب پر لادینیت کو فروغ دیا جائے، اپنے اداروں پر کیچڑ اچھالا جائے، مشکل نہیں ہے۔ لہٰذا مسائل غور طلب بھی ہیں اور حل طلب بھی۔ خان صاحب آپ کو ایک نئی مشکل مبارک ہو۔

(Visited 70 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں