جناب وزیر اعظم صاحب اپنی معاشی ٹیم تبدیل کر لیں

عمران خان

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ہمارے پاس دو آپشنز ہیں دیوالیہ ہو جائیں یا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے پاس جائیں، دیوالیہ ہونے سے روپیہ گر جائے گا اور مارکیٹ کریش کر جائے گی، ملک میں سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے، آئی ایم ایف کے پاس جا کر اصلاحات لائیں گے۔

پاکستان نے تیس سال میں آئی ایم ایف کے ساتھ بارہ پروگرام کئے ہیں، بہت سے ماہرین معیشت کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف سے جلد پیکیج لیا جائے،لیکن اس میں دیرکرنے سے آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر روپے کو اوور ویلیو رکھیں تو اس کا عوام کو نقصان ہوتا ہے، ہم معیشت میں بہتری کے لئے اس کی بنیادی سمت بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رواں مالی سال میں شرح ترقی کا ہدف چار فیصد ہے،پانچ برس بعد لوگ تسلیم کریں گے کہ ہماری پالیسیاں کمزور طبقے کے لئے سود مند تھیں،ہماری معاشی ٹیم اچھی ہے یا بری ذمے داری حکومت کی ہے۔

اب یہ امر تو کسی سے پوشیدہ نہیں رہ گیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جاوے ای جاوے، لیکن یہ جو درمیان میں پہیلیاں بجھائی جا رہی ہیں یہ شاید اِس لئے ہیں کہ عوام کہیں یہ یاد دہانی نہ کرا دیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے خود کشی بہتر ہے،اب تک روپے کی قیمت میں کمی، بجلی کی قیمت میں اضافے اور گیس کے نرخ بڑھانے سمیت جو بھی اقدامات اس حکومت نے اٹھائے ہیں وہ سب اِس بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ یہ تمام شرائط آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لئے ہی تو ہیں۔

اگر آئی ایم ایف سے کوئی بیل آٹ پیکیج وغیرہ نہیں لینا تھا تو کیا اسد عمر بتا سکتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے یو اے ای میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات کیوں کی تھی؟ پاکستان کے شاید ہی کسی وزیراعظم نے ماضی میں ایسا کیا ہو، تو کیا دونوں شخصیات نے یو اے ای میں موسم کی لطافتوں پر بات کی تھی؟ یا وزیراعظم آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو یہ بتانے کے لئے ان کے پاس گئے تھے کہ آپ کی بڑی مہربانی ہم بیل آٹ پیکیج نہیں لیں گے، ملاقات بذاتِ خود اِس بات کی دلیل ہے کہ پیکیج لیناہی مقصود ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر بھی بات ہوئی ہو گی، اب یہ شرائط نرم ہوتی ہیں یا سخت، یہ تو سامنے آہی جائے گا، کیونکہ اطلاعات یہ ہیں کہ اگر پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف نے کوئی معاہدہ کیا تو اس کی شرائط مشتہر کی جائیں گی،یہ اچھی پیشرفت ہے تاکہ عوام کو معلوم ہوتا رہے کہ جو قرض لیا جا رہا ہے اس کی شرائط کیا ہیں اور ان کے نام پر کیا کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر کے اب تک کے اقدامات سے تو معیشت سنبھل نہیں پائی اور نہ ہی اگلے دو برسوں میں ایسا ہوتا نظر آتا ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک نے تو اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ رواں مالی سال ترقی کی شرح نمو کم رہے گی اور اگلے سال اس سے بھی کم ہو گی۔

لاحاصل سے لاحاصل تک

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ شرح پورے خطے کے ملکوں میں سب سے کم ہے،یعنی نیپال اور بھوٹان سے بھی کم۔ بھارت اس خطے میں پہلی پوزیشن میں ہے۔ اگرچہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور وہ کوئی موقع پاکستان کو نقصان پہنچانے کا ضائع نہیں کرتا،لیکن ہم یہ تو معلوم کر سکتے ہیں کہ اس نے کیا اقدامات کئے کہ اس کی معاشی شرح نمو 8فیصد کو چھونے لگی، یہ وہ شرح ہے،جو دنیا میں بہت کم معیشتوں کو نصیب ہوتی ہے۔

چین ایک زمانے میں اس سے آگے بھی جا چکا ہے،لیکن اب اس کی شرح بھی کم ہو کر 6فیصد تک آ چکی ہے۔ ہمیں چین سے یہ معلوم کرنے کی ضرورت بھی ہے کہ اس نے اپنے 70کروڑ لوگوں کو خطِ غربت سے اوپر کیسے پہنچایا، مرغیاں،بکریاں پال کر، یا کسی اور طریقے سے؟ حکومت نے معیشت کی بہتری کے لئے جو بہت سی ٹاسک فورسیں بنائی ہوئی ہیں ان میں سے کسی ایک کو اِس کام پر لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی شرح ترقی کا راز معلوم کیا جائے اور چین کی خطِ غربت کی کرشماتی کامیابی کی حقیقت تک پہنچا جائے،لیکن اگر یہ ٹاسک فورسیں زیادہ مصروف ہیں تو اس مقصد کے لئے کوئی نئی ٹاسک بنانے میں کیا مضائقہ ہے،لیکن لگتا نہیں کہ حکومت یہ کام کرے گی، کیونکہ اسے تو نہ جانے کیوں یقین سا ہے کہ اس کے اقدامات سے معیشت آگے بڑھ رہی ہے،جس سے غربت کم ہو گی، بس عوام اتنا کریں کہ مہنگائی سے پریشان نہ ہوں۔

خود اسد عمر کا بھی خیال ہے کہ اگلے پانچ برس میں وہ ایسا کر پائیں گے،لیکن انہیں شاید معلوم نہیں کہ اِس وقت ملک کی معیشت جس ڈگر پر ہے اور جس زبوں حالی کا شکار ہے اور روپیہ جس بری طرح ڈھلوان کے سفر پر تیزی سے بھاگ رہا ہے۔اگر اِسے نہ روکا گیا تو اگلے پانچ برس حکومت کے لئے ڈرانا خواب ثابت ہوں گے۔پانچ برس سے پہلے تو کوئی بڑا غیر متوقع حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔

اسد عمر نے وزیر خزانہ بنتے ہی آئی ایم ایف کے پاس جانے کی باتیں تو شروع کر دی تھیں،لیکن انہوں نے اِس ضمن میں خاصی دیر کر دی، یہاں تک کہ ان کی پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کو کہنا پڑا کہ بروقت فیصلے نہیں کئے گئے، چلئے اپوزیشن کے مشوروں کو تو نظر انداز کرنے کی سمجھ آتی ہے، کوئی اسد عمر سے پوچھے کہ اپنی ہی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا مشورہ نظر اندازکرنے میں کیا حکمت ہے اور رہنما بھی وہ جس نے تحریک انصاف کی مخلوط حکومت بنوانے کے لئے بڑے جوڑ توڑ کئے تھے، ورنہ شاید ٹارگٹ حاصل نہ ہو پاتا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں