نئے پاکستان پر پرانے الزامات، مگر اب نہیں

پاکستان

بھارتی فوج کے پاکستان پر حملوں کا بانڈھا بیچ چوراہے پھوٹ چکا اور پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں دو بھارتی جہاز بھی تباہ ہوچکے۔

بھارتی پائیلٹ ابھی نندن کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرکے دنیا میں امن قائم رکھنے کا پیغام بھی چلا گیا اور انتہا پسند بھارتی حکومت اور اسرائیل کے خفیہ عزائم بھی پوری دنیا پر عیاں ہوگئے۔

اب پاکستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بیوقوفی کے بعد اس نادر موقع کو غنیمت سمجھیں اور پرانے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو نئے پاکستان پر نہ لگنے دیں۔

پلوامہ حملے کی ذمہ داری تو اگرچہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی موجود کالعدم تنظیم جیش محمد نے قبول کی لیکن یہ حملہ ایک مقبوضہ کشمیر کے شہری نے کیا جسے بھارتی فوج نے ایک مرتبہ سڑک پر ناک سے لکیریں کھینچنے پر مجبور کیا تھا۔

اٹھارہ سالہ عادل احمد ڈار کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہونے کی وجہ سے ثابت ہو گیا کہ بھارتی افواج پر حملہ کشمیریوں پر کئے جانے والے ظلم و ستم کا رد عمل ہے اور پلوامہ حملے کی تیاری مقبوضہ جموں کشمیر میں ہوئی۔ جس میں شریک تمام حملہ آور مقامی تھے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد انتہا پسند بھارتی حکومت نے عام انتخابات میں بھارتی عوام کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر پاکستان پر حملہ تو کردیا لیکن پاکستان ائیر فورس کے منہ توڑ جواب کے بعد مودی حکومت کو لینے کے دینے پڑگئے اور اب مودی حکومت، اپوزیشن اور بھارتی عوام سے منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔

پاکستان کو یہ موقع پوری دنیا میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ پاکستانی تاریخ میں یہ ایسا نادر موقع ہے جب حکومت اور افواج دونوں ایک پیج پر ہیں اور جمہوری حکومت کے فیصلوں کو افواج کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔عمران خان نے کچھ عرصہ قبل یہ کہا تھا کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں اور ہمیں بھارت سے حالیہ کشیدگی میں یہ واضح نظر بھی آیا ۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو کالعدم تنظیموں کے 44 اہلکاروں کو گرفتار کرنے جیسے مزید اقدامات جاریرکھنے چاہییں۔ جن سے اقوام متحدہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک پر بھی یہ عیاں ہو جائے کہ اب پاکستان بدل چکا ہے اور نئے پاکستان میں نہ تو کالعدم تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے دنیا کو یہ حقیقت بھی معلوم ہو گی کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی خود کشمیریوں عوام کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔

پاکستانی فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کریں کہ دنیا والوں کو یہ باور ہوجائے کہ پاکستان میں کالعدم تنظیمیں نہ تو فلاحی کاموں میں حصّہ لیتی ہیں، نہ قربانی کی کھالیں اکٹھی کرتی ہیں، نہ ان کالعدم تنظیموں کی زیر نگرانی ایسے مدارس ہیں جہاں انتہاپسندی کی تربیت دی جاتی ہو اور نہ ہی ان کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کا تعلق کسی بھی ملک میں ہونے والی دہشتگردانہ حملوں سے رہا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی پاکستان کو اصولی حمایت جاری رکھنی چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو تمام عالمی فورمز پر بھرپور اٹھا نا چاہیے تاکہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت دنیا پر عیاں ہو۔

پاکستان کے لئے یہ موقع اس لیے بھی قیمتی ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے پاکستان پر نام نہاد حملے کے بعد دنیا جان چکی ہے کہ مودی حکومت نے انتخابی عزائم کی خاطر پاکستان پر حملہ کیا اور دنیا پر یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ بھارت دہشت گردی میں پاکستانی ہاتھ ملوث ہونے کا الزام صرف اور صرف اپنے ذاتی مقاصد کی خاطر لگاتا رہا ہے۔ جس کا کوئی بھی ثبوت بھارت مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

بھارتی جارحیت کے بعد بھارت اقوام متحدہ میں پاکستان پر الزام لگائے یا او آئی سی میں رونا روئے۔ بھارت کو ہر طرف سے پسپائی کا سامنا ہے۔ ایسے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کے کالعدم تنظیموں کے خلاف اٹھائے گئے حالیہ اقدامات قابل تحسین ہیں اور انہیں جاری رکھنا چاہیے۔

تاکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں سے بھی بچ جائے اور اپنی معیشت کو بہتر کر سکے۔اس سے دنیا کو یہ باور کرایا جا سکتا ہے کہ پاکستان واقع ہی بدل رہا ہے ۔

نوید نسیم

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں