ملک ریاض کے پیسے کس کو ملیں گے؟

Loading...

برطانوی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے مالک اور معروف بزنس مین ملک ریاض کے )ون ہائیڈ پارک کی پراپرٹی کی مالیت( انیس کروڑ پاؤنڈ پاکستانی حکومت کے حوالے کردیے ہیں۔

ملک ریاض کی انگلینڈ کے شہر لندن میں اس جائیداد کی تحقیقات برطانوی قانون ’ان ایکسپیلینڈ ویلتھ آرڈر‘ (ایسی دولت جس کی وضاحت نہ کی گئی ہو) کے تحت کی گئی تھی۔

اس کاروائی سے بظاہر ثابت ہوا ہے کہ ملک ریاض برطانوی حکومت کے سامنےلندن کے مہنگے ترین علاقے میں خریدی گئی جائیداد کو جائز ذرائع کے ذریعے خریدی گئی جائیداد  ثابت کرنے میں ناکام رہے اور اس جائیداد کی مالیت کے برابر رقم پاکستان کو دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ رقم پاکستان سے ہی برطانیہ منتقل کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے برطانوی حکومت اب مذکورہ جائیداد کی مالیت کے برابر رقم پاکستانی حکومت کو دے رہی ہے۔

پاکستانی حکومت کو برطانوی حکومت کی جانب سے ملنے والی اس رقم سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ رقم پاکستان سے ہی برطانیہ منتقل کی گئی تھی۔ جس کے ذرائع ملک ریاض برطانوی ادارے ‘نیشنل کرائم ایجنسی’ کے سامنے ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ علاوہ ازیں یہ ابھی تک نہیں پتہ کہ اس پراپرٹی کو خریدنے کے لیے درکار رقم ملک ریاض نے کن ذرائع کے ذریعے برطانیہ منتقل کی تھی۔

طلبہ کے مظاہرے اور مطالبات

حکومت کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ اس جائیداد کا تعلق حسن نواز سے تھا۔ جبکہ حسن نواز کے مطابق انہوں نے یہ جائیداد بذریعہ بنک مورٹگیج لی تھی اور انہوں نے اس گھر کو ملک ریاض سے یکمشت ادائیگی لے کر انہیں فروخت کردیا۔ جس کے بعد ان کا اس جائیداد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

loading...

اس سارے کیس میں ایک انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے ملنے والی اس رقم کو ملک ریاض کی طرف سے سپریم کورٹ میں بطور جرمانہ جمع کروادیا جائے گا۔ جو کہ بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے ملک ریاض کو بطور جرمانہ جمع کروانے کا حکم دیا ہوا ہے۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ وفاقی حکومت کس حیثیت میں اس رقم کو ملک ریاض کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروانا چاہتی ہے۔ کیا ملک ریاض حکومت میں ہیں یا حکومت، ملک ریاض کی ہے۔

بجائے اس کے کہ حکومت ملک ریاض سے تحقیقات کرے کہ یہ رقم پاکستان سے باہر منتقل کیسے ہوئی اور کن ذرائع سے ملک ریاض نے یہ رقم کمائی اور کیا اس پر ٹیکس دیا گیا۔ وفاقی حکومت ملک ریاض کی طرف سے برطانوی حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم کو سپریم کورٹ میں جمع کروارہی ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

نوید نسیم

(Visited 2,249 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں