تھکے ہارے فریقوں کے مذاکرات

مذاکرات

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ طالبان امن چاہتے ہیں اور ہم بھی نہ ختم ہونے والی جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں ہم دیکھیں گے طالبان کے ساتھ کیا ہوتا ہے وہ تھک چکے ہیں بلکہ ہر کوئی تھک چکا ہے ہم بھی تھک چکے ہیں افغانستان کی لڑائی میں خون اور پیسے کی بھاری قیمت چکائی ہے امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد ہم وہاں اپنی انٹیلی جنس رکھیں گے اگر ہم وہاں شدت پسندوں کو دوبارہ منظم ہوتا دیکھیں گے تو کچل دیں گے۔ ہم اس جنگ کا خاتمہ کرنے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ان کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب سے ایک دن پہلے منظر عام پر آیا ہے یہ خطاب ذرا تاخیر سے ہو رہا ہے کیونکہ ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے شٹ ڈان کے دوران سٹیٹ آف دی یونین خطاب سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک شٹ ڈان ختم نہیں ہوگا اس وقت تک وہ صدر کو خطاب کے لئے نہیں بلوائیں گی اب یہ خطاب آج (منگل)ہو رہا ہے جس میں توقع ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ ساتھ شام، عراق اور دوسرے جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں بھی اپنے منصوبوں کا اعلان کریں گے، صدر کا یہ دعوی ہے کہ اگر داعش نے شام یا عراق میں خلافت کا اعلان کیا تو سو فیصد قیادت کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

امریکی صدر نے اپنی تھکاوٹ کا اس انداز میں اظہار غالبا پہلی مرتبہ کیا ہے ورنہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا وہ بڑے طمطراق سے اعلان کر رہے تھے کہ وہ افغانستان کا مسئلہ طاقت کے ذریعے حل کریں گے لیکن عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والوں نے انہیں اس وقت بھی بتا دیا تھا کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو سترہ برس کی جنگ میں ضرور کوئی نہ کوئی حل نکل آتا لیکن صدر ٹرمپ نے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے غالبا ایک ہی سال میں اندازہ لگا لیا کہ فوجی حل واقعی ممکن نہیں ہے اسی لئے انہوں نے زلمے خلیل زاد کے ذریعے طالبان کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کا ڈول ڈالا اور پاکستان سے بھی کہا تھا کہ وہ طالبان کو گفت و شنید کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں: – افغانستان میں امن مذاکرات کی ٹیڑھی کھیر

پاکستان کی کوششوں سے طالبان نے مذاکرات تو شروع کر دیئے جو اب جاری ہیں تاہم یہ مذاکرات حتمی فیصلے تک پہنچنے میں ابھی وقت لیں گے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ بھی بات چیت کریں جبکہ طالبان اس حکومت کو کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں البتہ وہ روس کی کوششوں سے افغان اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور مذاکرات سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں شرائط بھی سامنے آ رہی ہیں۔

loading...

البتہ اتنی بات تو پوری دنیا کو نظر آ رہی ہے کہ ان مذاکرات میں طالبان کسی کمزور فریق کی طرح بات چیت نہیں کر رہے بلکہ طاقتور سٹیک ہولڈر کے طور پر میز پر بیٹھے ہیں اس لئے امکان یہی ہے کہ وہ تھکے ہارے ٹرمپ سے بالآخر بعض مطالبات منوا بھی لیں گے اس وقت زمین پر پوزیشن یہ ہے کہ طالبان کا حکم افغان حکومت سے زیادہ علاقے میں چلتا ہے جبکہ افغان انتظامیہ کی رٹ کابل تک محدود ہے، دوسری اہم بات یہ ہے کہ طالبان اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ انتخابات سے پہلے اشرف غنی کی حکومت ختم کر کے غیر جانبدار انتظامیہ قائم کی جائے اگرچہ فی الحال ان کا یہ مطالبہ مانا نہیں گیا لیکن اگر ایسا ہو گیا تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔واشنگٹن کے ایوان ہائے اقتدار میں ایسے لوگوں کی کمی کبھی نہیں رہی جن کا خیال تھا کہ امریکہ افغانستان کی جنگ میں داخل تو ہوگیا ہے لیکن وہ یہ جیت نہیں سکے گا، افغانستان میں فوجیں داخل کرنے والے صدر بش نے تباہ کن بمباری کرکے تورا بورا کے پہاڑوں کا سرمہ تو بنا دیا اور اس نشے میں جلد بازی میں یہ اعلان بھی کردیا کہ ہم نے مخالفوں کو شکست دے دی ہے لیکن آج اٹھارہ سال بعد جب اس اعلان پر نظر واپسی ڈالی جاتی ہے تو صدر بش کے دعوے پرہنسی آتی ہے۔ کیونکہ اس وقت بھی 55فیصدسے زیادہ علاقہ نہ صرف طالبان کے کنٹرول میں ہے بلکہ ریان سی کروکر جیسے جہاں دیدہ ڈپلومیٹ کو تو یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ امریکہ طالبان کے سامنے سرنڈر کر چکا اور اس وقت جومذاکرات ہو رہے ہیں ان میں صرف سرنڈر کی شرائط طے کی جارہی ہیں، یہ سفیر کروکر وہ تھے جنہوں نے کابل میں امریکہ کا بند سفارتخانہ دوبارہ کھلوایا تھا اور کئی سال تک وہاں سفارتی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے، بعد میں وہ پاکستان میں بھی سفیر رہے۔

اتنے اعلی منصب پر فائز رہنے والا سفارت کار اگر یہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ اپنے سرنڈر کی شرائط طے کرنے میں مصروف ہے تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کی نوعیت کیا ہے، مذاکرات میں مصروف زملے خلیل زاد تو کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ ابھی مذاکرات درمیان ہی میں ہوں اور شرائط بھی طے نہ پاسکیں اوران کے صدر وائٹ ہاس میں بیٹھے بیٹھے امریکی افواج کی فوری واپسی کا ٹویٹ بھی کردیں۔ ویسے امریکی صدر اٹھارہ ماہ میں فوجوں کی واپسی کا اعلان تو کر ہی چکے ہیں اور اگلے برس کے درمیان میں جو انتخابات کا سال ہے ممکن ہے وہ اپنے ووٹروں کو یہ خوشخبری سنائیں کہ انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق امریکہ کو افغان جنگ سے نکال لیا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی ہوتے ہوتے تو کافی عرصہ لگ سکتا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے دوباتیں ایسی کہی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اب اس فیصلے پر نظرثانی شاید ممکن نہ ہو، ایک تو ان کا یہ کہنا کہ تمام فریق ہی تھک چکے ہیں اور دوسرے یہ خیال کہ طالبان امن چاہتے ہیں، دوسری جانب طالبان کو بھی یقین آچکا ہے کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے نکلنے میں سنجیدہ ہیں، اس لئے مذاکرات تو سنجیدگی سے ہی آگے بڑھیں گے تاہم دیکھنا یہ ہوگا امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں طاقت کا جو خلا پیدا ہوگا وہ کس طرح پر ہوگا اور کیا اس خلا میں امن و امان قائم رکھنا بھی ممکن ہوگا یا نہیں۔ خطے کے حالات کی بہتری کے لئے امن کا قیام ضروری ہے اور چین اور روس جیسی طاقتیں بھی اس کے لئے کوشاں ہیں۔ اس لئے امید رکھنی چاہئے کہ چار عشروں کے بعد یہ ملک امن و امان کی صبح جمال کا نظارہ کر سکے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں