وہ بھارتی ڈاکو جسے پاکستان نے پناہ دی ….!

ڈاکو

جب بھی پاکستان کی جانب سے انڈیا کے کسی مجرم کو پناہ دی جاتی ہے تو پوری دنیا کی نگاہیں اس کی طرف ہوتی ہیں۔

1993 میں ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کے اہم ملزم داؤد ابراہیم کے پاکستان بھاگ جانے اور وہاں بسنے کی خبریں آئیں تو انڈیا نے اسے ایک بڑا معاملہ بنالیا۔

حالانکہ پاکستان ہمیشہ اس بات کی ترید کرتا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم اس کی سرزمین پر نہیں رہ رہا ہے لیکن داؤد ابراہیم کے مبینہ طور پر پاکستان جانے سے 40 برس پہلے بھی ایک ایسا موقع آیا تھا کہ جب پاکستان نے انڈیا سے بھاگے ہوئے ایک ڈاکو بھوپت کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔

ڈاکو بھوپت

50 کی دہائی میں بھوپت ڈاکو گجرات اور راجستھان میں کافی سرگرم ہوچکا تھا اور کہا جاتا ہے کہ جولائی 1949 اور فروری 1952 کے درمیان بھوپت اور اس کے گینگ پر 82 ہلاکتوں کا الزام تھا۔ ان میں سے آخری دو ہلاکتیں فروری 1952 میں کی گئیں تھیں۔

اس کے بعد انڈین پولیس نے اس پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ سرحد پار کر کے پاکستان پہنچ گیا۔

وہاں اس کو گرفتار کیا گیا اور پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے اور ہتھیار رکھنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور وہاں کی ایک عدالت نے اسے ایک سال کی سزا سنائی۔

دا پیپل نیکسٹ ڈور

کلاسیفائیڈ فائلز میں بھوپت کا ذکر

مشہور کتاب ‘دا پیپل نیکسٹ ڈور: دا کیوریس ہسٹری آف انڈیاز ریلیشن ود پاکستان’ کے مصنف اور پاکستان میں انڈیا کے سفیر کے عہدے پر رہ چکے ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون بتاتے ہیں ‘اس کے بارے میں نے ایک فائل دیکھی تھی جو میرے پاس ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کے لیے آئی تھی تاکہ اسے نیشنل آرکائیوز میں بھیجا جاسکے۔ یہ معاملہ اتنا اہم تھا کہ اس کے بارے میں دونوں ممالک ے درمیان کئی بار اعلیٰ سطحی بات چیت ہوئی۔ مشکل یہ تھی کہ اس مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انڈیا کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں کیونکہ تب تک دونوں ممالک کے درمیان ملک سے بھاگے ہوئے لوگوں کو واپس کرنے سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔‘

ٹی سی اے راگھون کے ساتھ بی بی سی ہندی کے صحافی ریحان فضل

ان کا کہنا ہے ‘جب انڈیا کے اس وقت کے سفارتخانے کی جانب سے بھوپت ڈاکو کو ملک واپس لانے کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے پاکستان کی حکومت پر یہ الزام لگایا کہ وہ سیاسی طور پر اتنی کمزور ہے کہ ووٹوں کی پرواہ کیے بغیر بھوپت کو انڈیا کو سونپنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔‘

جواہر لال نہرو

انڈیا اور پاکستان کے وزراء اعظم کے درمیان بھوپت سے متعلق بات چیت

بھارت کی جانب سے مستقل دباؤ اور میڈیا میں لگاتار اس پر بحث کی وجہ سے جولائی 1956 میں اس وقت کے انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کے درمیان اس بارے میں بات چیت ہوئی۔

حلال کیا اور حرام کیا؟

اس کے بعد نہرو نے وزارت خارجہ کی فائل پر لکھا ‘پاکستان کے وزیر اعظم نے میرے سامنے بھوپت کا معاملہ اٹھایا۔ میرے خیال سے اس بارے میں شروعات ان کی طرف سے ہوئی۔ مسٹر بوگرہ نے کہا وہ پوری طرح سے اس بات سے متفق ہیں کہ بھوپت کی حوصلہ افضائی نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ اسے انڈیا واپس بھیجے جانے کے بارے میں انہوں نے یہ کہ کر ہاتھ جھاڑ لیے کہ دونوں ممالک کے درمیان ملک سے بھاگ کر آنے والوں کو واپس کرنے سے متعلق معاہدہ ہی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے انڈین حکومت کو اطلاع کرنے کے بعد سرحد پر چھوڑنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔’

Prime Minister Mohammed Ali Bogra

بلٹز کے صفحہ اول پر بھوپت کی خبر

لیکن کسی طرح یہ خبر انڈین میڈیا میں لیک ہوگئی اور پاکستان اپنی اس پیش کش سے پیچھے ہٹ گیا۔

انڈین میڈیا میں اس وقت بھوپت سے متعلق خبریں چھائی رہتی تھیں۔ بلٹز نے اپنے اپریل 1953 کے ایڈیشن میں سرخی شائع کی ‘کیا بھوپت پاکستانی فوج کے بھارتیہ ڈاکوؤں کو بھرتی کررہا ہے؟’

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھوپت پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے لیے بھارتی ڈاکوؤں کو بھرتی کررہا ہے اور ایک ٹاپ سیکرٹ مشن کے لیے انڈیا پاکستان سرحد کے نزدیک گھوم رہا ہے۔

جوناگڈھ

بھارت نہ بھیجے جانے کی کوشش

ٹی ایس اے راگھون بتاتے ہیں ‘میڈیا کی قیاس آرائیوں کے درمیان بھوپت کی حکمت عملی یہ تھی کہ کسی بھی صورت میں پاکستان اسے انڈیا کے حوالے نہ کرے جہاں اسے پھانسی پر لٹکایا جانا تقریباً طے تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ اس کے بعض حامیوں نے سڑکوں پر ڈرامے کرکے اس کے لیے چندا جمع کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے تقریباً 1500 روپئے جمع کیے۔ اس زمانے میں یہ کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ اس سب سے بھوپت کی اتنی حوصلہ افضائی ہوئی کہ اس نے ایک فلم بنانے کا منصوبہ بنایا جس میں جوناگڈھ پر بھارتی فوج کی قبضے کو دکھایا جاتا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ اس طرح کی فلم سے انڈیا کے خلاف پاکستان کے پروپیگینڈا کو فروغ ملے گا۔’

भूपत (बाएं से तीसरे)

بھوپت نے خود کو آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والا بتایا

بھوپت کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ انڈیا بھیجے جانے سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے یہ وہ خود کو جوناگڈھ کی آزادی کے لیے لڑنے والا شخص بتائے۔ اس نے صوبے سندھ کی ایک عدالت میں یہ دلیل دی کہ اس نے آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا ہے اور اسی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا۔

بلٹز اخبار نے بھوپت کے ان دلائل کو شا‏ئع کرتے ہوئے لکھا ‘جب میری ریاست جوناگڈھ پاکستان میں ضم ہوگئی تو بھارتی فوج نے اس پر حملہ کردیا۔ ہم نے طاقت کا جواب طاقت سے دینے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ساڑھے تین سالوں تک بھارتی فوج کا مقابلہ کیا لیکن آخر میں فتح ان ہی کی ہوئی۔ اس کے بعد مجھے انڈیا چھوڑنے اور پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ میں پاکستان کے تعئین وفادار ہوں جس نے مجھے پناہ دے کر میری زندگی بچائی۔ پاکستان کی حفاظت کے لیے میں اپنے جسم کے خون کی آخری بوند تک دینے کے لیے تیار ہوں۔’

जूनागढ़

پاکستان میں ہی موت

راگھون بتاتے ہیں ‘جوناگڈھ کے فریڈم فائٹر ہونے کی بھوپت کی دلیل آخرکار رنگ لائی اور اسے پاکستان میں پناہ دے دی گئی۔ وہ 2006 میں اپنی وفات تک پاکستان میں ہی رہے۔ انھوں نے اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام مذہب قبول کرلیا تھا اور اپنا نام امین یوسف رکھ لیا تھا۔ اس نے وہاں دوبارہ شادی اور اس کے دو بچے بھی ہوئے۔’

वी जी कानिटकर

بھوپت پر کتاب

بعد میں بھوپت کا پیچھا کرنے والے پولیس افسر وی جی کانٹکر نے مراٹھی زبان میں ایک کتاب لکھی۔ انہوں نے بتایا کہ بھوپت ہر واردات کے بعد ایک تحریری پیغام میں پولیس کو وارننگ دے کر جاتا تھا جسے ‘جاسا’ کہا جاتا تھا۔

کانٹکر کہتے ہیں وہ انہیں ہمیشہ ‘ ڈیکرا’ کر کے مخاطب کرتا تھا جبکہ وہ عمر میں ان سے دس برس چھوٹا تھا۔ ڈیکرا کا مطلب ہوتا ہے بیٹا۔ کانٹکر نے بھوپت کو پکڑنے کے لیے پیروں کے نشان پہچاننے والے ماہرین کی مدد لی تھی۔

ایک پولیس انکاؤنٹر میں اس کے ساتھی دیوایت کی موت کے بعد بھوپت نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ پاکستان بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے ایک ساتھی امر سنگھ کچھ دنوں کے بعد انڈیا واپس لوٹ آئے۔ بعد میں خبر آئی کہ جیل سے رہا ہونے کے بعد بھوپت نے دودھ فروخت کرنے کا کاوربار شروع کردیا۔

کانکٹر 1969 میں سی آر پی ایف کے ڈرایکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

(Visited 39 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں