کرتارپور راہداری… خواب حقیقت میں بدل گیا

کرتارپور راہداری
میں صبح ساڑھے چار بجے اٹھ گیا تھا، امی بھی اٹھ چکی تھیں اور تہجد کے نوافل ادا کرنے کےلیے وضوکی تیاری کررہی تھیں۔ مجھے اتنی جلدی اٹھا دیکھ کر حیرانگی سے پوچھنے لگیں، خیر تو ہے آج کہیں جانا ہے؟ میں نے بتایا کہ ہاں آج کرتارپور جارہا ہوں۔ وہاں پاکستان اوربھارت نے فائنل معاہدے پردستخط کرنے ہیں۔ جب صبح کی اذان شروع ہوئی تو میں بھی تیار ہوچکا تھا۔ اس دوران آفس سے ظہور احمد جو ہمارے سینئر کیمرہ مین ہیں، ان کی کال بھی آچکی تھی کہ وہ آفس پہنچ گئے اور باقی لوگ بھی آگئے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ تھوڑی دیرتک آفس سے نکلیں اور مجھے راستے سے لے لیں، کیونکہ ہم نے نارووال کرتارپور کی طرف جانا ہے۔ شہر کی ٹریفک سے بچنے کےلیے لاہور رنگ روڈ کا راستہ زیادہ بہتر ہے۔ مجھے میرا چھوٹا بھائی قائداعظم انٹرچینج کے قریب ڈراپ کرگیا۔ آفس کی گاڑی وہاں پہلے ہی موجود تھی۔

یہاں سے ہمارا سفر کرتارپور کی طرف شروع ہوگیا۔ مگر شاید قدرت کو آج کچھ اور ہی منظور تھا، رنگ روڈ پر محمود بوٹی انٹرچینج کے قریب پہنچے تو گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ گاڑی میں اضافی ٹائر موجود تھا، اسٹاف ممبرز نے چند منٹوں میں ٹائر تبدیل کرلیا۔ جی ٹی روڈ پر ہم نے ٹائر کو پنکچر لگوا لیا کہ کہیں دوسرا ٹائر بھی پنکچر نہ ہوجائے اور ہمارے لیے مشکل پیدا ہو۔ کرتارپور جانے کےلیے دو راستے ہیں، ایک کالا خطائی روڈ، یہ سنگل روڈ ہے، چند ایک مقامات پر سڑک خراب ہے لیکن مجموعی طور پر سڑک کی حالت بہتر ہے۔ اگر آپ لاہور سے کرتارپور جانا چاہتے ہیں تو کالا خطائی روڈ قریب پڑے گا۔ اسی روڈ پر نارووال روڈ سے پہلے گجرچوک آتا ہے۔ وہاں سے دائیں طرف مڑ جائیں۔ آپ نارووال شہر جانے کے بجائے بائی پاس کے ذریعے شکرگڑھ روڈ پر پہنچ جائیں گے اور یہاں سے گوردوارہ دربار صاحب چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جبکہ دوسرا راستہ مریدکے سے جاتا ہے۔ مریدکے شہر سے دائیں جانب نارووال کی طرف سڑک جاتی ہے۔ یہ سڑک کچھ مقامات پر دو رویہ ہے۔ چند مقامات پر کافی خراب بھی ہے، تاہم یہ بھی آپ کو نارووال شہر سے گزارتی ہوئی کرتارپور صاحب لے جائے گی۔

ہم جب مریدکے سے نارووال کی طرف جارہے تھے تو گاڑی کا وہی ٹائر ایک بار پھر پنکچر ہوگیا، جسے پہلے پنکچر لگوایا تھا۔ اب میری پریشانی بڑھنے لگی۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ صبح ساڑھے 9 بجے تک وہاں پہنچ جائیں۔ مجھ سمیت کئی اور صحافی بھی آج وہاں آرہے تھے۔ زیادہ تر لاہور سے جارہے تھے جبکہ چند صحافی اسلام آباد سے آرہے تھے۔ جب ہم نارووال پہنچے تو تقریباً 8 بج چکے تھے۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی آہستہ چلاتے ہوئے کرتارپور ہی جانے دیں، واپسی پر پنکچر لگوالیں گے۔ اس نے ایسا ہی کیا اور تقریباً ساڑھے 8 بجے تک ہم کرتارپور پہنچ گئے۔

آج یہاں کا نقشہ بدلا ہوا تھا۔ میں اس جگہ تین، چار مرتبہ پہلے بھی آچکا تھا۔ آخری بار اس وقت گیا تھا جب وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار وہاں جانے کی کوشش کی، مگر متعلقہ اداروں نے اجازت نہیں دی تھی۔ مین سڑک سے جو ذیلی سڑک گوردوارہ دربار صاحب کی طرف مڑتی ہے، وہاں پولیس اور رینجرز کا ناکہ لگا تھا۔ انہیں اپنی شناخت کروا کر چند فرلانگ آگے گئے تو ایک اور ناکہ آگیا۔ انہوں نے لسٹوں میں ہمارا نام چیک کیا اور گاڑی کی پارکنگ کےلیے رہنمائی کی۔ تیسرے ناکے پر ہمیں دربارصاحب سے تقریباً 500 میٹر دور اس جگہ گاڑی لے جانے کی ہدایات دی گئی جہاں کنسٹرکشن کمپنی نے اپنے کیمپ لگا رکھے ہیں، اور یہاں مشینری کھڑی ہے۔ ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی کئی چینلز کی ٹیمیں پہنچ چکی تھیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ وہ صبح چار بجے ہی یہاں پہنچ گئے تھے۔ اس وقت تو یہاں کوئی ناکہ بھی نہیں تھا۔ وہ پہلے سیدھے زیرولائن کے قریب اس مقام پر پہنچ گئے تھے جہاں دستخط کیے جانے کی تقریب ہونا تھی، لیکن وہاں سوائے رینجرز کے جوانوں کے کوئی موجود نہیں تھا۔ اس وجہ سے وہ واپس لوٹ آئے کہ شاید تقریب کہیں اور ہونی ہے۔

تقریباً 9 بجے کے قریب منتظمین یہاں پہنچنا شروع ہوگئے۔ ہمیں خوشخبری سنائی گئی کہ آپ لوگوں کےلیے ناشتے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ قبل اس کے ہم سرکاری ناشتے پر ہاتھ صاف کرتے، چند دوستوں نے چائے پینے کا پروگرام بنایا۔ جس گراؤنڈ میں تعمیراتی کمپنی کی مشینری کھڑی تھی وہاں مزدوروں کےلیے ایک چھوٹا سا اسٹال چائے والے کا بھی تھا۔ چند فرلانگ دور ہم اس اسٹال پر پہنچ گئے اور چائے پینے لگے۔ یہاں موجود مزدوروں سے اس منصوبے سے متعلق بات بھی ہوتی رہی۔ سب کی مختلف آرا تھیں لیکن اس بات پر سب خوش تھے کہ پاکستان سکھوں کےلیے اتنا بڑا قدم اٹھانے جارہا ہے۔ ایک مزدور نے کہا کہ اس راستے سے قادیانیوں کو رسائی ملے گی، وہ بھی اپنی سرگرمیاں تیز کرسکتے ہیں۔ ایک اور مزدور نے کہا بھارت اپنی ایجنسیوں کے بندے یہاں بھیج سکتا ہے۔ ہم چند منٹ تک ان کی گفتگو سنتے رہے اور چائے ختم کرکے واپس اس جگہ آگئے جہاں ہماری گاڑیاں پارک کی گئی تھیں۔ اسی دوران ناشتے کی کال بھی آگئی۔ ناشتے میں سموسے، پکوڑے، چائے اور ساتھ میں جلیبیاں تھیں۔ صبح سات، آٹھ بجے کے آئے ہوئے لوگوں نے چند منٹوں میں ناشتے کے برتن صاف کردیئے۔

تقریباً 12 بجے کے قریب دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل سمیت دیگر لوگ بھی یہاں پہنچ گئے اور پھر ہمیں خوشخبری سنائی گئی کہ ہم سب لوگ آگے زیرولائن تک جائیں گے۔ ڈی ایس این جی یہاں ہی روکنا ہوں گی، کیونکہ اس ایونٹ کی لائیو کوریج کی ذمے داری پی ٹی وی کوسونپی گئی تھی۔ ہم مختلف گاڑیوں میں سوار ہوگئے۔ میجر خاور ہماری رہنمائی کررہے تھے۔ چند منٹوں میں ہم زیرولائن کے قریب پہنچ گئے۔ دس ماہ کے مختصر عرصے میں یہاں سب کچھ بدل چکا تھا۔ صاف ستھری کشادہ روڈ، دریائے راوی کے اوپر بنایا گیا پل، امیگریشن سینٹر اور سب سے بڑھ کر گوردوارہ دربار صاحب کی وسیع وعریض اور دلکش عمارت، ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے ہم دور کھڑے تاج محل کا نظارہ کررہے ہیں۔

گوردوارہ دربار صاحب میں ہونے والی توسیع، راہداری سے متعلق تفصیل کا بعد میں ذکر کروں گا، پہلے آپ کو معاہدے پردستخط کیے جانے کی تقریب کا احوال بتانا چاہتا ہوں۔ زیرولائن پر پاکستان اور بھارت نے اپنے اپنے گیٹ لگائے ہیں۔ درمیان میں نومین لائن ہے۔ یہاں ایک ٹیبل پر معاہدے کی دستاویزات رکھی گئی تھیں۔ ٹیبل آدھی پاکستان اور آدھی بھارت کی حدود میں تھی۔ ٹیبل کے ساتھ دو کرسیاں تھیں۔ ایک پاکستانی سائیڈ میں، دوسری بھارتی سائیڈ میں۔ چند منٹ کے انتظار کے بعد دونوں ملکوں کے حکام نے اس معاہدے پر دستخط کردیئے۔ پاکستان کی طرف سے دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل، جبکہ بھارت کی طرف سے وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری نے دستخط کیے۔ اس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ معاہدہ دین اسلام کی دیگر مذاہب کےلیے احترام کی تعلیمات پر مبنی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔ جب کہ 9 نومبر کو وزیراعظم عمران خان منصوبے کا افتتاح کریں گے اور تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ یاتریوں کےلیے کوئی فیس نہیں، صرف 20 ڈالر سروس چارجز کی مد میں وصول کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آئی اور نہ آئے گی۔ کرتارپور معاہدے کے تحت روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔ متعین کردہ تعداد میں انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر نارووال کرتارپور آسکیں گے، جب کہ سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

معاہدہ کے مطابق سکھ یاتریوں کو موثر بھارتی پاسپورٹ پر کرتارپور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم اب یہ شرط ختم کردی گئی ہے اور بھارتی شہری کسی بھی موثر قومی شناختی دستاویزکے ذریعے آسکیں گے۔ بیرون ملک رہائش پذیر سکھ یاتریوں کو بھارتی اوریجن کارڈ پر سہولت کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی، جب کہ بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کی فہرست 10 دن قبل پاکستان کے حوالے کرے گی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعصابی جنگ !

اب دوپہرکا وقت ہوچکا تھا۔ ہم لوگ واپس گوردوارہ دربار صاحب کی طرف لوٹ آئے۔ میں اس شاندار اور مذہبی مقام کو دیکھنا چاہتا تھا۔ یہاں ہم نے چند تصاویر بنوائیں اور پھر واپس اسی جگہ آگئے، جہاں ہماری گاڑیاں پارک تھیں۔

اب جبکہ کرتارپور راہداری کھلنے جاری ہے تو پاکستان نے بھارت سے آنے والے پہلے جتھے سے سروس چارجز نہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے اور پاسپورٹ کی شرط بھی ختم ہوچکی ہے۔ کرتارپور راہداری منصوبے پر کام کرنے والے حکام کے مطابق دنیا میں سکھوں کے سب سے بڑے گوردوارے شری دربار صاحب کرتارپور کی توسیع، آرائش و تزئین اور راہداری کی تعمیر کے پہلے مرحلے کا کام 100 فیصد مکمل ہوگیا ہے۔ امیگریشن سینٹرکے قریب 150 فٹ اونچا سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ بھارتی مہمانوں کو زیرولائن سے دربار صاحب تک لانے کےلیے بسیں بھی تیار ہیں۔

پاکستان نے 28 نومبر 2018 میں کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا اور اب ایک سال مکمل ہونے سے قبل یہاں کارسیوا کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ اب یہ دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ ہے۔ گوردوارے کا کل رقبہ 44 ایکڑ پرمشتمل ہے، 10 ایکڑ رقبے پر کورٹ یارڈ بنائی گئی ہے، جبکہ ایک لاکھ 50 ہزارمربع فٹ پر بارہ دری، 28 ہزار 190 مربع فٹ پر لنگر ہال بنایا گیا ہے، جہاں ایک وقت میں 2 ہزار افراد بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ مہمان خانہ 1 لاکھ 15 ہزار 880 مربع فٹ پر مشتمل ہے۔ امیگریشن سینٹرکا رقبہ 52 ہزارمربع فٹ ہے، جہاں 76 امیگریشن کاؤنٹر بنائے گئے ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید 50 کاونٹر بنائے جائیں گے۔

گوردوارہ دربا رصاحب سے چند فرلانگ کے فاصلے پر اور پاک بھارت زیرولائن کے قریب امیگریشن سینٹر کی عمارت بھی مکمل ہے اور یہاں امیگریشن اور کسٹم کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ امیگریشن سینٹر کے سامنے 150 فٹ اونچے پول پر پاکستان کا قومی پرچم لہرا رہا ہے، جسے بھارت کے ڈیرہ بابا نانک سے بھی آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔

بھارت سے جب یاتری زیرولائن گیٹ سے پاکستان میں داخل ہوں گے تو تقریباً 270 میٹر کے فاصلے پر پاکستان امیگریشن ٹرمینل ہے۔ یہاں داخل ہونے پر سب سے پہلے یاتریوں کو 20 ڈالرانٹری فیس جمع کروانا ہوگی۔ اس کے بعد اپنی شناختی دستاویز کے ذریعے انٹری کروائیں گے اور انہیں ایک شناختی کارڈجاری ہوجائے گا۔ بھارتی یاتریوں کو امیگریشن ٹرمینل سے گوردوارہ دربارصاحب تک پہنچانے کےلیے بسیں موجود ہوں گی۔ تقریباً دو کلومیٹر کا یہ فاصلہ اگر سکھ یاتری پیدل بھی طے کرنا چاہیں تو انہیں اجازت ہوگی۔

گوردوارہ صاحب کے گرنتھی سردار گوبند سنگھ نے بتایا کہ وہ اپنی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔ وہ کیا ان کا پورا خاندان ہمیشہ کےلیے خوش کہلائے گا کہ ان کی سیوا کے دوران گوردوارہ دربار صاحب کو توسیع ملی، اور یہ راہداری کھلی ہے۔

گوردوارہ صاحب کی عمارت کو سفید رنگ کیا گیا ہے۔ صحن اور عمارت میں سفید پتھر استعمال کیا گیا ہے، جبکہ گولڈن رنگ سے ڈیزائننگ کی گئی ہے۔ گوردوارہ صاحب، اطراف کی عمارت، دریائے راوی پر بنائے گئے پل اور امیگریشن سینٹر کی عمارتوں کے ڈیزائن میں سکھوں کے مذہبی عقائد اور اسٹرکچر کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

گوردوارہ صاحب کے داخلی دروازوں پر اسکینرز لگائے گئے ہیں۔ سامان کی چیکنگ کےلیے جدید اسکینرز ہیں۔ یہ ابھی اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے، دوسرے مرحلے میں یہاں ہوٹل اور شاپنگ مال بھی بنایا جائے گا۔

  بشکریہ ایکسپریس نیوز 

(Visited 39 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں