یاجوج ماجوج کب اور کیسے حملہ آور ہو نگے ؟

یاجوج ماجوج کا ذکر اکثر سننے کو ملتا ہے لیکن اکثر لوگ ان کی حقیقت سے بے خبر ہیں کہ آخر یاجوج ماجوج کیا ہےِ؟ اور یہ کیسے حملہ آور ہو گی؟

یاجوج ماجوج کون ہیں ؟

یاجوج ماجوج ایک قوم ہے جس کا ذکر الہامی کتابوں میں بھی موجود ہے کہ اس مخلوق کو حضرت ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کرکے انسانی دنیا کے دوسری جانب قید کردیا تھا لیکن قیامت سے پہلے یاجوج ماجوج اس دیوار سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے گی اور جہاں سے گزرے گی انسانی بستیوں کو تباہ و برباد کرتی چلی جائے گی ۔

پھر وہ حملہ کرتے کرتے ایک جھیل پر پہنچے گی جس کا ذکر کتابوں میں موجود ہے کہ وہ اس جھیل کا سارا پانی پی جائے گی اور اس کے پیچھے آنے والے یاجوج ماجوج گروہ کو اس میں ایک بھی پانی کا قطرہ نہیں ملے گا اور ایسا محسوس ہوگا جیسے یہاں کبھی کوئی جھیل ہی نہیں تھی ۔

یاجوج ماجوج
Photo: File

اس جھیل کا نام ہے طبریہ ہے اور یہ بحرہ طبریہ کے پاس موجود ہے۔ جھیل طبریہ اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ہے۔ یہ اسرائیل میں سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے جو 21 کلومیٹر لمبی ، 13 کلومیٹر چوڑی اور 43 میٹر گہری ہے ۔ یہ وہی جھیل ہے جسے آج اسرائیل اپنے لئے معتبر سمجھ رہا ہے وہی یاجوج ماجوج کی منزل ہوگی جس کا ذکر قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے فرمادیا تھا یاجوج ماجوج دراصل کون ہیں اور یہ کہاں رہتے ہیں ،مولانا حافظ الرحمن نے اپنی کتاب قصص القرآن میں اسکا ذکر کیا ہے اور قرآن مجید کی سورہ کہف میں اس کا ذکر موجود ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے ”یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان پہاڑوں سے پہلے کچھ لوگ ملے جن کے بارے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھتے“ مفسرین و محقیقن نے لکھا ہے کہ حضرت ذو القرنین سفر کرتے وہاں جا پہنچے جو آرمینیا اور آذر بائیجان کے نزدیک واقع ہے۔ وہاں دو پہاڑوں کے درمیان سے ایک قوم نکلتی تھی۔ جو کھیت تباہ کر دیتی ترکوں کو بے دردی سے قتل کرڈالتی اور انہیں غلام بنا کر لے جاتی تھی ۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت ذو القرنین سے درخواست کی۔ کہ ہم آپ کو کچھ رقم جمع کردیں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی رکاوٹ بنادیں۔ یہ یاجوج ماجوج تھے۔

یاجوج ماجوج
Photo: File

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے ” انہوں نے کہا ، اے ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلانے والے لوگ ہیں۔ تو کیا ہم آپ کو کچھ مال کی پیش کش کرسکتے ہیں، جس کے بدلے آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی دیوار بنا دیں؟“اس پر حضرت ذوالقرنین نے جواب دیا ” اللہ نے مجھے جو اقتدار عطا فرمایا ہے، وہی (میرے لیے) بہتر ہے۔ لہذا تم لوگ میری مدد کرو، تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا “پھر حضرت ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے دونوں پہاڑوں کے درمیان کھڑے کیے اور لوگوں سے کہا ان کو جلاو جب وہ ریڈ ہوگئے تو اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا گیا تاکہ لوہے کے ٹکڑے مضبوطی سے آپس میں جڑجائیں اور چکناہٹ کے سبب کوئی اس پر چڑھ نہ سکے۔چنانچہ یہ دیوار ایسی بن گئی کہ یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے تھے، اور نہ اس میں کوئی سوراخ بنا سکتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی لمبائی پچاس میل، اونچائی 290 فٹ اورچوڑائی 10 فٹ ہے۔

loading...
یاجوج ماجوج
Photo: File

محقیقین کے مطابق قرآن مجید کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ذو القرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان سفر کیا ۔ اس پہاڑی سلسلے میں ایک جگہ بہت ہی بلند ترین پہاڑ ہیں جن کے درمیان وہ واحد راستہ ہے جہاں سے آیا جایا جاسکتا ہے مگر یہ راستہ مکمل برف سے ڈھکا ہوا ہے اس کے اندر لوہا اور دھات موجود ہے۔

تاریخ کے مطابق یاجوج ماجوج حضرت نوح ؑ کے ایک بیٹے ” یافث “ کی اولاد میں سے ہیں جو خانہ بدوش اور وحشی قبائل پر مشتمل تھی۔ ان کی تعداد بہت تیزی کیساتھ بڑھی ۔ یہ حضرت ذو القرنین کے ز مانے تک مختلف قبائل ، قوموں اور آبادیوں میں پھیل چکے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ تب سے اب تک یاجوج ماجوج اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح دیوار کو گراکر باقی دنیا سے جاملیں۔ یہ روز دیوار کو توڑتے ہیں ، جب تھوڑا ساحصہ رہ جاتا ہے اور سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا سردار واپسی کا حکم دیتا ہے کہ باقی کا کام کل کریں گے مگر اگلے روز دیوار کہیں زیادہ مضبوط ہوچکی ہوتی ہے۔

Photo: File

ماہ ربیع الاول : سیرت النبی ﷺ کو اپنانے کا پیغام

جب یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا تو وہ تمام دن دیوار میں سوراخ کریں گے اور ہر روز کی طرح ان کا سردار شام کو واپسی کا حکم دے گا اور کہے گا باقی کام کل کریں گے ان شاء اللہ۔ اس سے پہلے کبھی انہوں نے یہ الفاظ استعمال نہ کیے ۔ ان الفاظ کی برکت سے دوسرے روز دیوار کو ویسا ہی پائیں گے جیسا چھوڑ کر گئے تھے۔

انتہائی پر جوش ہوکر دیوار گرا دیں گے اور زمین پر پھیلتے چلے جائیں گے۔ جہاں سے گزرے گے تباہی پھیلائیں گے ۔ مخلوق خدا کو اپنے شروفساد کا نشانہ بنائیں گے ۔ا ن کا پھیلا گروہ جب بھاگتا ہوا جھیل ” طبریہ ” سے گزرے گا تو صحیح مسلم کے مطابق وہ سارا پانی پی جائیں گے۔ جب آخری گروہ وہاں پہنچے گا تو کہے گا کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔

یاجوج ماجوج
Photo: File

بحر طبریہ اسرائیل میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے ۔ اس کا ذکر توریت وانجیل میں بھی آیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے بڑ احصہ اسی جھیل کے ساحل پر گزارا ۔ یہاں سے قتل وغارت کرتے ہوئے یاجوج ماجوج بیت المقدس تک پہنچیں گے اور اعلان کریں گے کہ زمین پر ہمارا قبضہ ہوچکا ،اب ہم آسمانوں پر بھی قبضہ کریں گے اور آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے جو خون آلود واپس آئیں گے۔ کوئی ان کا مقابلہ نہ کرپائے گا حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پرپناہ لیں گے اور عام لوگ محفوظ مقامات پر بند ہوکر اپنی جانیں بچائیں گے۔

دجال کو قتل کون کرے گا ؟

مولانا حافظ الرحمن نے اپنی کتاب قصص القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی ؑ اور تمام مسلمان مل کر اللہ سے دعا کریں گے ۔ یہ ان سے جان چھڑا دیں پھر ا للہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایسا کیڑ اپیدا کرے گا جو ان کی موت کا باعث بنے گا۔ پوری زمین ان کی لاشوں سے بھر جائے گی ۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی جو زمین کو ان تمام لاشوں سے پاک کردے گی۔ یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ظہور مہدی ؑ پھر خروج دجال کے بعد ہوگا۔

اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوکر دجال کو قتل کرچکیں ہوں گے۔ ان کے نکلنے کی ایک علامت بحریہ طبریہ کے پانی کا تیزی سے کم ہونا بیان کیا جاتا ہے جس کا حدیث مبارکہ میں بھی ذکر ہے ۔ اور یہی وہ وقت ہو گا جب قیامت قریب ہو گی ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین ثم آمین ۔

(Visited 190 times, 4 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں