سچ اور جھوٹ کا فرق واضح ہوچکا

سچ اور جھوٹ

امریکا کے فارن پالیسی میگزین نے پاکستانی ایف سولہ طیارے کے مار گرا ئے جانے کے بھارت کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کردیا۔جس کے بعد خود بھارتی اور یورپی ماہرین اور صحافیوں نے بھارتی حکومت اور فوج پر تنقید شروع کردی ہے۔

بھارتی میڈیا اور سماجی رابطوں کی سائٹس بھی اپنی حکومت کو آڑے ہاتھو ں لے رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ امریکی جریدے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اپنے دعوی پر قائم ہے کہ ایف سولہ گرایا گیا،بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ ایف سولہ طیارے کو گرانے کاحکومتی دعویٰ امریکا نے جھوٹا ثابت کردیا، جیش محمد کے بیس کیمپ اور ہلاکتوں کے بالاکوٹ دعوے کو سیٹیلائٹ تصاویرنے غلط ثابت کیا، اس کی بجائے ہم نے اپنے ہیلی کاپٹر کو گرا کر چھ اپنے لوگ ماردیے اور ہمارا مگ گر گیا، پائلٹ پکڑا گیا، ابھی بھی56انچ کی چھاتی کو پیٹا جا رہا ہے۔

دی وائر کے بانی ایڈیٹر سیدھارت کا کہنا ہے کہ بالاکوٹ حملے کے بعد مودی کے بیانیے کو شدید دھچکا لگا ہے،امریکیوں نے ایف سولہ گنتی کیے اور کوئی بھی مسنگ نہیں پایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سچ ہمیشہ غالب رہتا ہے، وقت آ گیا ہے کہ بھارت سچ بولے اور اپنے جانی نقصان کے بارے میں سچ بتائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو تمام معاملات بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار معروف امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین کی اس رپورٹ پر رد عمل میں کیا جس میں میگزین نے بھارت کو شٹ اپ کال دیتے ہوئے امریکی حکام کے حوالے سے اس امر کی تصدیق کی کہ پاکستان کا کوئی طیارہ غائب نہیں ہوا، سب پاکستان کے پاس موجود ہیں۔

اس سلسلے میں پہلا قدم پاکستان نے اٹھایا تھا اور امریکی اہلکاروں کو یہاں آ کر ایف 16 طیارے گننے کی پیشکش کی تھی تاکہ بھارت کی جانب سے پاکستانی ایف سولہ طیارہ مار گرانے کے دعوے کا پول کھولا جا سکے۔ اس پیشکش کے بعد امریکی اہلکاروں نے پاکستان آ کر مذکورہ طیاروں کی گنتی کے بعد تصدیق کی کہ ان کی تعداد پوری ہے۔ امریکی عہدے داروں نے فارن پالیسی میگزین کو بتایا کہ بھارت نے جھوٹ بول کر عالمی برادری کو گمراہ کیا، ایف سولہ گرانے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔

loading...

اس کامیابی پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ ساتھ پوری قوم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہے جس نے غنیم کے باطل دعوﺅں کے مقابلے میں وطنِ عزیز کو ایک بار پھر سرخرو کیا۔ قوم کو پوری طرح یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی مکمل طور پر غلط ثابت ہوا تھا۔

جناب وزیر اعظم صاحب اپنی معاشی ٹیم تبدیل کر لیں

ان سارے انکشافات کا مقصد بھارتی قیادت کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اپنے عوام اور عالمی برادری کے سامنے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے دروغ گوئی چھوڑ دے اور حقائق بیان کرے جو یہ ہیں کہ مودی حکومت کی جانب سے اپنی ہندو آبادی کے ووٹ بٹورنے کے لیے پاکستان مخالفت کا ڈرامہ فلاپ ہو چکا ہے اور بھارتی عوام جان چکے ہیں کہ ان کے حکمرانوں نے ان کا جذباتی استحصال کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ بھارت کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ امن اور خوشحالی خطے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار اور قابل عمل حل تلاش کرنے تک پوری نہیں ہو سکتی۔

بھارتی حکومت اور فوج کو یہ جان لینا چاہیے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اب زیادہ دیر تک استبدادی پنجوں میں جکڑا نہیں رکھا جا سکے گا اور بالآخر انہیں استصواب رائے کی طرف لانا ہی پڑے گا۔ یہ کام بھارتی قیادت جتنا جلد کر لے گی اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

ایک اور سچ جو بھارت کو جلد یا بدیر تسلیم کرنا ہی پڑے گا یہ ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی دھونس برقرار نہیں رکھ سکتا، لہذا اسے ان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کے بجائے ان کے ساتھ برابری کی سطح پر ہم آہنگی کے لیے کام کرنا ہو گا۔ دنیا جان چکی ہے کہ اس خطے خاص طور پر پاک افغان سرحد پر اور بلوچستان و کراچی میں دہشت گردی کو بڑھانے میں بھارت پوری طرح ملوث ہے۔ پاکستان بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے ڈوزیئر عالمی برادری کے سامنے لا چکا ہے جبکہ بھارتی جاسوس اور تخریب کار کلبھوشن یادیو اس وقت بھی پاکستان کی گرفت میں ہے۔

اسے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ بھارت کو دہشت گردی بڑھانے کی اپنی مذموم کوششوں اور سازشوں سے بھی باز آ جانا چاہیے۔ بھارتی قیادت اگر سرعت کے ساتھ تغیر پذیر صورتحال کا ادراک نہیں کرتی تو اس پورے خطے کا امن داﺅ پر لگا رہے گا اورترقی کی راہیں مسدود رہیں گی۔

(Visited 6 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں