درست فیصلے اور مثبت اشارے

وزیراعظم عمران

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بروقت اور درست فیصلوں سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی اتحادیوں اوتر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارلیمانی پارٹی نے اقتصادی اصلاحات بل کی منظوری دی۔ذرائع کے مطابق دورانِ اجلاس وزیراعظم عمران خان نے پاک بھارت کشیدگی پر پارٹی ارکان کو اعتماد میں لیا۔

وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بروقت اور درست فیصلوں سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا، پاکستان اور بھارت میں کشیدگی پہلے سے کم ہوئی لیکن خطرہ برقرار ہے۔دریں اثناء پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے پا ک بھا رت کشیدگی میں کمی ہو ئی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود ہے، پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اور بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے، مسئلہ کشمیر حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے بد ھ کو امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام تھا، دیکھتے ہیں اب بھارت ہمارے امن کے پیغام کا کیا جواب دیتا ہے، اب یہ بھارت پر ہے کہ وہ امن کے قدم کو سمجھے اور کشیدگی میں کمی کی طرف بڑھے یا پھر اپنے اسی ایجنڈے پر قائم رہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے، اگر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کشیدگی میں اضافہ کیا جائے تو صورتحال واپس اسی جگہ پر آجائے گی، الز ا مات سے بہتر ہے کہ بھارت اپنی اصلاح کے اقدامات کرے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ کیلئے بڑی طاقتوں کی پس پردہ کوششوں کی کامیابی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ مودی کی ہٹ دھرمی کے باعث دونوں ملکوں میں تصادم کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی وہ کسی حد تک ختم ہونے لگی ہے۔ امریکہ ،روس،چین ،برطانیہ ،جاپان اور بعض اسلامی ممالک نے اسلام آباد اور دہلی پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں۔

بھارتی دھمکیوں اور جارحیت کے باوجود راہداری منصوبے پر بات چیت کیلئے پاکستانی وفد 14مارچ کو بھارت روانہ ہوگا، جس کے دو ہفتے بعد بھارتی وفد 28مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا، دوسری جانب پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس نئی دہلی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو پاک بھارت کشیدگی کے باعث مشاورت کیلئے کئی روز سے اسلام آباد میں موجود تھے۔

بلا شبہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں لیکن کاش خود اعتمادی سے یہ لکھا جا سکتا کہ بر صغیر پر چھائے جنگ کے بادل مکمل طور پر چھٹ گئے ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے آواز نکلتی اور دعا بن جاتی ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن بھارت کی جانب سے جو شور سنائی دے رہا ہے اس میں امن کی آشا صاف سنائی نہیں دیتی۔ بھارتی قیادت جس طرح خود ابہام کا شکار ہے اسی طرح اس نے حالات کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔

loading...

یقیناً وہاں امن کے داعی بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن بھارتی حکومت کی سرپرستی میں وہاں ہیجان سوچ سمجھ کر بلکہ جان بوجھ کر برپا کیا جاتا رہا ہے اور اس وقت ویسی ہی صورت حال عروج پر ہے۔ ہر امن چاہنے والے کے لیے موجودہ صورتحال، چاہے وہ سرحد کے اِس طرف ہو یا اس پار، انتہائی تشویشناک ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کے بادل چھٹے تو ہیں لیکن مکمل طور پر نہیں۔

فضائی حدود کا کھل جانا، ہمارے سفیر کے واپس بھارت بھیجے جانے کا فیصلہ، کرتا پور راہداری پر مذاکرات کی بحالی، زمینی راستوں سے تجارت کی بحالی، یہ سب مثبت اشارے ہیں۔ انہیں دیکھ کر دل یہ یقین کرنا چاہتا ہے کہ اب آئندہ امن ہی رہے گا کشیدگی نہیں بڑھے گی۔

شاید وہاں ابھی تک یہ بات سنجیدگی سے نہیں سوچی گئی کہ پلوامہ سے لے کر آج تک ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوا ہے، اور جو تیاریاں ہم ایک دوسرے کے لیے کیے بیٹھے ہیں، اس پر بلا واسطہ اور بالواسطہ کیا خرچ ہوا؟ اِس سب سے دونوں ممالک کو اور عام شہریوں کو کیا نقصان ہوا ہے۔ فضائی حدود میں خلل واقع ہونے سے، تجارت میں خلل واقع ہونے سے دونوں ممالک میں عام شہریوں کا کتنا نقصان ہوا ۔ ظاہر ہے عام شہریوں کے نقصان کے لیے کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔

بعض کاروباروں میں انشورنس کروائی جاتی ہے لیکن کیا جنگی صورتحال کے پیشِ نظر انشورنس نقصان بانٹنے کی ذمہ داری قبول کرے گی۔ عام شہریوں کے ضروری سفر کتنے متاثر ہوئے۔ کیا حکومتوں کو یہ سوچنا نہیں چاہیے۔

وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستان کی عسکری قیادت نے اپنی تقاریر اور بیانات میں ہمیشہ امن کی بات کی۔ انہوں نے بجا طور پر ہر مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے سلجھانے پر زور دیا لیکن دوسری جانب سے کوئی واضح مثبت جواب سننے میں نہیں آیا۔ دوسری جانب ہماری داخلی سیاست میں بہت تناؤ ہے۔ ایک بحران برپا ہے جسے کچھ لوگ اور گروہ اپنے بیانات کے ذریعے مزید بگاڑنے کی کوششوں میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں معیشت، سیاست اور حکومت کے ہر محکمے میں ہم آہنگی اور توازن کو نئے سرے سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں کوئی بڑا معاملہ ایسا نہیں جو واضح طور پر حکومت کی گرفت اور اہلیت سے باہر نظر نہ آتا ہو۔ تعلیم لے لیجئے، صحت، آبادی، پینے کا پانی لے لیجئے، صنعت، زراعت، تجارت لے لیجئے، انصاف کے حصول کی صورتحال دیکھ لیجئے یا جرائم کی روک تھام دیکھ لیجئے ہر محکمے میں جس طرف نظر دوڑائیں مسائل حکومت کے بس سے باہر نظر آتے ہیں۔ ان معاملات کو بہتر بنانے اور مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک پوری قوم یکجا نہیں ہو گی ہم کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

یہ کام یعنی قوم کو متحد کرنے کا کام اختلافات کو دور کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے قومی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے اور بڑھانے کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران حکومت فوج اپوزیشن اور پوری قوم ایک پیج پر نظر آئے لیکن ایسا اتحاد ا ور ہم آہنگی مستقل بنیادوں پر قائم کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا بن چکا ہے۔ یہ وقتی نہیں ہونے چاہئیں،بہتر ہے بھارت امن کی راہ کا انتخاب کرے۔ یہی اسکے اور خطے کے مفاد میں ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں