مہمند ڈیم ، بے قاعدگیاں اور احتساب

مہمند ڈیم

وزیراعظم عمران خان نے 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والے مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ دریائے سوات پر منڈا ہیڈ ورکس کے مقام پر واقع مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب میں سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) ثاقب نثار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)مزمل حسین سمیت دیگر نے شرکت کی۔

پشاور سے 37 کلو میٹر شمال کی جانب ضلع مہمند میں واقع مہمند ڈیم میں مجموعی طور پر 12 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جس کی تعمیر سے سیلاب کے نقصانات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ڈیم کی تعمیر کے لیے مجموعی لاگت 291 ارب روپے ہے، جس کی اونچائی 213 میٹر یعنی 698.82 فٹ بلند ہوگی جس سے یومیہ 800 میگا واٹ اور سالانہ 2862 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ڈیم سے دائیں اور بائیں جانب نکلنے والے نہری نظام سے ضلع مہمند کی مجموعی طور پر 16 ہزار 667 ایکڑ بنجر زمین کاشت کے قابل ہو سکے گی۔ڈیم کی تعمیر سے ضلع چار سدہ اور نوشہرہ کے زیادہ تر علاقے موسمی سیلاب سے محفوظ ہو جائیں گے۔مہمند ڈیم کا منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہوگا یعنی 2024 تک یہ تیار ہوجائے گا۔

مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنا ایک قابل تحسین پیش رفت ہے۔ پشاور سے 48 کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے سوات پر اس ڈیم کی تعمیر کی فزیبلٹی رپورٹ 2000 میں مکمل کر لی گئی تھی مگر بعض وجوہ کی بنا پر یہ ڈیم پچھلے بیس سال تک تعطل کا شکار رہا۔

ہمارے ہاں اس سے قبل کئی آبی منصوبوں کے سنگ بنیاد رکھے جا چکے ہیں مثلًا دیامیر بھاشا ڈیم کا کم از کم تین بار سنگ بنیاد رکھا گیا لیکن وہ منصوبہ آج بھی سنگ بنیاد تک محدود ہے اس کے علاوہ بھی کئی بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کے منصوبوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے۔

پاکستان کی سلامتی پر کاری وار

تحریک انصاف کی حکومت میں مہمندڈیم میں جس طرح سے پیپرا سمیت دیگر قواعد کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ پانچ ماہ سے پورے میڈیا پر اس ضمن میں بحث جاری ہے ۔ کسی بھی ادارے نے اس ضمن میں اپناکردار اداکرنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔ ڈیم کا افتتاح ہو گیا ابھی تک کنسلٹنٹ فرم ہی ہائر نہیں ہوئی ہے۔

سول، انجینئرنگ اور الیکٹریکل ورک کی نگرانی اس نے ہی کرنی ہے جبکہ ان تینوں کاموں کی بولی کے عمل کی نگرانی بھی کنسلٹنٹ نے کرنی تھی۔ ایک اچھامنصوبہ بدانتظامی اور مخصوص مفادات کی نذر ہو گیا۔ یہ آنے والے وقت کا احتساب کیس ہے۔ اگر اس منصوبے کی بولی کا عمل اتناہی شفاف ہے تو پھر اسے پانچ ماہ پہلے ہی کیوں شروع نہیں کیاگیا؟ آپ کے دل میں چور اورخوف تھا تو آپ رکے، میڈیا کے شور کے بعد پی سی ون کے مطابق بولی نیچے لانے کا فیصلہ ہوا۔

بعد میں پی سی ون سے بھی بولی نیچے لائی گئی۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ فنانشل بولی نیچے آنے سے کیا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں حلال ہو جائیں گی؟ راتوں رات نیسپاک کو عارضی کنسلٹنٹ ازخود مقرر کرنے کا اختیار چیئرمین واپڈا یا واپڈا اتھارٹی نے کہاں سے کشید کیاہے۔

چیئرمین واپڈا صحافیوں کو کہتے پھر رہے ہیں کہ پی سی ون، ٹو ہونے ہی نہیں چاہئیں۔خدا جانے اس ملک کے سیاستدانوں، بیورو کریٹس کی اکثریت کو کیاہو گیا ہے، اتنے بڑے کنٹریکٹ کیا جس کو چاہیں گے دے دیئے جائیں گے۔ بات جمہوریت کی کرتے ہیں، ریاست مدینہ کی تسبیح ہر وقت گھماتے ہیں، حالات یہ ہیں۔ کیاریاست مدینہ میں ایسے ہی مشیروں کو نوازا جاتا تھا۔

ایک سابق چیف جسٹس نے کہاکہ میڈیا ڈیم کیخلاف بات نہیں کر سکتا۔ ان کا فرمان مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ میڈیاڈیم کی مخالفت نہیں کر رہا تھا، میڈیا تو ڈیم کے کنٹریکٹ پر بات کر رہا تھا۔ ڈیم قواعد و ضوابط کی بجائے سبے ضابطگی کے طلسم کی بھینٹ چڑھ گیا، کبھی وزارتوں میں صحافیوں کے داخلے بند کر دیے جاتے ہیں ،کبھی دھمکیاں ملتی ہیں اور اشتہارات بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جب کوئی جواب نہیں بن پاتا تو بلیک میلنگ کے الزامات لگادیئے جاتے ہیں۔

مہمند ڈیم کی افتتاحی تقریب میں وزیر باتدبیر کی بے محل اور فروعی تقریر پر سب سٹپٹا رہے تھے، وزیراعظم کو بھی کہنا پڑاکہ وہ کسی اور طرف نکل گئے تھے۔وزیراعظم خود بھی قوم کو کبھی چین تو کبھی کہیں گھماتے رہے، وہی گھسی پٹی کنٹینر والی تقریر تھی جس میں کبھی ان کے اسد عمر ہیرو ہواکرتے تھے۔ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کب قوم کی تربیت کرنا بند کریں گے۔

پی ٹی آئی کے یوم تشویش پر وہ تسلیم کر رہے تھے کہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، وہ مجبور ہیں۔ آپ یقین کریں کہ 25فیصد مہنگائی مصنوعی ہے جبکہ 25فیصد بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ عوام پر پاور سیکٹر کی نالائقی سے 1 کھرب روپے سے اوپر کا بوجھ پڑا ہے۔ اس ایک کھرب کے بوجھ کو ختم کرنے کیلئے عوام پر کئی کھرب کا تاجروں، ٹرانسپورٹروں، ذخیرہ اندوزوں اور صنعتکاروں نے مزید بوجھ ڈال دیا۔

روپیہ کی کوئی اوقات ہی نہیں رہی، تنخواہیں ازخود کم ہو گئیں۔ عام آدمی ہاتھ مل رہاہے کہ وہ کہاں جائے۔ وہ گیس کے بل بھرتا ہے تو بجلی کے رہ جاتے ہیں، بجلی کے بل بھرے تو بچوںکی فیس رہ جاتی ہے، فیسیں بھریں تو گھر کاکرایہ کہاں سے دیں۔ گھر کا کرایہ دیں تو کچن کہاں سے چلائیں، ڈاکٹر، بیماری تو کہیں پلان کاحصہ ہی نہیں ہوتی۔

ان حالات میں ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کو راتوں کو نیند کیسے آ جاتی ہے۔یہ سوال الگ سے پریشان کن اور تشویشناک ہے۔ مہمند ڈیم 800 میگاواٹ، 1.293 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوگا، تقریبا ساڑھے سولہ ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔

پشاور، نوشہرہ کو اضافی پانی ملے گا۔ یہ فوائد اپنی جگہ ، مگر اس کے باوجود کنٹریکٹ کو ایوارڈ کرنے میں گڑبڑ ہو گی تو پھرشور تو مچے گا۔ پھر معیشت اور نیب بھی اکٹھے نہیں چل سکتے۔ پھر دوسروں کے بھونڈے دلائل بھی، آپ کے بلاجواز دلائل کی طرح تسلیم کرنے ہوں گے۔افسوس ہے کہ مہمند ڈیم پر ایف ڈبلیو او اور اس کی طاقت والوں نے یہ مقدمہ ہی نہیں لڑا۔واپڈا میں مہمند ڈیم پر جو روایت ڈالی گئی ہے اس نے شفافیت کو برے طریقے سے مجروح کیا ہے۔ مہمند ڈیم کا افتتاح ایک محض سیاسی افتتاح ہے۔

ٹوٹل پروجیکٹ کا 30فیصد کنسلٹنٹ فرم کو جاناہے۔ ماشا اللہ سے ابھی تک کنسلٹنٹ فرم کی ہائرنگ ہوا میں معلق ہے۔ اس نے پورے پروجیکٹ کی کنسٹرکشن سمیت تمام کاموں کی نگرانی کرنی ہے، یہ کسی لطیفے سے کم نہیں۔ فیصل واوڈا اپنے چائے والے کو تقریر میں لا کر جو ڈرامے کر رہے ہیں اس سے قوم مطمئن ہونے والی نہیں۔ ڈیسکون کی چند مشینری آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس کنٹریکٹ کے تمام ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑاہونا ہوگا۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں