کس عمر کے بعد جنسی تعلق مردوں کے لیے موت کا سبب ہوتا ہے ؟

سائنسدانوں نے انتہائی تشویشناک بات کہہ دی ہے کہ جس کو جان کر آپ پریشان ہو جائیں گے.

اگرچہ یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ازدواجی سرگرمیاں جاری رکھنا صحت کے لئے اچھا ہے.

لیکن امریکی سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف کیا ہے کہ جسے عمر رسیدہ مردوں کے لئے بہت بری خبر قرار دیا جا سکتا ہے.

اخبار کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سائنسی جریدے جرنل آف ہیلتھ اینڈ سوشل میں ایک تحقیق شائع ہوئی ہے.

جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ادھیڑ عمر کی دہلیز پار کرنے کے بعد ازدواجی فرائض کی ادائیگی جاری رکھنا خواتین کی صحت کے لئے تو بہت اچھا ہے.

لیکن مردوں کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوسکتا ہے. سائنسدانوں نے پانچ سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران 2,204 فراد کی ازدواجی سرگرمیوں اور ان میں بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا مطالعہ کیا.

صحت ڈپریشن
Photo: File

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پانچ سال بعد ڈیٹا جمع
کیا گیا تو معلوم ہوا 57 سے 85 سال عمر کی جن خواتین نے ازدواجی فرائض کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری رکھی ان میں بلڈ پریشر کی بیماری بہت کم تھی اور دل کی صحت بھی بہت اچھی تھی.

اس کے برعکس 57 سے 85 سال کے جن مردوں نے ازدواجی فرائض کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری رکھی ان میں موت کی شرح دیگر مردوں کی نسبت دو گنا زیادہ تھی.

ماہرین نے جب اس حیرت انگیز معاملے کی مزید تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ جو مرد بڑھتی عمر کے ساتھ ازدواجی فرائض کی ادائیگی باقاعدگی سے جاری رکھتے ہیں.

ان میں ہارٹ اٹیک کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہی ان کی موت کی دوگنا شرح کی بنیادی وجہ ہے.

مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا تھا کہ عمر رسیدہ افراد ویاگرا اور ادویات کا سہارا لیتے ہیں وہ دل کے امراض میں اضافے کا باعث بنتی ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ بڑھاپے میں ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے لیے سخت کوشش جسمانی اعضاء اور اعصاب پر بھی بوجھ ڈالتی ہے جبکہ کارکردگی تسلی بخشش نہ ہونے کی صورت میں ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے.

یہ سب عمل جمع ہوکر عمر رسیدہ مردوں کے لیے ازدواجی فرائض کی ادائیگی کو ایک خطرناک عمل بنا دیتے ہیں جس کا نتیجہ موت کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے.

(Visited 1,314 times, 10 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں