یوم دفاع: انسانی درندوں سے اپنا دفاع کرنا سیکھیں

صلاح الدین

تھکے حوصلوں کی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں،،،بولتے لبوں کی باتیں رک چکی ہیں،، بہتے آنسووں کا ربط بہک گیا ہے،، وہ دیکھو باپ آیا ہے،، نکالو سرد خانے سے تازہ لاش،،، مرچ مصالحے میڈیا لگا دے گا،،،، ارے بار بار چلاو اس کی چوری کی فوٹیج،،، زرداری صاحب ٹھیک سے جیل میں ہیں ناں! اچھا نواز شریف کا سناو، میڈیکل بورڈ ٹھیک سے چیک اپ کر رہا ہے ناں !

اگر ان لوگوں نے بھی اے ٹی ایم سے پیسے نکالے ہوتے تو بھئی پھر دیکھتے تم پولیس زردادی کے جسم کو بھی ایسے ہی جلاتی،، نواز شریف کے جسم کو بھی نوچا جاتا،،،، مگر کیوں؟؟؟ وہ اسلئے بچ گئے کیونکہ انہوں نے کیمرے کو منہ نہیں چڑایا تھا ۔

ارے ان روٹی کے لئے ترستے بھوکوں کو سمجھاو کہ آرام سے چوری کریں، اتنی خاموشی سے ناجائز کام کریں کہ جائیدادیں بیرون ملک منتقل بھی ہوجائیں اور آپ مظلوم ہونے کا دعوی کر کے عوام میں مقبول بھی رہیں ۔

ارے صلاح الدین ! تم ماسک پہن لیتے ناں! یہ دیکھو تمہارا باپ اب کچھ نہیں کہہ رہا ۔۔۔ بابا جی کچھ تو بولیں! کم از کم ان کو کوسیں تو! آپ کا اعتماد ٹوٹا ہے مجھے معلوم ہے،، ہاں مجھے بھی پتہ ہے کہ اس ننگی ریاست کو شرم نہیں آئے گی،، جی مجھے اندازہ ہے کہ سینکڑوں معصوم جانیں ایسے ہی درندگی کا نشانہ بنیں ،،، ہاں مجھے یاد ہے کہ ہم نے ہی کہا تھا کہ پولیس ریفارمز نئے پاکستان میں بارش کا پہلا قطرہ بن کر آئیں گی اور ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچ جائیں گی،، باپ کا بازو قائم رہے گا لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ امیدوں کے سر سبز گلستان میں خون سے پھول مسلے جائیں گے۔

Photo: File

مجھے کی پتہ تھا محافط ہی گریبان کو آنے لگیں گے ،،، مجھے کیا معلوم تھا کہ انجمن کا مالی اپنے ہی پودوں سے منہ موڑ لے گا،،، یہ نشان جو تمہارے جسم پر ہیں یہی میرے دل پر نقش ہوچکے ہیں،، کتنی بے دردی سے ضرب لگائی ہوگی،، تمہاری آہوں پر بھی ان کو ترس نہ آیا.

ارے حکمرانوں! ہمیں روز نیب کی بڑی بڑی خبروں سے نہ بہلاو،، منی لانڈرنگ کیسز کی انکوائریوں میں نہ گھمایو،،، میرے لوگوں کو بچاو، بڑے بڑے شہروں کی باتیں چھوڑو،، یہ چھوٹی کال کوٹھری میں ہونے والی کرپشن کو پکڑو،،، کوئی سن رہا ہے مجھے؟؟؟؟؟ کوئی ہے؟؟؟؟؟ ہائے صلاح الدین کا باپ اب اپنے پاگل بیٹے کی قبر پر اس کی حماقت کو روئے یا پھر قبرستان میں بیٹھے انسانیت کو دفنا کر اسی ریاست سے بدلہ لے ۔

کشمیر کی اَن کہی کہانی !

ہاں صحیح سوچ رہے ہو تم،،، وہ بدلہ لینے کے قابل نہیں ہے ۔۔ تم اسے بھی اپنے لمبے جوتوں کے نیچے مسل دو گے،،، اور انصاف کرنے والے فیصلہ محفوظ کر لیں گے ۔ ہمیں بھلا بیرونی مخالفین کی کیا ہی ضرورت؟ ہمارے اپنے ہی ہمیں مار دیتے ہیں. وہ تو شاید آسان موت کے حق میں ہوں مگر یہاں تو موت بھی اذیت کی ہے ۔

بم دھماکوں میں تو یکدم جان نکل جاتی ہے لیکن میرے محافظ تڑپا تڑپا کر مارتے ہیں تاکہ ان کے درندہ ہونے پر کسی کو شک نہ ہو ۔۔۔ مرد ہیں نا آخر ۔۔ اس سال یوم دفاع پر آپ غیر انسانی نظام سے اپنا دفاع کرنا سیکھیں ۔۔۔فوج کو خراج تحسین پیش ہمیشہ سے ہمیشہ تک ہوتا ہی رہے گا

دعا مرزا

(Visited 101 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں