محرم الحرام کی حرمت وفضیلت

اسلامی کیلنڈر کا آغاز محرم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتا ہے۔ ’’محرم ‘‘کے معنی ہیں ’حرمت والا‘ اور ’’الحرام‘‘ کے معنی ’قابلِ احترام‘ کے ہیں۔ گویا محرم الحرام کے معنیٰ ’’حرمت والے قابلِ احترام مہینے‘‘ کے ہوئے۔ محرم الحرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے۔ حرمت والے مہینے کل چار ہیں، جن کے نام بالترتیب یہ ہیں:(۱): محرم الحرام، (۲): رجب ، (۳):ذوالقعدہ ، (۴):ذوالحجہ ۔ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کی بڑی حرمت تھی اور ان کو نہایت قابلِ احترام سمجھا جاتا تھا اور ان میں قتال کو سخت گناہ قرار دیا گیاتھا، اسلام کا آفتابِ ہدایت طلوع ہونے کے بعد ان چار مہینوں کی اہمیت اور احترام پہلے سے بڑھ گیا، قرآنِ کریم میں حق سبحانہ وتقدس نے سال کے بارہ مہینوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے حرمت والے مہینوں کو خصوصی طور پر بیان فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کے حکم میں جس دن اس نے پیدا کئے تھے آسمان اور زمین، ان میں چار مہینے ہیں ادب کے، یہی ہے سیدھا دین۔ [سورۃ التوبۃ)

’’تمام انبیاء علیھم السلام کی شریعتیں اس پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوتا ہے، اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہے، سابق شریعتوں میں ان مہینوں کے اندر قتل وقتال بھی ممنوع تھا‘‘ ۔ مزید آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ ان چار مہینوں کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا، ایک تو اس لئے ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لئے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہو گیا، مگر دوسرا حکم احترام وادب اور ان میں عبادت گزاری کا اہتمام اسلام میں بھی باقی ہے۔‘‘ (تفسیر معارف القرآن)

امام ابو بکر جصاصؒ اپنی تفسیر احکام القرآن میں فرماتے ہیں:’’ ان چار بابرکت مہینوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں جو شخص کوئی عبادت کرتا ہے اس کو بقیہ مہینوں میں بھی عبادت کی توفیق اور ہمت ہوتی ہے، اسی طرح جو شخص کوشش کرکے ان مہینوں میں اپنے آپ کو گناہوں اور برے کاموں سے بچا کر رکھتا ہے تو باقی سال کے مہینوں میں بھی اس کو ان برائیوں اور گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے اس لئے ان مہینوں سے فائدہ نہ اٹھانا ایک عظیم نقصان ہے۔‘‘

ان چار مہینوں کی حرمت کا مطلب یہی ہے کہ ان میں ظلم کرنا بنسبت دیگر مہینوں کے زیادہ شدید اور شنیع فعل ہے، جبکہ ان مہینوں میں عبادت وطاعت بجا لانا بنسبت دیگر مہینوں کے زیادہ افضل عمل ہے۔

ماہ محرم الحرام کے روزوں کو حدیث مبارکہ میں رمضان کے بعد افضل ترین روزے قرار دیا گیا ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ھریرہؓ نے جنابِ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ: ’’رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینہ ’’محرم‘‘ کے روزے ہیں۔‘‘[رقم الحدیث: ۲۸۱۲، کتاب الصیام]

loading...

اللہ کا مہینہ کہنے سے اس ماہ کی خصوصی فضیلت کو ظاہر کرنا مقصود ہے، جیسا کہ بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر، ناقۃ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی۔ وگرنہ ظاہر ی بات ہے کہ تمام مہینے اور دن اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہیں، اور اسی کے حکم سے چلتے ہیں۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں صراحۃً یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ مہینہ روزوں کے لئے افضل مہینہ ہے۔ ملا علی القاریؒ مرقاہ المفاتیح میں ارشاد فرماتے ہیں کہ کھلی ہوئی بات یہی ہے کہ اس حدیث شریف سے محرم کے مہینے کے عام روزے مراد ہیں، لہٰذا اس مہینے میں کسی دن بھی روزہ رکھ لیا جائے تو افضل ماہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ ترمذی شریف میں منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے دریافت کیا کہ ماہ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپؓ نے جو اب میں ارشاد فرمایا:’’ میں نے صرف ایک شخص کو اس بارے میں جنابِ رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے ہوئے سنا تھا اور میں اس وقت آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا،اُس شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول ! ماہِ رمضان کے روزوں کے بعد مجھے کس مہینے میں روزے رکھنے کا حکم ہے؟ آپ ؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا : ’’ماہِ رمضان کے بعد اگر تم روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہِ محرم کے روزے رکھو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ ہے جس کے ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم (یعنی بنی اسرائیل) کی توبہ قبول فرمائی اور اسی دن دوسرے لوگوں کی بھی توبہ قبول فرماتا ہے۔‘‘(جامع الترمذی، حدیث:۶۷۲، کتاب الصوم)

ان احادیثِ مبارکہ میں محرم کے مہینے کے روزوں کے عمومی فضائل بیان فرمائے گئے ہیں، دس محرم یومِ عاشوراء کا روزہ ابتداء اسلام میں فرض تھا، بعد میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی لیکن اس کی فضلیت کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں متعدد فضائل مذکور ہیں۔ چنانچہ مسلم شریف میں حضرت ابو قتادہؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے:ترجمہ: ’’میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء(یعنی دس محرم) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔‘‘[رقم الحدیث)

احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دس محرم کا روزہ مکہ مکرمہ میں بھی رکھا کرتے تھے اور مدینہ منورہ ہجرت کے بعد بھی آپؐ نے اس کا اہتمام فرمایا۔ لیکن چونکہ مدینہ منورہ کے یہود بھی اس دن کی تاریخی اہمیت اور موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو یہود سے نجات ملنے کی وجہ سے اس دن روزہ رکھا کرتے تھے تو آ پ ؐ نے ارادہ فرمایا کہ آئندہ سال ہم دس تاریخ کے ساتھ نو تاریخ کا روزہ بھی شامل کر کے یہود کی مخالفت کریں گے۔ لیکن اگلا برس آنے سے قبل رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو گیا۔ (صحیح مسلم براویتِ ابن عباسؓ) مسند احمد میں حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ جنابِ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تم عاشوراء کو روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اور اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو۔‘‘

(Visited 57 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں