بغیر اجازت

مائی نانکی

نعیم ٹہلتا ٹہلتا ایک باغ کے اندر چلا گیا۔ اس کو وہاں کی فضا بہت پسند آئی۔

گھاس کے ایک تختے پر لیٹ کر اس نے خود کلامی شروع کر دی۔ کیسی پُر فضا جگہ ہے۔ حیرت ہے کہ آج تک میری نظروں سے اوجھل رہی۔ نظریں۔ اوجھل۔ اتنا کہہ کر وہ مسکرایا۔ نظر ہو تو چیزیں نظر بھی نہیں آتیں۔ آہ کہ نظر کی بے نظری! دیر تک وہ گھاس کے اس تختے پر لیٹا اور ٹھنڈک محسوس کرتا رہا۔ لیکن اس کی خود کلامی جاری تھی۔

’’یہ نرم نرم گھاس کتنی فرحت ناک ہے! آنکھیں پاؤں کے تلووں میں چلی آئیں۔ اور یہ پھول۔ یہ پھول اتنے خوبصورت نہیں جتنی ان کی ہرجائی خوشبو ہے۔ ہر شے جوہر جائی ہو۔ خوبصورت ہوتی ہے۔ ہر جائی عورت۔ ہر جائی مرد۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ خوبصورت چیزیں پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ یا خوبصورت خیال۔ ہر خیال خوبصورت ہوتا ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہر پھول خوبصورت نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر یہ پھول۔ اس نے اٹھ کر ایک پھول کی طرف دیکھا اور اپنی خود کلامی جاری رکھی۔ یہ اس ٹہنی پر اکڑوں بیٹھا ہے۔ کتنا سفلہ دکھائی دیتا ہے بہر حال ٗ یہ جگہ خوب ہے۔ ایک بہت بڑا دماغ معلوم ہوتی ہے۔ روشنی بھی ہے۔ سائے بھی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میں نہیں بلکہ یہ جگہ سوچ رہی ہے۔ یہ پُرفضا جگہ جو اتنی دیر میری نظروں سے اوجھل رہی۔ اس کے بعد نعیم فرطِ مُسرت میں کوئی غزل گانا شروع کر دیتا ہے۔ کہ اچانک موٹر کے ہارن کی کرخت آواز اس کے سازِ دل کے سارے تار جھنجھوڑ دیتی ہے۔ وہ چونک کر اٹھتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ ایک موٹر پاس کی روش پر کھڑ ی ہے اور ایک لمبی لمبی مونچھوں والا آدمی اس کی طرف قہرآلود نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اس مونچھوں والے آدمی نے گرج کر کہا :

’’اے تم کون ہو۔ ‘‘

نعیم جو اپنے ہی نشے میں سر شار تھا ٗ چونکا۔

’’یہ موٹر اس باغ میں کہاں سے آگئی۔ ‘‘

مونچھوں والا جو اس باغ کا مالک تھا بڑ بڑایا۔

’’وضع قطع سے تو آدمی شریف معلوم ہوتا ہے مگر یہاں کیسے گھس آیا۔ کس اطمینان سے لیٹا تھا جیسے اس کے باوا کا باغ ہے۔ ‘‘

پھر اس نے بلند آواز میں للکار کے نعیم سے کہا :

’’اماں۔ کچھ سنتے ہو۔ ‘‘

نعیم نے جواب دیا :

’’حضور سن رہا ہوں۔ تشریف لے آئیے۔ یہاں بہت پُر فضا جگہ ہے۔ ‘‘

باغ کا مالک بھِنّا گیا:

’’تشریف کا بچہ۔ اِدھر آؤ۔ ‘‘

نعیم لیٹ گیا۔

’’بھئی مجھ سے نہ آیا جائے گا تم خود ہی چلے آؤ۔ واللہ ! بڑی دلفریب جگہ ہے تمہاری سب کوفت دُور ہو جائے گی۔ ‘‘

باغ کا مالک موٹر سے نکلا۔ اور غصے میں بھرا ہوا نعیم کے پاس آیا :

’’اُٹھو یہاں سے۔ ‘‘

نعیم کے کانوں میں اس کی تیکھی آواز بہت ناگوار گزری۔ ‘‘

اتنے اونچے نہ بولو۔ آؤ ٗ میرے پاس لیٹ جاؤ۔ بالکل خاموش جس طرح کہ میں لیٹا ہوا ہوں۔ آنکھیں بند کر لو۔ اپنا سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دو۔ دماغ کی ساری بتیاں گل کر دو۔ پھر جب تم اس اندھیرے میں چلو گے تو ٹٹولتی ہوئی تمہاری انگلیاں غیر ارادی طور پر ایسے قمقمے روشن کریں گی جن کے وجود سے تم بالکل غافل تھے۔ آؤ میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔ ‘‘

باغ کے مالک نے ایک لحظہ سوچا۔ نعیم سے کہا

’’دیوانے معلوم ہوتے ہو۔ ‘‘

نعیم مسکرایا :

’’نہیں۔ تم نے کبھی دیوانے دیکھے ہی نہیں۔ میری جگہ یہاں اگر کوئی دیوانہ ہوتا تو وہ ان بکھری ہوئی جھاڑیوں اور ٹہنیوں پر بچوں کے گالوں کے مانند لٹکے ہوئے پھولوں سے کبھی مطمئن نہ ہوتا۔ دیوانگی اطمینان کا نام نہیں میرے دوست۔ لیکن آؤ ! دیوانگی کی باتیں کریں۔ ‘‘

’’بکواس بند کرو۔ نکل جاؤ یہاں سے۔ ‘‘

باغ کے مالک کو طیش آگیا۔ اس نے اپنے ڈرائیورکو بلایا اور کہا کہ نعیم کو دھکے مار کر باہر نکال دے۔

’’ارے تم کون ہو ٗ بڑے بد تمیز معلوم ہوتے ہو۔ ‘‘

جب نعیم باہر جارہا تھا تو اس نے گیٹ پر ایک بورڈ دیکھا جس پر یہ لکھا تھا

’’بغیر اجازت اندر آنا منع ہے۔ ‘‘

وہ مسکرایا۔ حیرت ہے کہ یہ میری نظروں سے اوجھل رہا۔ نظر ہو تو بعض چیزیں نظر نہیں بھی آتیں۔ آہ نظر کی یہ بے نظری۔ یہاں سے نکل کر وہ ایک آرٹ کی نمائش میں چلا گیا تاکہ اپنا ذہنی تکدر دور کرسکے۔ ہال میں داخل ہوتے ہی اس کو عورتوں اور مردوں کا جھرمٹ نظر آیا جو دیواروں پر لگی پینٹنگز دیکھ رہا تھا۔ ایک مرد کسی پارسی عورت سے کہہ رہا تھا :

’’مسز فوجدار۔ یہ پینٹنگ دیکھی آپ نے۔ ‘‘

مسز فوجدار نے تصویر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد ایک عورت شیریں کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور اس مرد سے جو غالباً اس کا ہونے والا شوہر تھا کہا:

’’تم نے دیکھا، شیریں کتنی سج بن کر آئی ہے !‘‘

ایک نوجوان عورت ایک نو عمر لڑکی سے کہہ رہی تھی:

’’ثریا ! ادھر آ کے تصویریں دیکھ۔ تو وہاں کھڑی کیا کر رہی ہے۔ ‘‘

ثریا کو تصویروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اصل میں اس کو ایک بوائے فرینڈ سے ملنا تھا۔ ایک ادھیڑ عمر کا مرد جسے پینٹنگ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ٗ اپنے ادھیڑ عمر کے دوست سے کہہ رہا تھا:

’’زکام کی وجہ سے نڈھال ہے ٗ ورنہ ضرور آتی۔ آپ جانتے ہی ہیں پینٹنگز سے اسے کتنی دلچسپی ہے ٗ اب تو وہ بہت اچھی تصویریں بنا لیتی ہے ٗ پرسوں اس نے پنسل کاغذ لے کر اپنے چھوٹے بھائی کی سائیکل کی تصویراتاری۔ میں تو دنگ رہ گیا۔ ‘‘

نعیم پاس کھڑا تھا۔ اس نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا :

’’ہو بہو سائیکل معلوم ہوتی ہو گی !‘‘

دونوں دوست بھونچکے سے ہو کر رہ گئے کہ یہ کون بد تمیز ہے ٗ چنانچہ ان میں سے ایک نے نعیم سے پوچھا:

’’آپ کون۔ ‘‘

نعیم بوکھلا گیا

’’میں۔ میں۔ ‘‘

’’میں میں کیا کرتے ہو۔ بتاؤ تم کون ہو!‘‘

نعیم نے سنبھل کر کہا : آپ ذرا آرام سے پوچھیے۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔ ‘‘

’’تم یہاں آئے کیسے!‘‘

نعیم کا جواب بڑا مختصر تھا،

’’جی پیدل۔ ‘‘

عورتوں اور مردوں نے جو آس پاس کھڑے تصویریں دیکھنے کی بجائے خدا معلوم کن کن چیزوں پر تبصرہ کر رہے تھے ہنسنا شروع کر دیا۔ اتنے میں اس نمائش کا ناظم آیا۔ اس کو نعیم کی گستاخی کے متعلق بتایا گیا تو اس نے بڑے کڑے انداز میں اس سے پوچھا

’’تمہارے پاس کارڈ ہے؟‘‘

’’بغیر اجازت تم اندر چلے آئے۔ جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے !‘‘

نعیم ایک تصویر کو دیر تک دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے بادل نخواستہ وہاں سے نکلنا پڑا۔ سیدھا اپنے گھر گیا دروازے پر دستک دی اس کا نوکر فضلو باہر نکلا نعیم نے اس سے درخواست کی :

’’کیا میں اندر آسکتا ہوں۔ ‘‘

فضلو بوکھلا گیا۔

’’حضور۔ حضور۔ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ اجازت کیسی‘‘

نعیم نے کہا :

’’نہیں فضلو۔ یہ میرا گھر نہیں۔ یہ گھر جو مجھے راحت بخشتا ہے ٗ کیسے میرا ہوسکتا ہے۔ مجھے اب ایک نئی بات معلوم ہوئی ہے۔ ‘‘

فضلو نے بڑے ادب سے پوچھا :

’’کیا سرکار؟‘‘

نعیم نے کہا:

’’یہی کہ یہ میرا گھر نہیں۔ البتہ اس کا گرد و غبار۔ اس کی تمام غلاظتیں میری ہیں۔ وہ تمام چیزیں جن سے مجھے کوفت ہوتی ہے میری ہیں لیکن وہ تمام چیزیں جن سے مجھے راحت پہنچتی ہے کسی اور کی۔ خدا جانے کس کی۔ میں اب ڈرتا ہوں۔ کسی اچھی چیز کو اپنانے سے خوف لگتا ہے۔ یہ پانی میرا نہیں۔ یہ ہوا میری نہیں۔ یہ آسمان میرا نہیں۔ وہ لحاف جو میں سردیوں میں اوڑھتا ہوں ٗ میرا نہیں۔ اس لیے کہ میں اس سے راحت طلب کرتا تھا۔ فضلو جاؤ۔ تم بھی میرے نہیں۔ ‘‘

نعیم نے فضلو کو کوئی بات کرنے نہ دی۔ وہ چلا گیا۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے سے

’’پیابن ناہیں آوت چین‘‘

کے بول باہر اڑ اڑ کے آرہے تھے نعیم اس کوٹھے پر چلا گیا۔ اندر مجرا سننے والے تین چار مردوں کی طرف دیکھا۔ اور طوائف سے کہا

’’ان اصحاب کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا۔ ‘‘

طوائف مسکرائی:

’’انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ ادھر مسند پر بیٹھیے گاؤ تکیہ لے لیجیے!‘‘

نعیم بیٹھ گیا۔ اس نے کمرے کا جائزہ لیا اور اس طوائف سے کہا :

’’یہ کتنی اچھی جگہ ہے !‘‘

طوائف سنجیدہ ہو گئی:

’’آپ کیا میرا مذاق اُڑانے آئے ہیں۔ یہ اچھی جگہ ہے۔ جسے تمام شرفا حد سے زیادہ گندی جگہ سمجھتے ہیں۔ ‘‘

نعیم نے اس سے کہا:

’’یہ اچھی جگہ اس لیے ہے کہ یہاں

’’بغیر اجازت کے آنا منع ہے‘‘

کا بورڈ آویزاں نہیں ہے۔ ‘‘

یہ سُن کر طوائف اور اس کا مُجرا سننے والے تماش بین ہنسنے لگے۔ نعیم نے ایسا محسوس کیا کہ دنیا ایک اس قسم کی طوائف ہے جس کا مُجرا سننے کے لیے اس قسم کے چغد آتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو
(Visited 7 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں