احمد فراز، مولانا کوثر نیازی اور ذوالفقار علی بھٹو

آج سے بیالیس برس پیشتر کی ایک صبح صادق۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے ٹیلیفون پر جاگ اُٹھا۔ حنیف بھائی نے پوچھا : آج کے’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھا ہے؟ نہیں پڑھا۔

میں تو ابھی ابھی آپ کے فون پر بیدارہوا ہوں۔ اخبارات کا بنڈل کہیں باہر صحن میں پڑا ہوگا۔ پڑھا تو میں نے بھی نہیں۔ مجھے بھی بھٹو صاحب کے ٹیلیفون نے جگایا ہے۔ بھٹو صاحب احمد فراز کے خلاف اِس اشتعال انگیز اداریے پرسخت غضبناک ہیں۔ اُنہیں پنجاب میں ایک بار پھر مذہبی جنون کی آگ بھڑک اُٹھنے کا اندیشہ لاحق ہے۔ تم ناشتہ میرے ساتھ کرو اور راستے میں’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھ ڈالو۔ یہ سوچ کر عجب خوشگوار حیرت کا احساس ہوا کہ ہم سب سو رہے ہیں مگر ذوالفقار علی بھٹو جاگ رہے ہیں۔ نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ صبح کے اخبارات پر ایک گہری تنقیدی نظربھی ڈال چکے ہیں۔
میں نے اداریہ پڑھا تو بھٹو صاحب کی تشویش برحق نظر آئی۔ صرف تین چار ہفتے پیشتر ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر اسلامی جمعیت طلبہ کے چند کارکنوں کو گھسیٹ کر ٹرین سے باہر پھینک دیا گیا تھا اور قادیانی نوجوانوں نے اُن کی خوب پٹائی کی تھی۔ اِس پر پنجاب میں مذہبی فسادات کی آگ بھڑک اُٹھی تھی۔ فقط چند روز پہلے ، خدا خدا کر کے، امن و امان کی فضا بحال ہوئی تھی۔ ایسے میں جب احمد فراز کے ’’نفرتوں کے صحیفوں‘‘ والی غزل کے خلاف یہ انتہائی اشتعال انگیز اداریہ شائع ہوا تو بھٹو صاحب کو یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ پنجاب میں اُن کی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی ایک اور سازش سراُٹھا رہی ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے کہا کہ وہ نظامی صاحب کو بُلا کر بھٹو صاحب کے جذبات سے بخوبی آگاہ کر دیں۔

اِس نازک صورتحال میں احمد ندیم قاسمی ہماری مد د کو آ پہنچے اور وہ یوں کہ اُنہوں نے فراز کی اِس غزل کو شائع کرتے وقت نفرتوں کے صحیفوں والا شعر قلمزد کر دیا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ نظامی صاحب کو اپنے پاس بُلانے کی بجائے میں سیکریٹیریٹ جاتے وقت نظامی صاحب کے دفتر میں اُن سے ملتا جاؤں۔ میں نے نظامی صاحب کو بھٹو صاحب کے اندیشوں سے آگاہ کرنے کے بعد احمد ندیم قاسمی کے رسالہ ’’فنون‘‘ کا تازہ شمارہ دکھایاجس میں فراز کی غزل میں وہ شعر سرے سے موجود ہی نہ تھا، جسے زیرِ بحث اداریے کا موضوع بنایا گیا تھا۔ میں نے نہایت ادب سے سوال کیا کہ فراز کی غزل میں تو یہ شعر موجودہی نہیں آپ نے کہاں سے حاصل کیا؟ اِس پر نظامی صاحب حیرت میں ڈوب گئے۔ ایک لمحے کے توقف کے بعد انہوں نے فرمایا : آپ کی یہ حکومت بھی عجب حکومت ہے۔ یہ شعر مجھے مرکزی وزیرِاطلاعات جناب کوثر نیازی نے ٹیلیفون پر لکھوایا ہے اور ساتھ ہی ذوالفقار علی بھٹو کا پیغام بھی پہنچایا ہے کہ وہ احمدفراز کی حرکتوں سے سخت نالاں ہیں، اِس لیے چاہتے ہیں کہ آپ اُس کے خلاف ایک سخت اداریہ قلمبند کریں تاکہ وزیراعظم بھٹو اُسے نوکری سے نکال باہر کریں۔ اب آپ یہ بتا رہے ہیں کہ بھٹو صاحب نے علی الصبح وزیراعلیٰ سے اِس اداریے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہم کیا کریں؟ کس کی سنیں؟ وزیرِاطلاعات سے بڑھ کرسرکاری ترجمان اور کون ہو سکتا ہے؟

جناب مجید نظامی صاحب کا یہ جواب سُن کر میں بھی حیرت میں ڈوب گیا۔ میں نے نظامی صاحب سے یہ حقیقت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر منکشف کرنے کی اجازت چاہی۔ نظامی صاحب نے بڑی خوشدلی کے ساتھ مجھے یہ اجازت مرحمت فرما دی۔ جب یہ سارا قصہ بھٹو صاحب کے علم میں آیا تو اُنہیں مولانا کوثر نیازی کے اِس کارنامے پر کوئی زیادہ حیرت نہ ہوئی۔ اُنہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور مطمئن ہو گئے کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے تو وہ کہیں باہر سے نہیں ہو رہی، خود پارٹی کے اندر ہی سے ہو رہی ہے۔ بعد ازاں بھٹو صاحب نے احمدفراز کو فون پر بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اُن کی جان بچا لی ہے۔

یہاں یہ بتا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے کا یہ قصہ ہے اُس زمانے میں احمدفراز مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک ذیلی ادارے پاکستان نیشنل سنٹرز کے ہیڈ کوارٹرز میں کام کر رہے تھے اور مولانا کوثر نیازی اُن کے وزیر تھے۔ احمد فراز چونکہ مولانا کے افکار و کردار کو سخت ناپسند کرتے تھے اِس لیے اُنہیں ایک پرِکاہ کی سی اہمیت دینے پربھی آمادہ نہ تھے۔ وہ انہیں شاعر ماننے سے انکاری تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مولانا کوثر نیازی کے مجموعۂ کلام کا پیش لفظ لکھنے سے انکارکر دیا تھا۔

بات یہ ہے کہ احمد فراز نے عمر بھر اپنی شرائط پر کام کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب موریشیس میں منعقد ہونے والے ایک ادبی سیمینار میں پاکستان سے ایک شاعر اور ایک ادبی نقاد کی شرکت کا فیصلہ ہوا تو احمد فراز اور مجھے نامزد کیا گیا۔ یہ نامزدگی اُس وقت کے وزیرِتعلیم سیّد مصطفی شاہ کو جزوی طور پر پسند نہ آئی۔ اُنہوں نے تجویز کیا کہ فراز کے ساتھ کوئی سندھی ادیب موریشیس بھیجا جائے۔ اُس زمانے میں فراز اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے چیئر مین تھے اور یوں سیّد مصطفی شاہ کے ماتحت تصور کیے جاتے تھے۔ مجھے پتہ چلا تو میں نے فراز سے کہا کہ شاہ صاحب کی بات مان لی جائے۔ اِس پہ فراز کا پارہ مزید تیز ہو گیا۔ اُس نے لکھ بھیجا کہ یا ہم دونوں جائیں گے یا پھر ہم میں سے کوئی بھی نہیں جائے گا۔ مصطفی شاہ صاحب مرحوم بڑی فراخدلی کے ساتھ ہنس دیے:’جاؤ بھائی جاؤ دونوں جاؤ‘۔

جب وہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے سربراہ تھے تب بھی وزیرِ تعلیم کو یہی گلہ رہتا تھا کہ فراز میرے ڈسپلن میں نہیں رہتے، مجھ سے بالا بالا اوپر نوٹ لکھ بھیجتے ہیں اور اُوپر سے ہی مجھے احکامات بھجوا دیتے ہیں۔ جب احمد فراز پاکستان نیشنل سنٹرز میں کام کر رہے تھے تب ایک بار مولانا کوثرنیازی نے اُنہیں اسلام آباد سے قلات تبدیل کر دیا تھا جس پر اُنہوں نے عدالت کا دروازہ جا کھٹکھٹایا تھا۔ ہمارے وزرائے کرام بھی عجب معصوم مخلوق ہیں۔ نہیں جانتے کہ سچے شاعر اور دانشور کی شرائطِ کار شاعری متعین کرتی ہے نہ کہ ایسٹا کوڈ (مجموعۂ قواعدِ سرکار) مگر افسوس کہ یار لوگ قواعدِ سرکار کے نِت نئے دام بچھانے سے کبھی باز نہ آئے۔

بشکریہ ہم سب

Spread the love
  • 11
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں