تقویٰ کیا ہے

تقویٰ کیا ہے

رسول اکرم نورِ مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’خبردار! حلال چیزیں بھی واضح ہیں اور حرام بھی واضح ہیں اور ان کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں بہت سے لوگ ان کو نہیں جانتے پس جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین کو بچا لیا اور اپنی عزت محفوظ کر لی ۔

‘‘تقویٰ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ قرآنِ مجید میں دو سو چھتیس (236)سے زائد آیات ایسی ہیں جن میں مختلف انداز میں تقویٰ ہی کا بیان ہے اس کی اہمیت کا انداز اس بات سے بھی بخوبی ہو جاتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے سبھی نے اپنی اپنی اُمتوں کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ رب العزت نے مومنوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:یا ایھا الذین اٰمنوا اتقو ا اللّٰہ حق تقٰتہ ۔ ’’اے ایمان والو! تم اللہ سے تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اختیار کرنے کا حق ہے ۔ ‘‘ (آل عمران)

اللہ سے ڈرنے اور اس سے تقویٰ کرنے کا حق تو یہ ہے کہ مومن تادمِ مرگ سجدہ سے سر ہی نہ اُٹھائے ،تقویٰ کا حق ادا کرنا بندوں کے بس کی بات ہی نہ تھی ۔ چنانچہ اپنے حکم میں نرمی فرماتے ہوئے ارشاد ہوا:فاتقوا اللّٰہ ماستطعتم ۔ ’’جتنا تم سے ہو سکے اتنا تو اللہ سے تقویٰ اختیار کرو ۔ ‘‘(القرآن)

بعض مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اس آیت نے مذکورہ بالا آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے پہلی آیت پر عمل کرنا بہت مشکل تھا اس آیت سے ہر کسی کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق گنجائش مل گئی ۔ کیونکہ انبیاء کرام کی استطاعت اور ہے صحابہ کرام کی اور ،اولیاء کاملین کی استعداد اور ہے ،مومنوں کی اور ہے ۔

امام الانبیاء کا تقویٰ:’’ماستطعتم‘‘پہ جب امام الانبیاء عمل کریں گے تو دیکھو گے کہ ساری ساری رات عبادت میں بیت جاتی ہے پاءوں پر ورم آجاتا ہے ۔ حد یہاں تک ہو جاتی ہے کہ خود رب کائنات کو کہنا پڑتا ہے ۔ یا یھا المزمل ، قم اللیل الا قلیلا، نصفہ اونقص منہ قلیلاط ۔ ’’اے مزمل! رات کو قیام کرو ،سوا کچھ رات کے آدھی رات یا اس سے بھی کم ۔ ‘‘(سورۃ المزمل)

میرے آقا جب ’’ماستطعتم‘‘کے مطابق عمل کرتے ہوئے رات کو عبادت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو گھنٹوں ایک ایک رکعت میں کھڑے رہتے ہیں اور جب سجدے میں جاتے ہیں تو سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ روح مبارکہ پرواز کر گئی ہے ۔ ’’ماستطعتم‘‘پرعمل کرتے ہوئے جب سخاوت کی طر ف آتے ہیں ہاتھ عطا فرمانے سے رُکتے ہی نہیں یہاں تک کہ اپنی قمیض بھی اُتار کر سائل کو دے دیتے ہیں ۔ رب قدوس کو پھر کہنا پڑتا ہے :لا تبسطھا کل البسط ۔ ’’ہاتھوں کو اتنا کھلا نہ چھوڑ دو کہ اپنی ضرورت کا بھی خیال نہ رہے ۔ ‘‘

آءو ذرا نبی کریم ﷺ کے تقویٰ اور پرہیز گاری کی ایک جھلک دیکھ لیتے ہیں ۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ساری رات بے قراری میں گزاردی بار بار کروٹیں بدلتے ، بے چینی کی کیفیت نمایا ں تھی ازواج مطہرات میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا وجہ ہے آج آپکو ساری رات نیند نہ آئی;238; ارشاد فرمایا : ایک کھجور پڑی ہوئی تھی اُٹھا کر کھالی کہ مباداضائع ہو جائے ۔ اب فکر لاحق ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی نہ ہو ۔ اقرب بات یہی ہے کہ وہ صدقہ کی نہ تھی مگر چونکہ آپ کے پاس صدقہ کا مال بھی آتا بس اس خیال نے آپکو بے چین کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کی صفت حسنہ سے موصوف ہونے والوں کا بہت بلند مقام بھی ہے اور اجر عظیم بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقٰکم ۔ ’’یقینا اللہ تعالیٰ کے ہاں تم میں سے سب سے زیادہ عزت و تکریم والا وہی ہے جو زیادہ متقی ہے ۔ ‘‘(القرآن)

متقی دنیا میں بھی صاحب تکریم ہیں اور میدانِ محشر میں اور جنت میں تو بہت بڑا صلہ انکا منتظر ہے ۔ خود اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا ۔ ’’ہم متقین کو رحمن کی بارگاہ میں مہمان بنا نے کے لئے لے جائیں گے ۔ ‘‘ (سورۃ المریم)

دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا:ولدار الاٰخرۃ خیراللذین یتقون ۔ ’’آخرت کا گھر یقینا ان ہی لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ ‘‘(القرآن )

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا :اتدرون ما اکثر ما یدخل الناس الجنۃ تقوی اللّٰہ وحسن الخلق ۔ ’’جانتے ہو زیادہ کون سی چیز لوگوں کو جنت میں داخل کریگی (خود ہی فرمایا )اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرنا اور حسنِ اخلاق ۔ ‘‘(مشکوٰۃ شریف )

(Visited 6 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں