بازارِ حسن سے قبرستان تک

طوائفیں اور ان کی حسین بیٹیاں

پاکستانی 90 سپر سٹار فلم ایکٹریس نادرہ۔ نادرہ کا اصل نام ملکہ فرح تھا۔ نادرہ کی پیدائش 1968 میں لاھور میں ہوی۔ نادرہ کی ماں کا نام نسیم اختر ہے جو کہ لاھور ہیرا منڈی کی ایک رقاصہ تھی۔

نسیم اختر کی شادی قصور میں اکبر بھٹی سے ہوی یہ 5 بہن بھائی تھے۔ دو بھائی اور تین بھنیں ہیں۔ جب نادرہ چھوٹی تھی تو نسیم اختر نے دوسری شادی کر لی اور ان کو چھوڑ دیا۔ تب نادرہ کی خالہ جن کا نام سیاں بی بی تھا وہ نادرہ اور اس کی بہن گڈی کو ہیرا منڈی لے آئی اور وہیں پر ان کی پرورش کی اور باقاعدہ رقص کی تربیت دی۔

نادرہ ایک بہت ہی اچھی رقاصہ بنی اور عمدہ رقص کی وجہ سے خاصی شہرت پائی۔ نادرہ کی شہرت وقت کے مشہور ہدایت کار یونس ملک تک بھی پہنچی جو کہ ایسی اداکارہ کی تلاش میں تھے جو اداکارہ انجمن کو گھر کا راستہ دیکھا سکے۔ ہدایت کار یونس ملک نے نادرہ اور نیلی کو اپنی فلم آخری جنگ کے لئے سائن کیا۔ فلم انڈسٹری میں آنے سے پہلے بھی نادرہ بہت امیر تھی اور واحد اداکارہ تھی جو پہلے دن اپنی ذاتی کار میں سٹوڈیو آئی تھی 1986 فلم اس فلم نے سلور سکرین پر دھوم مچا دی او سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ یہاں سے نادرہ کی کامیابی کا سفر شروع ہوا اور پھر ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب فلمیں نادرہ کے نام ہوتی گئیں۔ نادرہ نے 1992 میں اعجاز حسین سے شادی کی۔ اس شادی سے نہ تو نادرہ کے گھر والے راضی تھے اور نہ ہی ملک اعجاز حسین کے، اس شادی سے نادرہ کے دو بچے تھے۔ بیٹی رباب اور بیٹا علی حیدر۔

نادرہ نے کم و بیش 60 فلموں میں کام کیا جن میں سے 51 ریلیز ہوئی اور باقی باکس آفس میں ڈوب گئیں۔ نادرہ کی ہٹ فلموں کیا تعداد بہت زیادہ ہے جن میں تحفہ۔ آخری جنگ۔ مفرور۔ دولت کے پجاری۔ وطن کے رکھوالے۔ مولا بخش وغیرہ شامل ہیں۔ نادرہ کی جوڑی اسماعیل شاہ، سلطان راہی۔ اظہار قاضی۔ غلام محی الدین اور شان کے ساتھ بنتی تھی۔ 1991 میں نادرہ کو فلم وطن کے رکھوالے کی وجہ سے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔

6 اگست 1995 اتوار کی رات نادرہ کا قتل اس وقت ہوا جب نادرہ اپنے خاوند، بچوں اور ماں کے ساتھ لاہور کی مشہور لبرٹی مارکیٹ سے ڈنر کر کے واپس آ رہی تھی تو نادرہ کے خاوند ملک اعجاز نے گاڑی ایک سنسان سڑک پے لے لی۔ کچھ ہی دور جا کے اچانک دو موٹر سائکل سوار نے گاڑی روکی اور شیشہ کھلنے پہ انہوں نے پانچ فائر کیے جن میں سے 3 فائر نادرہ کو گردن اور منہ پر لگے۔ گولیوں کی آواز سے لوگ اکٹھے ہوئے اور نادرہ کو لاہور سروسز ہسپتال میں پہنچایا گیا اور وہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ نادرہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں یعنی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی نادرہ جان کی بازی ہار چکی تھی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ گاڑی میں نادرہ کا شوہر۔ نادرہ کی ماں اور نادرہ کے بچے بھی موجود تھے اور نادرہ کے علاوہ کسی کو خراش تک نہیں آئی۔ اس کیس میں نادرہ کا شوہر مدعی بنا اور اس حادثہ کو ڈکیتی کا روپ دے کر ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا۔

بشکریہ ہم سب

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں