بلونت سنگھ مجیٹھیا

دیوالی کے دیے

شاہ صاحب سے جب میری ملاقات ہوئی تو ہم فورًا بے تکلف ہو گئے۔ مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ سیّد ہیں اور میرے دور دراز کے رشتہ دار بھی ہیں۔

وہ میرے دور یا قریب کے رشتہ دار کیسے ہو سکتے تھے، اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ سیّد تھے اور میں ایک محض کشمیری۔ بہر حال، ان سے میری بے تکلفی بہت بڑھ گئی۔ ان کو ادب سے کوئی شغف نہیں تھا۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ میں افسانہ نگار ہوں تو انھوں نے مجھ سے میری چند کتابیں مستعار لیں اور پڑھیں۔

یہ کتابیں جو افسانوں کے مجموعے تھیں، انھوں نے پڑھیں، اور مجھے بہت تعجب ہوا کہ انھوں نے چند افسانوں کی بہت تعریف کی۔ اتفا ق سے یہ افسانے ایسے تھے جو دنیا میں شاہکار تسلیم کیے جاچکے تھے۔ شاہ صاحب میرے پڑوسی تھے۔ انھوں نے ایک مکان الاٹ کر ا رکھا تھا، لیکن خاندان کے افراد چونکہ زیادہ تھے اس لیے انھوں نے اپنے فلیٹ کے نیچے موٹر گیراج پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔

اس میں انھوں نے اپنی بیٹھک کا انتظام کیا تھا۔ اوپر زنانہ تھا۔ شاہ صاحب کے دوست بے شمار تھے اس لیے اس گیراج میں وہ ان کی خاطر مدارت کرتے تھے۔ ایک دن ان سے افسانوں کے بارے میں باتیں ہوئیں تو انھوں نے مجھ سے کہا:

’’میری زندگی میں ایسی کئی حقیقتیں ہیں جن کو تم افسانے بنا کر پیش کرسکتے ہوں۔ ‘‘

میں ہر وقت افسانوں کی تلاش میں رہتا ہوں، چنانچہ میں فوراً متوجہ ہوا اور شاہ صاحب سے کہا:

’’مجھے امید ہے کہ آپ اچھا مواد دیں گے۔ ‘‘

شاہ صاحب نے جواباً کہا:

’’میں افسانہ نگار نہیں۔ لیکن میری زندگی میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جو قابل ذکر ہے۔ میں نے قابل ذکر اس لیے کہا ہے کہ آپ بہت بڑے افسانہ نگار ہیں، ورنہ یہ واقعہ جو اب میں بیان کرنے والا ہوں، میرے نزدیک بے حد حیرت انگیز ہے۔ ‘‘

میں نے شاہ صاحب سے کہا:

’’ایسا بھی کیا حیرت انگیز ہو گا!‘‘

پھر تھوڑے سے وقفے کے بعد اس میں تھوڑی سی اصلاح کی:

’’لیکن ہوسکتا ہے کہ آپ کے لیے وہ واقعی حیرت انگیز ہو۔ ‘‘

شاہ صاحب نے کہا۔

’’جی! میں نہیں کہہ سکتا کہ جو واقعہ میں آپ کو سنانے والا ہوں، ہر شخص کے لیے حیرت کا باعث ہو گا۔ میں اپنی ذات کے متعلق آپ سے عرض کررہا ہوں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ میں جو داستان آپ کو سناؤں گا، اس وقت تک میری زندگی میں محیر العقول حیثیت رکھتی ہے۔ ‘‘

شاہ صاحب نے

’’نیل کٹر‘‘

سے اپنے ناخن کاٹنے شروع کیے۔ میں ان کی داستان سننے کے لیے بے تاب تھا، مگر شاید وہ آغاز کے متعلق سوچ رہے تھے کہ اپنی داستان کو کہاں سے شروع کریں۔ میرا خیال درست تھا کہ جو کچھ ان پر بیتا تھا، اس کو کئی برس ہوچکے تھے۔ وہ تمام واقعات کی یاد اپنے ذہن میں تازہ کررہے تھے۔ میں نے سگریٹ سلگایا۔ انھوں نے اپنی دس انگلیوں کے ناخن کاٹ کر

’’نیل کٹر‘‘

تپائی پر رکھا اور مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’میں ان دنوں کابل میں تھا۔ ‘‘

یہ کہہ کر چند لمحات خاموش رہے، اس کے بعد بولے۔

’’میری وہاں بہت بڑی دکان تھی جس میں بڑھیا سے بڑھیا سامان موجود رہتا تھا۔ ‘‘

میں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔

’’آپ جنرل مرچنٹ تھے؟‘‘

شاہ صاحب نے جواب دیا۔

’’جی ہاں۔ کابل کا سب سے بڑا جنرل مرچنٹ۔ میری دکان میں کابل کی قریب قریب ہر عورت سودا لینے آتی تھی۔ آپ سے ایک بات عرض کروں۔ ساتھ کے دکاندار جب یہ دیکھتے تھے کہ کسی روز عورتوں کی بجائے میری دکان میں مرد گاہک آئے ہیں تو وہ مجھ سے فارسی زبان میں افسوس کا اظہار کرتے تھے کہ آغا آج یہ کیا ہوا۔ کابل کی عورتیں اور لڑکیاں مر گئیں یا تمہارے نصیب سو گئے۔ ‘‘

شاہ صاحب مسکرا دیتے تھے۔ اس کے علاوہ اور وہ کیا جواب دے سکتے تھے۔ لیکن ان کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ ان کی دکان میں گاہکوں کی اکثریت عورتوں اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ سب ان کی چرب زبانی کا معجزہ ہے۔ انھوں نے مجھ سے کہا۔

’’منٹو صاحب! میں بہترین سیلز مین ہوں۔ خاص طور پر عورتوں کے ساتھ تو میں اس طرح سودا کرسکتا ہوں کہ یہاں لاہور میں کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ بی اے ہوں۔ تھوڑی بہت سائیکالوجی بھی میں نے پڑھی ہے، اس لیے مجھے معلوم ہے کہ عورتوں سے کس طرح

’’ڈیل‘‘

کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سارے کابل میں ایک میری دکان ہی ایسی تھی جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی گاہک موجود ہوتا تھا۔ ‘‘

میں نے شاہ صاحب کی یہ خود تعریفی سنی اور ان سے کہا۔

’’یقیناً آپ بہترین سیلز مین ہیں کہ آپ کی گفتگو کا انداز ہی اس کا ثبوت ہے۔ ‘‘

شاہ صاحب مسکرائے۔

’’مگر مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی داستان بہترین سیلز مین کے انداز بیان میں بیان نہیں کرسکوں گا۔ ‘‘

میں نے ان سے کہا۔

’’آپ شروع تو کیجیے!‘‘

شاہ صاحب نے چند لمحات اپنے حافظے کو پھر ٹٹولا اور اپنی داستان شروع کی

’’منٹو صاحب! جیسا کہ میں آپ سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ میں کابل میں تھا۔ یہ کوئی دس برس پہلے کی بات ہے جب میری صحت بہت اچھی تھی۔ یوں تو میں اب بھی تنومند کہلاتا ہوں، مگر اس زمانے میں میرا جسم آج مقابلے میں دگنا تھا۔ ہر روز ورزش کرتا تھا سینکڑوں ڈنڈ پیلتا تھا، مگدر گھماتا تھا۔ سگریٹ پیتا تھا نہ شراب، بس ایک اچھا کھانے کی عادت تھی۔ افغانی نہیں، ہندوستانی۔ چنانچہ میں امرتسر سے اپنے ساتھ ایک بہت اچھا کشمیری باورچی لے گیا تھا جو ہر روز میرے لیے لذیذ سے لذیذ کھانے تیار کرکے میز پررکھتا تھا۔ میری زندگی بڑی ہموار گزرتی تھی۔ آمدن بہت معقول تھی۔ بینک میں لاکھوں افغانی روپے جمع تھے۔ لیکن۔ ‘‘

شاہ صاحب تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔ میں نے ان سے پوچھا۔

’’لیکن کہہ کر آپ چپ ہو گئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ آپ پھر بھی ناخوش تھے۔ ‘‘

شاہ صاحب نے اعتراف کیا

’’جی ہاں!میں ان تمام آسائشوں کے باوجود ناخوش تھا۔ اس لیے کہ میں اکیلا تھا۔ مجرد تھا۔ اگر میری دکان میں عورتیں اور لڑکیاں زیادہ نہ آتیں تو بہت ممکن ہے کہ مجھے اپنے تجرد کا احساس نہ ہوتا۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا۔ کابل کی ہر صاحب ثروت عورت میری دکان میں آتی تھی۔ دکان میں داخل ہوتے ہی یہ عورتیں اور لڑکیاں اپنا برقع اتار کر ایک طرف رکھتیں اور سودا خریدنے میں مصروف ہو جاتیں۔ منٹو صاحب! آپ کا شاید یہ خیال ہو کہ وہ بڑا شرعی قسم کا لباس پہنتی ہوں گی، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یوں تو وہاں کی عورتیں اور لڑکیاں پردہ کرتی ہیں مگر لباس ٹھیٹ یورپین پہنتی ہیں۔ سکرٹ، کٹے ہوئے بال، رنگے ہوئے ناخن، پنڈلیاں ننگی۔ جب وہ میری دکان میں آتی تھیں تو اپنے برقعے اتار کر ایک طرف رکھ دیتی تھیں اور مال دیکھنے میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ ‘‘

شاہ صاحب نے بولنا بند کیا تو میں نے ان سے پوچھا۔

’’آپ کو ان میں سے کسی سے محبت تو یقیناً ہو گئی ہو گی؟‘‘

شاہ صاحب بہت سنجیدہ ہو گئے۔

’’جی ہاں! ایک لڑکی سے ہو گئی تھی جو اپنا برقع نہیں اتارتی تھی، حتیٰ کہ نقاب بھی نہیں اٹھاتی تھی۔ ‘‘

میں نے ان سے پوچھا۔

’’کون تھی وہ؟‘‘

انھوں نے جواب دیا۔

’’ایک بہت بڑے گھرانے سے متعلق تھی۔ اس کا باپ فوج کا اعلیٰ افسر تھا۔ بڑا سخت گیر۔ مجھے اس سے صرف اس لیے محبت ہوئی کہ وہ ہاتھوں کے علاوہ اپنے جسم کا کوئی حصہ نہیں دکھاتی تھی۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’اس کی کیا وجہ؟‘‘

شاہ صاحب نے کہا۔

’’مجھے معلوم نہیں، اور نہ میں نے اس سے کبھی اس بارے میں استفسار ہی کیا۔ لیکن میرے تصور میں وہ انتہا درجے کی حسین تھی۔ گوری چٹی۔ جسم خواہ برقع میں لپٹا ہو، لیکن اس کے تناسب کے متعلق اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ میں نے چور آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ وہ جوانی کا آدرش مجسمہ ہے۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ وہ چند منٹوں کے لیے میری دکان میں آتی تھی۔ چیزیں خریدنے اور ان کی قیمتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے میں چند منٹ صرف کرتی تھی اور چلی جاتی تھی۔ میں نے شاہ صاحب سے کہا۔

’’یہ سلسلہ کب تک جاری رہا۔ ‘‘

قریب کے چھ مہینے تک مجھ میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ میں اس سے اپنی محبت کا اظہار کروں۔ میں اس سے بہت مرعوب تھا اس لیے وہ دوسروں سے مختلف تھی۔ اس میں ایک عجیب قسم کی رعونت تھی۔ میں اس کو بے طرح گھورتا تھا، حالانکہ یہ شائستگی نہیں تھی لیکن میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ منٹو صاحب! ایک دن میں دکان میں بیٹھا تھا اس کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ نوکر نے ریسیور اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ کوئی خاتون آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ کوئی گاہک ہو گی اور نئے مال کے متعلق پوچھنا چاہتی ہو گی۔ اٹھ کر میں نے ریسیور ہاتھ میں لیا اور پوچھا۔ مادام! آپ کیا چاہتی ہیں؟ ادھر سے آواز آئی کیا آپ سید مظفر علی ہیں؟ میں نے جواب دیا، جی ہاں۔ ارشاد! اب میں نے آواز پہچان لی تھی۔ یہ اسی کی تھی۔ اسی کی جو میری دکان میں برقع نہیں اتارتی تھی۔ میں گھبرا گیا۔ منٹو صاحب! یہ عاشق ہونا بھی ایک عجیب لعنت ہے۔ ‘‘

یہ سن کر میں مسکرا دیا۔

’’آپ ٹھیک فرماتے ہیں شاہ صاحب۔ لیکن افسوس ہے کہ میں اس لعنت میں ابھی تک گرفتار نہیں ہوا۔ ‘‘

شاہ صاحب کو بہت افسوس ہوا۔

’’حد ہو گئی۔ انسان اپنی جوانی میں کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور عشق میں گرفتار ہوتا ہے۔ خیر، آپ کو ابھی تک عشق نہیں ہوا تو خدا کرے کہ بہت جلد ہو جائے، کیوں کہ یہ مرض بہت دلچسپ ہے۔ ‘‘

میں نے مسکراکر شاہ صاحب سے کہا۔

’’آپ اپنی داستان بیان کیجیے۔ مجھے عشق ہو گا تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو اس کی پوری روداد سنا دوں گا۔ ‘‘

شاہ صاحب کرسی پر سے اٹھ کر پلنگڑی پر لیٹ گئے اور آنکھیں بند کرلیں۔

’’منٹو صاحب۔ میں اس لڑکی کے عشق میں اس بری طرح گرفتار ہوا کہ ورزش کرنا بھول گیا۔ وہ میری دکان پر اکثر آتی تھی۔ میں اس کو گھورتا تھا۔ لیکن دیکھیے میرا دماغ کتنا خراب ہو گیا ہے، یہ اسی عشق خانہ خراب کا باعث ہے۔ میں آپ سے اس کے ٹیلی فون کی بات کررہا تھا۔ جب میں نے ریسیور اٹھایا اور اس کی آواز پہچان لی تو اس نے مجھ سے کہا۔

’’دیکھو میں جب بھی تمہاری دکان پر آتی ہوں، تم مجھے گھورتے ہو۔ اگر اپنی خیریت چاہتے ہو، تو ٹھیک ہو جاؤ ورنہ تمہارے حق میں برا ہو گا۔ منٹو صاحب! میں جواب سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع کردیا۔ میں دیر تک گونگے ریسیور کو کان کے ساتھ لگائے کھڑا رہا، اور سوچتا رہا کہ اس دھمکی کا مطلب کیا ہے؟‘‘

میں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔

’’کیا وہ دھمکی اصلی تھی؟‘‘

’’جی ہاں۔ چوتھے روز وہ میری دکان میں آئی تو میں نے اس کی نقاب کی طرف پھر انہی نگاہوں سے دیکھا تو اس نے جھنجھلا کر میرے ملازموں کے سامنے مجھ سے کہا۔

’’تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم مجھے اس طرح دیکھتے ہو‘‘

۔ میں سُن ہو گیا۔ لیکن اس نے چند چیزیں خریدیں۔ دام دیے اور اپنی موٹر میں بیٹھ کر چلی گئی۔ ‘‘

میں شاہ صاحب کی داستان میں کافی دلچسپی لے رہا تھا۔

’’عجیب لڑکی تھی۔ آپ سے اسے نفرت بھی تھی، مگر اس کے باوجود آپ کی دکان میں آتی تھی۔ ‘‘

شاہ صاحب نے آنکھیں کھولیں۔

’’منٹو صاحب! یہی وجہ تھی کہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس کی نفرت و حقارت مصنوعی ہے دراصل وہ میری محبت سے متاثر ہو چکی ہے اور محض بناوٹ کے طور پر غصے کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن جب ایک روز اس نے مجھے بہت زور سے لعن طعن کی تو میں سرد ہو گیا۔ پر اس کی محبت تھی جو میرے دل سے جاتی ہی نہیں تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اس کو بھول جاؤں۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ تم عجیب بے وقوف ہو۔ ایک لڑکی جس کی تم نے شکل نہیں دیکھی۔ جو تم سے نفرت کرتی ہے، تم اس سے عشق فرما رہے ہو۔ باز آؤ، تمہارا کاروبار ماشاء اللہ بہت اچھا ہے۔ سارے افغانستان میں تمہاری ساکھ ہے۔ یہ کیا جھک مار رہے ہو۔ لیکن منٹو صاحب! عشق بہت بری بلا ہے۔ میں اس سے اپنا پیچھا نہ چھڑا سکا۔ ‘‘

میں نے ان سے کہا۔

’’آپ خواہ مخواہ داستان طویل بناتے جارہے ہیں۔ انجام پر پہنچیے۔ ‘‘

شاہ صاحب پلنگڑی پر سے اٹھے اور کرسی پر بیٹھ گئے۔

’’حضرت! ایسی داستانیں اکثر طویل ہوا کرتی ہیں۔ عشق ایک مرض ہے اور جب تک طول نہ پکڑے، مرض نہیں ہوتا۔ محض ایک مذاق ہوتا ہے۔ خیر! اب جب کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی داستان طویل نہ بناؤں تو مختصر طورپر عرض کرتا ہوں کہ میرا عشق جب بہت شدت اختیار کرگیا تو ایک روز میں بے اختیار رونے لگا۔ میرے شہر امرتسر کا ایک باشندہ سردار بلونت سنگھ تھا جو مجیٹھ کے ایک اچھے خاندان کا فرد تھا۔ وہ کابل میں ایک انجینئرنگ فرم میں ملازم تھا۔ کھانے پینے والا آدمی تھا، اس لیے وہ ہر مہینے مجھ سے پچاس ساٹھ روپے قرض لے جاتا تھا۔ مزید قرض لینے کی غرض ہی سے وہ اس وقت میری دکان میں آیا، جب کہ میری آنکھیں نمناک تھیں۔ وہ میرے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے معلوم نہیں مجھ سے کیا پوچھا اور میں نے جانے کیا جواب دیا۔ لیکن جب اس نے مجھ سے یہ کہا۔

’’دوست! تم کو کوئی روگ لگ گیا ہے۔ ‘‘

تو میں چونک پڑا، نہیں نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا اپنی گھنی مونچھوں کے اندر مسکرایا۔ تم جھوٹ بولتے ہو، صاف صاف بتاؤ، تمہیں یہاں کسی سے عشق ہوا ہے۔ میں خاموش رہا تو وہ پھر بولا، دیکھو اگر کوئی مشکل درپیش ہے تو ہم سب ٹھیک کردیں گے۔ جب اس نے اسی قسم کی چند اور باتیں کیں تو میں نے سارا معاملہ اس کو بتا دیا۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’تو اس نے مشکل آسان کرنے کا کیا گُر بتایا؟‘‘

شاہ صاحب نے کہا۔

’’اس نے مجھے ایک منتر بتایا۔ ‘‘

’’منتر!‘‘

’’جی ہاں۔ ‘‘

’’آپ سیّد ہیں۔ کیا آپ منتر جنتر یر ایمان لا سکتے ہیں؟‘‘

شاہ صاحب نے کہا۔

’’لانا تو نہیں چاہیے تھا کہ یہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔ لیکن اس وقت سردار بلونت سنگھ کا مشورہ ماننا ہی پڑا، اس لیے کہ عشق بری بلا ہے۔ اس نے مجھے ایک منتر بتایا کہ سات رنگوں کے پھول لو۔ ان میں سے ہر ایک پر یہ منتر پڑھ کر پھونکو اور منگل کے روز اسی لڑکی کو کسی نہ کسی طریقے سے سنگھا دو۔ یہ منتر مجھے ابھی تک یاد ہے۔ ‘‘

میں نے ان سے کہا۔

’’ذرا سنائیے تو!‘‘

شاہ صاحب نے ایک لحظے کے لیے اپنے حافظے کو ٹٹولا اور کہا: کو رو دس مکھیا دیوی پُھل کِھڑے پُھل ہسے پُھل چگے نا ہر سنگھ پیارے جو کوئی لے پھولوں کی باس کبھی نہ چھوڑے ہمارا ساتھ ہمیں چھوڑا کسی اور کو کرے پیٹ پُھول بھسم ہو مرے دہائی سلیمان پیر پیغمبرکی! میں نے یہ منتر سنا تو مجھے اپنا لڑکپن یاد آگیا جب میں نے منتروں کی ایک کتاب خریدی تھی اور اس میں سے ایک منتر ازبر اس غرض سے کیا تھا کہ میں اسکول کے تمام امتحانوں میں پاس ہوتا چلا جاؤں۔ یہ منتر مجھے اب تک یاد ہے۔ اونگ نما کامشیری اُٰتما دے بھرینگ پراسواہ۔ لیکن اس کے پڑھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نویں جماعت میں فیل ہو گیا تھا۔ میں نے اس منتر کا ذکر شاہ صاحب سے نہ کیا اور ان سے پوچھا۔

’’تو آپ نے سات رنگ کے پھولوں پر یہ منتر پڑھا؟‘‘

’’جی ہاں۔ میں نے سات رنگ کے پھول سوموار کو اکٹھے کیے۔ ان پر یہ منتر پڑھا اور اس لڑکی کو ٹیلی فون کیا کہ میری دکان میں چیکوسلوا کیا سے بہت اچھا مال آیا ہے۔ منگل کو وہ آکے دیکھ لے۔ ‘‘

میں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔

’’کیا وہ آئی؟‘‘

’’جی ہاں۔ وہ آئی۔ اس نے مجھے ٹیلی فون پر کہہ دیا تھا کہ وہ آئے گی۔ شام کو پانچ بجے کے قریب۔ میں اس کا انتظار کرتا رہا۔ وہ ٹھیک پانچ بج کر پانچ منٹ پر آئی اور اس نے چیکوسلواکیا کے مال کے متعلق استفسار کیا۔ غرض یہ ہے کہ مال وال کا قصہ بالکل فراڈ تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ ملازموں نے ابھی تک پیٹیاں نہیں کھولیں، آپ کل تشریف لائیے گا۔ وہ بہت جز بز ہوئی۔ میں منتر پڑھے پھولوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس نے بھی ان پھولوں کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا یہ پھول تمہاری میز پر کہاں سے آگئے؟۔ میں نے جواب دیا یہ میں نے آپ کے لیے خریدے تھے۔ اگر آپ کو پسند ہوں۔ میرا مطلب ہے اگر آپ کو ان کی خوشبو پسند ہوتو آپ انھیں قبول فرمائیں۔ اس نے وہ سات پھول اٹھائے اور انھیں سونگھا۔ ‘‘

میں نے ان سے پوچھا۔

’’اس لڑکی کا رد عمل کیا تھا؟‘‘

شاہ صاحب نے جواب دیا۔

’’اس نے ناک بھوں چڑھا کر کہا۔ یہ پھول ہیں؟ ان میں نہ تو خوشبو ہے نہ بدبو۔ بہر حال، اس نے وہ پھول سونگھے۔ چند چیزیں خریدیں اور چلی گئی۔ شام کو سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا میری دکان پر آیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہو، وہ پھول سنگھا دیے؟۔ میں نے اس سے کہا سنگھا تو دیے لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ مجھے معلوم نہیں۔ سردار بلونت سنگھ ہنسا۔ اس نے بڑے زور سے میرا ہاتھ دبایا اور کہا دوست! اب تمہارا کام سمجھو کہ پندرہ آنے ہو گیا ہے۔ ‘‘

مجھے بڑی حیرت تھی کہ منتر کے ذریعے ایسا کام پندرہ آنے کیوں کر ہوسکتا ہے، مگر سیّد صاحب نے کہنا شروع کیا۔

’’منٹو صاحب! آپ یقین مانیے کہ میرا کام پندرہ آنے مکمل ہو گیا۔ دوسرے دن کوکو جان کا ٹیلی فون آیا کہ وہ کچھ چیزیں خریدنے کے لیے آرہی ہے۔ میں نے اس کا استقبال کیا۔ وہ کوئی چیز خریدنا نہیں چاہتی تھی۔ بہت دیر تک وہ میری دکان میں ادھر ادھر پھرتی رہی۔ اس کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہوئی، تم سے میں کئی مرتبہ کہہ چکی ہوں کہ مجھے گھورا نہ کرو۔ اور وہ جو تم نے پھول سنگھائے تھے، اس کا کیا مطلب تھا۔ ؟‘‘

میں نے کوکو جان سے لکنت بھرے لہجے میں کہا۔

’’میں۔ میں۔ وہ پھول جو تھے۔ پھول تھے۔ میں نے۔ میں نے۔ مال جو چیکوسلواکیہ سے آیا تھا، کھلا ہوا نہیں تھا، اس لیے میں نے وہ پھول آپ کی خدمت میں پیش کردیے۔ کو کو جان برقع میں سخت مضطرب تھی۔ اس نے اضطراب بھرے لہجے میں کہا۔

’’تم نے مجھے پھول کیوں سنگھائے؟‘‘

۔ میں نے اس سے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا۔

’’کیا آپ کو اس سے کوئی تکلیف ہوئی۔ ‘‘

وہ بڑے گرم انداز میں بولی

’’تکلیف۔ ؟ میں ساری رات وہ سات پھول دیکھتی رہی ہوں۔ پھول آتے تھے اور جب میں انھیں حاصل کرنا چاہتی تھی تو وہ مجھ سے پرے ہٹ جاتے تھے۔ یہ کیسے پھول تھے؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’میرے وطن کے تھے۔ چونکہ میرے وطن کے تھے، اس لیے میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ لیکن مجھے حیرت ہے کہ وہ رات بھر آپ کو کیوں نظر آتے اور ستاتے رہے۔ ‘‘

میں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔

’’یہ پھول آپ نے کہاں سے منگوائے تھے؟‘‘

شاہ صاحب نے جواب دیا۔

’’جی! منگوائے کہاں سے تھے، وہیں افغانستان کے تھے۔ نہایت واہیات قسم کے پھول جن میں خوشبو نام کو بھی نہیں تھی۔ شام کو سردار بلونت سنگھ آیا، مزید قرض لینے کے لیے۔ اس نے مجھ سے قرض لینے سے پہلے دریافت کیا۔

’’کہیے شاہ صاحب! اس معاملے کا کیا ہوا؟‘‘

میں نے اس کو ساری بات بتا دی۔ وہ قرض لینا بھول گیا۔ اپنا بالوں بھرا ہاتھ میرے کندھے پر زور سے مار کر چلایا۔

’’شاہ جی! آپ کا کام سولہ آنے ہو گیا ہے۔ وسکی کی ایک بوتل منگائیے۔ ‘‘

شاہ صاحب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے وسکی کی بوتل کے علاوہ ایک ڈبہ سگریٹوں کا بھی منگوایا، جس میں سے سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا تمباکو نوشوں کے ٹھیٹ انداز میں پے در پے کئی سگریٹ پھونکتے رہے۔ جب جانے لگے تو انھوں نے شاہ صاحب سے کہا کہ دیکھو ابھی توڑی سی کسر باقی ہے۔ اگلے منگل کو تم اور سات پھول لو اور ان پر وہی منتر پڑھ کر اس لڑکی کو سنگھا دو۔ بیڑا پار ہو جائے گا۔ شاہ صاحب بہت پریشان ہوئے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اب کی کوکو جان کو پھول کیسے سنگھاسکیں گے جب کہ وہ اس معاملے کے متعلق شاکی تھی۔ لیکن معاملہ عشق کا تھا، اس لیے شاہ صاحب موت کے منہ میں جانے کے لیے بھی تیار تھے۔ شاہ صاحب نے پشاور سے پھول منگوائے۔ ان میں سے سات منتخب کیے اور ہر ایک پر منتر پڑھا اور اپنے میز کے گلدان میں رکھ دیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی دکان میں جا بجا گلدان رکھوائے اور ان میں پھول سجا دیے۔ پیر کو صاحب نے کوکو جان کو ٹیلی فون کیا اور اس سے پھر جھوٹ بولا کہ چیکوسلواکیہ کا مال کھل گیا ہے۔ آپ آئیے اور دیکھ لیجیے۔ کوکو جان آئی، مگر مال وال موجود نہیں تھا۔ شاہ صاحب تھوڑی دیر کے لیے بوکھلائے، پھر ذرا ہوش سنبھال کر اپنے نوکروں کو لعن طعن کی کہ تم نے ابھی تک مال کیوں نہیں کھولا۔

’’کوکو جان کے ساتھ اس کی والدہ بوبو جان بھی تھی۔ وہ ایک طرف ٹائلٹ کا سامان دیکھنے میں مصروف تھی۔ کوکو جان نے جب دکان میں جا بجا پھول دیکھے تو وہ متعجب ہونے کے علاوہ مضطرب بھی ہوئی۔ ‘‘

میری میز پر وہ خاص پھول پڑے تھے۔ وہ ان کے پاس آئی، گلدان میں سے اٹھا کر اس نے انھیں سونگھا اور مجھ سے کہا۔

’’یہ افغانستان کے پھول نہیں۔ ‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’جی ہاں۔ یہ میرے وطن کے ہیں۔ اور میں نے خاص آپ کے لیے منگوائے ہیں۔ بوبو جان خرید و فروخت میں مشغول تھی۔ اس دوران میں کوکو جان سے میں نے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ وہ سخت ناراض ہوئی اور اپنی ماں کے ساتھ چلی گئی۔ شام کو سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا آیا۔ اس سے بات چیت ہوئی۔ میں نے اس کو دس روپے قرض دیے۔ جب اس نے روپے اپنی جیب میں ڈالے تو مجھ سے پوچھا آج منگل ہے۔ وہ پھول سنگھا دیے تھے آپ نے؟ میں نے سارا واقعہ بیان کردیا۔ سردار بلونت سنگھ نے اپنا بالوں بھرا ہاتھ زور سے میرے ہاتھ پرمارا اور کہا شاہ جی، اب کام سترہ آنے پورا ہو گیا ہے۔ وسکی کی ایک بوتل منگاؤ۔ ‘‘

شاہ صاحب نے وسکی کی بوتل منگوائی۔ سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا نے آدھی دکان میں پی اور آدھی اپنے ساتھ لے گیا۔ میں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔

’’دوسری دفعہ پھول سنگھانے سے کیا نتیجہ برآمد ہوا؟‘‘

شاہ صاحب نے جواب دیا۔

’’وہ بہت بے چین ہو گئی۔ اسے دن رات اتنے پھول نظر آنے لگے کہ ایک دن وہ سخت اضطراب کی حالت میں آئی۔ برقع جو اس نے کبھی اتارا نہیں تھا، کیلے کے چھلکے کی طرح اتار کر ایک طرف پھینکا اور مجھ سے مخاطب ہوئی۔

’’دیکھو شاہ! تم نے مجھ پر کوئی جادو کردیا ہے۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو مجھے پہلی بار نظر آیا تھا منٹو صاحب! میں نے اپنی زندگی میں اس جیسی حسین لڑکی اب تک نہیں دیکھی۔ میں اس کو دیکھتا رہا۔ اس نے بڑے تیز و تند لہجے میں کہا۔

’’تم نے مجھے پھول کیوں سنگھائے تھے۔ میں پاگل ہوئی جارہی ہوں۔ دن ہو یا رات، ہر وقت مجھے وہ تمہارے پھول دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہوں۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک شریف گھرانے کی لڑکی ہوں۔ میرے والدین عنقریب میری شادی کررہے ہیں۔ تم نے مجھ پر کیا جادو پھونکا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے میرے میز پر سے گلدان میں سے پھول نکالے اور فرش پر پھینک کر اپنی سینڈل سے مسل دیے۔ لیکن مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ناراض ہونے کے باوجود ناراض نہیں تھی اور چاہتی تھی کہ میں اس سے باتیں کروں۔ لیکن مجھے اس کا یقین نہیں تھا اس لیے خاموش رہا۔ وہ کچھ دیر غصے کی حالت میں کھڑی رہی۔ اس کے بعد اس نے برقع پہنا اور چلی گئی۔ ‘‘

میں نے شاہ صاحب سے پوچھا۔

’’تو سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا کا منتر کام کرگیا!‘‘

’’جی ہاں، کام کر گیا۔ اس کو پھول ہی پھول نظر آتے تھے۔ میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ یہ سب بکواس ہے، مگر کوکو جان کی باتوں سے مجھے یقین ہو گیا کہ منتر اپنا اثر کر گیا ہے، حالانکہ جو منتر آپ سن چکے ہیں، اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے آدمی کو یہ معلوم ہو کہ وہ اثر کرے گا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ جب پھر میری دکان میں آئی تو برقع اتار کر مجھ سے بغل گیر ہو گئی اور رونا شروع کردیا۔ میں نے اس کو کئی مرتبہ چوما۔ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ تھوڑی دیر کے بعد میری میز پر گلدان میں جو پھول پڑے تھے، اس نے نکالے اور انھیں نوچ کر ایک طرف پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ برقع پہن کر تیزی سے باہر نکل گئی۔ داستان کافی طوالت پکڑ رہی تھی۔ میں نے صاحب سے کہا۔

’’آپ مختصر فرمائیے کہ انجام کیا ہوا۔ کیا وہ لڑکی آپ کو مل گئی؟‘‘

شاہ صاحب نے ایک آہ بھری۔

’’جی نہیں۔ اس کی شادی ہو گئی۔ مگر حجلہء عروسی میں داخل ہوتے ہی معلوم نہیں کیا ہوا کہ وہ گری اور گرتے ہی مر گئی۔ اس کے ہاتھ میں سات پھول تھے مختلف رنگوں کے۔ میں نے دیکھا کہ شاہ صاحب کی پلنگڑی کے ساتھ تپائی پر پیتل کے پھولدان میں سات مختلف رنگوں کے پھول اڑسے ہوئے تھے۔

سعادت حسن منٹو
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں