کیا آپ ذیابیطس سے مکمل نجات چاہتے ہیں؟

ذیابیطس

ذیابیطس کو لاعلاج مرض قرار دیا جاتا ہے جس کو کنٹرول میں تو رکھا جاسکتا ہے مگر اس سے مکمل نجات ناممکن سمجھی جاتی ہے۔

تاہم اب طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض سے نجات یا ری میشن ممکن ہے۔

درحقیقت ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ اس مرض کی تشخیص کے ابتدائی چند برسوں کے دوران اگر جسمانی وزن میں کمی لائی جائے تو ذیابیطس کو ریورس کیا جاسکتا ہے۔

جیسا اکثر افراد کو معلوم ہوا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے پر جسم خون میں شکر یا گلوکوز کو موثر طریقے سے پراسیس نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول مسلسل بڑھا رہتا ہے۔

یہ مرض دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو شکار کرچکا ہے جبکہ دیگر پیچیدگیوں جیسے فشار خون، بینائی سے محرومی، پیروں کے زخموں کے ناسور سمیت دیگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آپکی یہ غلطیاں آپکو توند سے نجات کی کوششوں میں ناکام بناسکتی ہیں

یہی وجہ ہے کہ عام طور ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات اور غذائی تجاویز دی جاتی ہیں تاکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کو کنٹرول میں رکھا جاسکے جبکہ ری میشن یعنی مرض نہ ہونے کے برابر رہ جانا یا علامات کا غائب ہوجانا مخصوص حالات میں ہی ممکن ہوتا ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ممکن ہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے نجات پائی جاسکے۔

جریدے ڈائیبیٹس میڈیسین میں شائع تحقیق میں 40 سے 69 سال کے 867 ایسے افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں حال ہی میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص ہوئی تھی۔

ان تمام افراد کو ایڈیشن کیمبرج ٹرائل سے گزارا گیا جس میں مختلف عناصر کا تجزیہ کیا گیا۔

بعد ازاں محققین نے ان رضاکاروں کے مرض میں کمی یا اضافے پر 5 سال کے عرصے تک نظر رکھی اور میڈیکل ڈیٹا سے محققین نے دریافت کیا کہ 257 افراد میں 5 سال کے بعد ذیابیطس کی علامات لگ بھگ ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

محققین کے مطابق ایسا اس وقت ممکن ہوا جب ان افراد نے ذیابیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص کے بعد 5 سال کے اندر اپنا جسمانی وزن کم از کم 10 فیصد تک کم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم کچھ عرصے سے واقف تھے کہ ذیابیطس سے نجات ممکن ہے جس کے لیے کچھ اقدامات جیسے جسمانی وزن میں کمی اور کیلوریز کا سخت کنٹرول وغیرہ شامل ہیں، تاہم یہ اقدامات لوگوں کے لیے بہت چیلنجنگ اور ان کا حصول مشکل ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول مگر ہمارے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ذیابیطس سے کم از کم 5 سال میں نجات ممکن ہے اور اس کے لیے جسمانی وزن میں 10 فیصد تک کمی لانا ہوگی، یہ ہدف بیشتر افراد کے لیے حاصل کرنا زیادہ آسان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے غذا میں تبدیلیاں اور جسمانی سرگرمیوں کو بڑھانا ضروری ہوتا ہے، ذیابیطس ٹائپ ٹو ایسا مرض ہے جو مختلف پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اسے کنٹرول بلکہ ریورس کرنا ممکن ہے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ہفتے میں 3 بار ورک آﺅٹ کرنا انسولین کی حساسیت کو اتنا ہی بہتر بناتا ہے جتنا 45 منٹ کی ورزش۔

انسولین کی حساسیت ذیابیطس ٹائپ ٹو کی علامت ہوتی ہے اور اس تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہفتہ بھر میں 45 منٹ کی سخت ورزش اس مرض کا ممکنہ علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 10 موٹاپے کے شکار افراد کی خدمات لی گئی تھیں کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین نے ورک آﺅٹ کے انسولین کی حساسیت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کرنے کے لیے ان رضاکاروں کو 2 گروپ میں تقسیم کیا جن میں سے ایک کو15 منٹ جبکہ دوسرے کو 45 منٹ کی سخت ورزش ہفتے میں تین بار کرنے کی ہدایت کی۔

چھ ہفتے کے تجربے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ 15 منٹ کا ورک آﺅٹ بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا 45 منٹ کا۔

دونوں گروپس میں انسولین کی حساسیت کو 16 فیصد بہتر پایا گیا۔

انسولین کی حساسیت خون میں موجود گلوکوز کی شرح کو کنٹرول میں اہمیت رکھتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو میں انسولین کی حساسیت کم ہوجاتی ہے جس سے بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے جو آگے بڑھ کرامراض قلب اور فالج جیسے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دونوں گروپ کے مسلز بھی 2 ہفتے میں زیادہ مضبوط اور پہلے سے زیادہ بڑے ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ہر طرح کی جسامت رکھنے والے افراد پر اتنی ورزش کیسے اثرات مرتب کرتی ہے، اور یہ بھی اہم ہے کہ ہر شخص جم نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا گھر پر جم جیسی ورزشیں کس حد تک فائدہ مند ہوتی ہیں اور اگر نتائج مثبت ہوئے تو مستقبل میں اس طرح کی ورزشوں کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے علاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

(Visited 47 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں