بھنگن

مائی نانکی

’’پرے ہٹیے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’مجھے آپ سے بوآتی ہے۔ ‘‘

’’ہر انسان کے جسم کی ایک خاص بو ہوتی ہے۔ آج بیس برسوں کے بعد تمہیں اس سے تنفر کیوں محسوس ہونے لگا؟‘‘

’’بیس برس۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ میں نے اتنا طویل عرصہ کیسے بسر کیا ہے۔ ‘‘

’’میں نے کبھی آپ کو اس عرصے میں تکلیف پہنچائی؟‘‘

’’جی کبھی نہیں۔ ‘‘

’’تو پھر آج اچانک آپ کو مجھ سے ایسی بو کیوں آنے لگی جس سے آپ کی ناک جو ماشاء اللہ کافی بڑی ہے، اتنی غضب ناک ہورہی ہے؟‘‘

’’آپ اپنی ناک تو دیکھیے۔ پکوڑاسی ہے۔ ‘‘

’’میں اس سے انکار نہیں کرتا۔ پکوڑے، تم جانتی ہو، مجھے بہت پسند ہیں۔ ‘‘

’’آپ کو تو ہر واہیات چیز پسند ہوتی ہے۔ کوڑے کرکٹ میں بھی آپ دلچسپی لیتے ہیں۔ ‘‘

’’کوڑا کرکٹ ہمارا ہی تو پھیلا یا ہوا ہوتا ہے۔ اس سے آدمی دلچسپی کیوں نہ لے۔ اور تم جانتی ہو، آج سے دس سال پہلے جب تمہاری ہیرے کی انگوٹھی گم ہو گئی تھی تو اسی کوڑے کے ڈھیر سے میں نے تمہیں تلاش کرکے دی تھی۔ ‘‘

’’بڑا کرم کیا تھا آپ نے مجھ پر۔ ‘‘

’’بھئی کرم کا سوال نہیں۔ فارسی کا ایک شعر ہے ؂ خاکساراں را بہ حقارت منگر توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشند

’’میں خاک بھی نہیں سمجھی۔ ‘‘

’’یہی وجہ ہے کہ تم نے ابھی تک مجھے نہیں سمجھا۔ ورنہ بیس برس ایک آدمی کو پہچاننے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ ‘‘

’’ان بیس برسوں میں آپ نے کون سا سکھ پہنچایا ہے مجھے؟‘‘

’’تم دکھ کی بات کرو۔ بتاؤ میں نے کون سا دکھ تمہیں اس عرصے میں پہنچایا؟‘‘

’’ایک بھی نہیں۔ ‘‘

’’تو پھر یہ کہنے کا کیا مطلب تھا۔ ان بیس برسوں میں آپ نے کون سا سکھ پہنچایا ہے مجھے؟‘‘

’’آپ میرے قریب نہ آئیے۔ میں سونا چاہتی ہوں۔ ‘‘

’’اس غصے میں نیند آجائے گی تمہیں؟‘‘

’’خاک آئے گی۔ بہر حال۔ آنکھیں بند کرکے لیٹی رہوں گی اور۔ ‘‘

’’اور کیا کریں گی؟‘‘

’’لیٹی اس روز پر آنسو بہاؤں گی جب میں آپ کے پلّے باندھی گئی۔ ‘‘

’’تمہیں یاد ہے وہ دن کیا تھا۔ سن کیا تھا۔ وقت کیا تھا؟‘‘

’’میں کبھی وہ دن بھول سکتی ہوں۔ خدا کرے وہ کسی لڑکی پر نہ آئے۔ ‘‘

’’تم بتا تو دو۔ میں تمہاری یادداشت کا امتحان لینا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’اب آپ میرا امتحان کیا لیں گے۔ پرے ہٹیے۔ مجھے آپ سے بو آرہی ہے۔ ‘‘

’’بھی حد ہو گئی ہے۔ تمہاری اتنی لمبی ناک جو کہیں ختم ہونے ہی میں نہیں آتی، اس کو آخر کیا ہو گیا ہے۔ مجھ سے تو اس کو بڑی بھینی بھینی خوشبو آنا چاہیے۔ تم نے مجھ سے ان بیس برسوں میں ہزاروں مرتبہ کہا کہ آپ جب کسی کمرے میں داخل ہوں اور وہاں سے نکل جائیں تو میں پہچان جایا کرتی ہوں کہ آپ وہاں آئے تھے۔ ‘‘

’’آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ‘‘

’’دیکھو۔ میں نے اپنی زندگی میں آج تک جھوٹ نہیں بولا۔ تم مجھ پر یہ الزام نہ دھرو۔ ‘‘

’’واہ جی واہ، بڑے آئے آپ کہیں کے سچے۔ میرا سو روپے کا نوٹ آپ نے چرایا اور صاف مکر گئے۔ ‘‘

’’یہ کب کی بات ہے؟‘‘

’’دو جون سن انیس سو بیالیس کو۔ جب سلمیٰ میرے پیٹ میں تھی۔ ‘‘

’’یہ تاریخ تمہیں خوب یاد رہی۔ ‘‘

’’کیوں یاد نہ رہتی۔ جب آپ سے میری اتنی زبردست لڑائی ہوئی تھی۔ میں اندر کمرے میں پڑی تھی۔ آپ نے چابی بڑی صفائی سے میرے تکیے کے نیچے سے نکالی۔ دوسرے کمرے میں جا کر الماری کھولی اور اس میں جو سات سو پڑے تھے، ان میں سے ایک نوٹ اڑا کر لے گئے۔ میں نے جب دو ڈھائی گھنٹوں کے بعد اٹھ کر دیکھا تو آپ سے چخ ہوئی، مگر آپ تھے کہ پروں پر پانی ہی نہیں لیتے تھے۔ آخر میں خاموش ہو گئی۔ ‘‘

’’یہ دو جون سن انیس سو بیالیس کی بات ہے۔ آج کل سن چون چل رہا ہے۔ اب اس کے ذکر کا کیا فائدہ؟‘‘

’’فائدہ تو ہر حالت میں آپ ہی کا رہتا ہے۔ میری ایک نیلم کی انگوٹھی بھی آپ نے غائب کردی تھی، لیکن میں نے آپ سے کچھ نہیں کہا تھا۔ ‘‘

’’دیکھو، میں تمہاری جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ اس نیلم کی انگوٹھی کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں۔ ‘‘

loading...

’’اور اس سو روپے کے نوٹ کے متعلق۔ ‘‘

’’اب تمہاری جان کی قسم کھائی توسچ بتانا ہی پڑے گا۔ میں نے۔ میں نے چرایا ضرور تھا، مگر صرف اس لیے کہ اس مہینے مجھے تنخواہ دیر سے ملنے والی تھی اور تمہاری سالگرہ تھی۔ تمہیں کوئی تحفہ تو دینا تھا۔ ان بیس برسوں میں تمہاری ہر سالگرہ پر میں اپنی استطاعت کے مطابق کوئی نہ کوئی تحفہ پیش کرتا رہا ہوں۔ ‘‘

’’بڑے تحفے تحائف دیے ہیں آپ نے مجھے۔ ‘‘

’’ناشکری تو نہ بنو!‘‘

’’میں کئی دفعہ کہہ چکی ہوں، آپ پرے ہٹ جائیے۔ مجھے آپ سے بو آتی ہے۔ ‘‘

’’کس کی؟‘‘

’’یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ ‘‘

’’میں نے خود کو کئی مرتبہ سونگھا ہے، مگر میری پکوڑا ایسی ناک میں ایسی کوئی بُو نہیں گھسی جس پر کسی بیوی کو اعتراض ہو سکے۔ ‘‘

’’آپ باتیں بنانا خوب جانتے ہیں۔ ‘‘

’’اور باتیں بگاڑناتم۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، آج تم اس قدر ناراض کیوں ہو۔ ‘‘

’’اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیے!‘‘

’’میں اس وقت قمیض پہنے نہیں ہوں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’سخت گرمی ہے۔ ‘‘

’’سخت گرمی ہو یا نرم۔ آپ کو قمیض تو نہیں اتارنا چاہیے تھی۔ یہ کوئی شرافت نہیں۔ ‘‘

’’محترمہ! آپ نے بھی تو قمیض اتار رکھی ہے۔ اپنے ننگے بدن کو ملاحظہ فرمائیے۔ ‘‘

’’اوہ۔ یہ میں نے کیا واہیات پن کیا ہے!‘‘

’’یہ واہیات پن تو آپ گرمیوں میں بیس بر س سے کررہی ہوں۔ ‘‘

’’آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ ‘‘

’’خیر، جھوٹ تو ہر مرد کی عادت ہوتی ہے۔ ‘‘

’’آپ مجھ سے دور ہی رہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’توبہ۔ لاکھ بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے آپ سے بہت گندی بو آرہی ہے۔ ‘‘

’’پہلے صرف بو تھی۔ اب گندی ہو گئی۔ ‘‘

’’خبردار! جو آپ نے مجھے ہاتھ لگایا!‘‘

’’اس قدر بیزاری آخر کیوں؟‘‘

’’میں اب آپ سے قطعاً بیزار ہو چکی ہوں۔ ‘‘

’’ان بیس برسوں میں تم نے کبھی ایسی بیزاری کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ‘‘

’’اب تو کردیا ہے!‘‘

’’لیکن مجھے معلوم تو ہو کہ اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘

’’میں کہتی ہوں، مجھے مت چھوئیے!‘‘

’’تمہیں مجھ سے اتنی کراہت کیوں ہورہی ہے؟‘‘

’’آپ ناپاک ہیں۔ بے حد ذلیل ہیں۔ ‘‘

’’دیکھو، تم بہت زیادتی کررہی ہو۔ ‘‘

’’آپ نے کم کی ہے۔ کوئی شریف آدمی آپ کی طرح ایسی ذلیل حرکت نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘

’’کون سی؟‘‘

’’آج صبح کیا ہوا تھا؟‘‘

’’آج صبح۔ بارش ہوئی تھی۔ ‘‘

’’بارش ہوئی تھی۔ لیکن اس بارش میں آپ نے کس کو اپنی آغوش میں دبایا ہوا تھا؟‘‘

’’اوہ، ‘‘

’’بس اس کا جواب اب’اوہ‘ ہی ہو گا۔ میں نے پکڑ جو لیا تھا آپ کو۔ ‘‘

’’دیکھو میری جان۔ ‘‘

’’مجھے اپنی جان وان مت کہیے۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ ‘‘

’’کس بات پر۔ کس گناہ پر؟‘‘

’’میں کہتی ہوں آدمی گناہ کرے۔ لیکن ایسی گندگی میں نہ کرے۔ ‘‘

’’میں کس گندگی میں گرا ہوں؟‘‘

آج صبح آپ نے اس۔ اس۔ ‘‘

’’کیا؟‘‘

’’اس بھنگن کو۔ جوان بھنگن کو جو مٹھائی والے کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ ‘‘

’’لاحول ولا۔ تم بھی عجیب عورت ہو۔ وہ غریب حاملہ ہے۔ بارش میں جھاڑو دیتے ہوئے اس کو غش آیا اور گر پڑی۔ میں نے اس کو اٹھایا اور اس کے کوارٹر میں لے گیا۔ ‘‘

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

’’تمہیں معلوم نہیں کہ وہ مر گئی؟‘‘

’’ہائے۔ بے چاری۔ میں تو ٹھنڈی برف ہو گئی ہوں۔ ‘‘

’’میرے قریب آجاؤ۔ میں قمیض پہن لوں؟‘‘

’’اس کی کیا ضرورت ہے، تمہاری قمیض میں ہوں۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں