‘مولانا ٹائم پاس کر رہے ہیں تو ہم بھی ٹائم پاس کررہے ہیں’

وزیراعظم

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج نواں روز ہے اور دھرنے کے شرکاء سرد موسم کے باوجود ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہیں۔

وزیراعظم کو پرویز الٰہی کی بریفنگ

ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی 5 ملاقاتوں کی تفصیلات وزیراعظم کو بتائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کے تعطل کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔

حکومت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا

اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات جاری ہے جس میں رہبر کمیٹی سے ہونے والی ملاقاتوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی جا رہی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومتی کمیٹی کی رہبر کمیٹی کی شرائط پر وزیراعظم سے مشاورت کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے بار بار استعفےکی بات ہو رہی ہے، اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔’مولانا ٹائم پاس کر رہے ہیں تو ہم بھی ٹائم پاس کررہے ہیں’

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے جب تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن اراکین نے شور شرابا کیا جس پر پرویز خٹک نے کہا کہ آج دل سے بولنا چاہتا ہوں، کیا آپ لوگ سنیں گے، سن لیں یہ تماشہ نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ والے صبر کریں، ابھی بہت دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے گا، جتنا بیٹھنا ہے بیٹھو لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، اگر مولانا کہتے ہیں جرگہ ٹائم پاس کے لیے ہے تو ہم بھی آپ سے ٹائم پاس کررہے ہیں۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اگر جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو آئیں ٹیبل پر بیٹھیں۔

‘میرے پاس مولانا سے متعلق بہت حقائق ہیں’

تحریک انصاف کے رہنما اور صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میرے پاس مولانا فضل الرحمان سے متعلق بہت حقائق موجود ہیں، مولانا فضل الرحمان سے متعلق حقائق سامنے آئے تو عوام اور میڈیا اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ مذاکرات 100 فیصد کامیاب ہوں گے کیونکہ مولانا فضل الرحمان استعفے سے وظیفے پر آ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان کسی بھی شکل میں وظیفہ چاہتے ہیں۔ مزید پڑھیں

اب ہم اس حکومت اور وزیراعظم کو این آر او نہیں دیں گے: فضل الرحمان

اپنے خطاب میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنی بہن کی منی لانڈرنگ چھپائی اور یہ سیاستدانوں سے کہتے ہیں کہ انہیں این آر او نہیں دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج اس اسٹیج پر مجھے یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ اب ہم اس حکومت اور وزیراعظم کو این آر او نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کی ہمشیرہ نے 60 ارب روپے دبئی کے بینکوں میں کیسے رکھے؟ وہ کون سی قوت ہے کہ جس نے دھاندلی کے ذریعے اس کو کرسی تک پہنچایا‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں، فضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ’افواج پاکستان کے ترجمان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے کہا کہ فوج غیرجانبدار ہے‘۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنے کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ کہ میں ترجمان پاک فوج کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے قوم کو تسلی دی ہے کہ فوج غیر جانبدار ادارہ ہے اور وہ غیر جانبدار رہنا چاہتا ہے، اللہ انہیں استقامت نصیب فرمائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت کا طیارہ ہمارے جوانوں نے گرایا اور ان کے پائلٹ کو پکڑا تو ہمارے کارکنوں نے پورے ملک میں افواج پاکستان کو شاباش پیش کی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گلہ اپنوں سے ہوتا ہے پرایوں سے نہیں، گلہ شکوہ اپنائیت کی علامت ہوتی ہے دشمنی کی نہیں، ہم قومی اداروں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہتے، آپ نے کہہ دیا ہم غیر جانبدار ہیں، ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

’بے معنی آنا جانا نہیں ہونا چاہیے، استعفیٰ ساتھ لے کر آؤ‘

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پاس آنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، بے معنی آنا جانا نہیں ہونا چاہیے، آؤ تواستعفیٰ ساتھ لے کر آؤ اور اقتدار کے ایوان کو چھوڑنے کا اعلان کرکےآؤ، ہم نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ یہ سفر شروع کیا ہے اور اپنی منزل سے کم پر ہم راضی ہونے والے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس استعفے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، اب آپ بند گلی میں ہو، یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ بند گلی میں سانس لینا ہے یا باہر آنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم قومی اداوں سے برادرانہ کہتے ہیں کہ انہیں بھی اپنی قوم سمجھو، جن کے منہ میں دودھ کے گھونٹ ہیں وہ آپ کے ساتھ نہیں چلیں گے وہ اس ملک کی خدمت نہیں کرسکتے۔

(Visited 16 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں