بجلی اور گیس کی سرکاری چوری

ایک رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے انسداد بجلی، گیس چوری سیل نے فیکٹریوں اور کمرشل ایوانوں میں بجلی و گیس چوری میں معاونت کرنے والے سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اور ان کیخلاف مقدمات قائم کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ گیس اور بجلی کی چوری اور کئی دیگر بدعنوانیاںمحکموں کے افسران و ملازمین کی ملی بھگت کے بغیر کی ہی نہیں جا سکتیں۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ادارے ٹھیک ہوں تو سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے۔

اگر ادارے ہی بگڑ جائیں تو اصلاح کی گنجائش بھی معدوم ہوتی جاتی ہے، جہاں تک گیس و بجلی کے محکموں کا تعلق ہے۔

loading...

جناب وزیر اعظم صاحب اپنی معاشی ٹیم تبدیل کر لیں

ان کا تو تانا بانا ہی بگڑ چکا ہے، ان کی اصلاح زبانی کلامی نہیں ہو سکتی اس کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ گیس و بجلی کے محکموں کے جو افسران اور ملازمین کمرشل پلازوں اور فیکٹریوں سے مل کر گیس و بجلی جیسے قومی وسائل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، ان کیخلاف مقدمات قائم کر کے انہیں سزائیں دی جائیں، کیونکہ ان مگرمچھوں کی چوریوں کا خمیازہ بعد ازاں عام آدمی کو اپنے بھاری بلوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف آئی اے گیس و بجلی چوروں سے ملی بھگت کر کے انہیں ناجائز فائدہ پہنچانے والے سرکاری ملازمین، افسران کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن شروع کرے تا کہ مستقبل میں کسی سرکاری اہلکار کو قومی و سائل سے کھلواڑ کرنے کی جرا¿ت نہ ہو سکے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں