بھارتی گائے کے دودھ میں سونا موجود ہے، دلیپ گھوش

دلیپ گھوش

بھارتی ریاست بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر دلیپ گھوش نے اپنے ایک انوکھے بیان میں بتایا کہ بھارتی گائے کے دودھ میں سونا موجود ہے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دلیپ گھوش نے ایک تقریب کے دوران بی جے پی کارکنان اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔

اس دوران ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں موجود گائے کا دودھ سفید کے بجائے زرد رنگ کا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ اس میں سونا موجود ہے۔

2 ہزار کی شرط پر 41 انڈے کھانے والا شخص ہلاک

یہ ہی نہیں بلکہ بی جے پی ممبر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب سورج کی روشنی گائے کے کوہان پر پڑتی ہے تو اس کے بعد ہی اس کے اندر سونا بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘صرف بھارتی گائے کی پشت پر کوہان ہوتا ہے، اگر غیر ملکی گائے کو دیکھا جائے تو ان کی پشت سیدھی نظر آئے گی، بھارتی گائے کے کوہان میں ایک ایسی نس ہوتی ہے جسے سوارناناری (سونے کی نس) کہا جاتا ہے، اس ہی لیے جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی ہے تو سونا بنتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہی وجہ ہے کہ ان کا دودھ سفید کے بجائے زرد رنگ کا ہوتا ہے، اس دودھ میں ایسی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہے کہ اگر ایک شخص صرف یہی دودھ پیتا رہے تو وہ زندہ رہ سکتا ہے، کچھ اور کھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، یہ ہی مکمل غذا ہوتی ہے’۔

دلیپ گھوش نے یہ بھی کہا کہ گائے کو مارنا بہت بڑا جرم ہے اور بھارت میں ان کا گوشت کھانے والوں کو غیر سماجی سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے گائے کا گوشت کھانے والوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ گائے کا گوشت کھانے کے بجائے کتے کا گوشت کھالیں۔

انہوں نے مزید حیران کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بھارت میں موجود گائے ان کی ماں کا درجہ رکھتی ہیں جبکہ غیر ملکی گائے اگر بھارت آئیں تو وہ جانور ہی ہیں اور انہیں وہ اپنی آنٹی یا خالہ سمجھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو بہت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے ہاں اسے ایک مقدس مخلوق کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 2015 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں میں مجموعی طور پر 10 مسلمان قتل کردیے گئے تھے۔

موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے، ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی تھی۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں