کشمیریوں کا حق خودارایت:عالمی برادری کی اجتماعی ناکامی

مقبوضہ کشمیر

پاکستان نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تحقیقات کیلئے انسانی حقوق کے عالمی ادارے کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کامطالبہ کیا ہے ۔ کشمیریوں کے یوم حق خودارادیت کے موقع پر ایک ٹویٹ میں دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں خون ریزی کا جاری سلسلہ اور کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا عالمی برادری کی اجتماعی ناکامی ہے.

ترجمان نے کہاکہ پاکستان حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں کشمیریوں کی سیاسی ،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔علاوہ ازیں سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت ہرفورم پرمسئلہ کشمیر اجاگرکررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے عوام اس مسئلہ کو اپنی خواہشات اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرناچاہتے ہیں۔

ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں بھی مقبوضہ کشمیرمیں بے گناہ کشمیریوں پربھارت کے مظالم کو بے نقاب کررہی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت سے خطرہ مستقل ہے اسی لیے بطور پروفیشنل آرمی اس کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔دریں اثناء نجی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج کے ہمہ وقت تیار رہنے کی وجہ کوئی جھوٹا بھارتی دعویٰ یا بیان بازی نہیں، مسلح افواج سرحد پار سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی میڈیا پر نظر آنے والے جنگی جنون کا سبب اس کی اندرونی سیاسی صورتحال ہے ۔

کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد کو 70 سال مکمل ہوگئے لیکن یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور کشمیری عوام روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں لیکن عالمی ادارہ بھارت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے جبکہ باقی دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں بھارتی فورسز کا سرچ آپریشن، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال

مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر اب خود بھارتی اخبارات بھی بولنا شروع ہو گئے ہیں۔گزشتہ روز بھارت کے ایک نامور انگریزی اخبار ‘دی ٹیلی گراف’ نے بھی اس موضوع کو اپنی شہ سرخی بنایا اور ریاست کیرالہ میں ہندو انتہاپسندوں کے ہنگامے کی ایک تصویر شائع کی اور لکھا کہ ‘کشمیر میں ہم انہیں مارتے ہیں۔کیرالہ میں ہم انہیں عقیدت مند کہتے ہیں’۔نریندر مودی کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حالیہ دور اقتدار میں بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی سرگرمیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوج کے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی پر وہاں کی نامور شخصیات جیسا کہ سابق بھارتی چیف جسٹس مرکنڈے کٹجو اور اداکار نصیرالدین شاہ بھی مودی حکومت کی جانب سے انتہاپسند ہندوؤں کو کھلی چھوٹ دیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔’’دی ٹیلی گراف‘‘ نے پسچیم بنگال ( مغربی بنگال) سے شائع ہونے والے اپنے شمارے کی شہ سرخی میں کشمیر اور جنوبی کیرالہ کی ریاستوں میں پولیس کے رویوں میں پائے جانے والے فرق کو بیان کیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے کیرالہ کے سبریمالہ مندر میں خواتین کو داخلے کی اجازت دئیے جانے کے بعد سے ریاست میں حالات کشیدہ ہیں۔ٹیلی گراف نے اپنی شہ سرخی”کشمیر میں ہم انہیں مارتے ہیں۔کیرالہ میں ہم انہیں عقیدت مند کہتے ہیں”کے ساتھ انتہا پسند جماعت سنگ پریوار کے احتجاج کی تصویر بھی شائع کی ہے۔اخبار نے ہیڈلائن کے ساتھ اپنے مضمون میں بھی ‘سنگ پریوار ‘کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مندر میں خواتین کے داخلے پر احتجاج اور زبردستی شہر بند کرانے کو ‘غنڈہ گردی ‘قرار دیا۔

مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر پر قابض بھارتی افواج کی ظالمانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بھارتی فوج نے جنوبی کشمیر کے قصبے ترال کے ضلع پلوامہ میں نام نہاد آپریشن کی آڑ میں ریاستی دہشت گردی کی ایک اورکارروائی کرکے چار کشمیری نوجوانوں کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔ کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر گلشن پور اور بٹگند کے علاقوں میں کشمیری شہریوں نے احتجاجاً گھروں سے نکل کر قابض بھارتی فوج اور بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔بھارتی فوج نے انہیں منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی اور آنسو گیس کا بھی بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔

اس صورتحال کے بعدانتقامی کارروائی کرتے ہوئے قابض بھارتی انتظامیہ نے ترال اونتی پور اور پامور کے علاقوں میں انٹر نیٹ سروس بھی معطل کرکے یہ رابطے منقطع کردیئے۔ یہی نہیں بلکہ بھارتی فوج نے اننت ناگ کے علاقے شانگس کو محاصرے میں لیکر کشمیری مسلمانوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ بھارتی فوج کی جانب سے یہ ظالمانہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر کے کشمیری 5 جنوری کو یوم حق خود ارادیت منانے کی تیاریاں کررہے تھے۔ واضح رہے کہ5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے بھارت کے کہنے پر کشمیریوں کو استصواب کے ذریعے حق خود ارادیت دینے کا فیصلہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا۔

مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے بھارت کی ہٹ دھرمی کی مثالیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے مظالم نے پوری دنیا کے سامنے اس کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے لیکن اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد میں بھارتی فوج کے ہاتھوں اب تک ہزاروں بچے یتیم خواتین بیوہ اور والدین نوجوان بچوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ خواتین کی عزتیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ کاروباری مراکز تعلیمی ادارے اور دفاتر بند ہونے سے زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔

ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے بعد کشمیری مسلمانوں کی جان مال وعزت و آبرو کی حفاظت اور دیگر بنیادی حقوق کی پامالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارتی فوج مظالم کی نئی تاریخ رقم کررہی ہے۔ بھارتی فوج کی پر تشدد کارروائیوں کے بعد کشمیری مسلمانوں نے پرامن جدجہد آزادی کی بجائے ہتھیار اٹھاکر جہاد کرنیکا فیصلہ کیا تھا۔ بھارتی افواج کی حالیہ دہشت گردی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے لیکن بھارتی حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ آزادی کشمیری مسلمانوں کا بنیادی حق ہے۔ وہ انشاء اللہ یہ حق حاصل کرکے رہیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں