تعلیمی ایمرجنسی اور پنجاب حکومت

تعلیمی ایمرجنسی

وفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے پر غور کررہے ہیں،وفاقی وزارت تعلیم جلد ہی ملک بھر میں خواندگی کی مہم شروع کرے گی۔

ملک میں خواندگی پر بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا خواندگی مہم کا مقصد 4برسوں میں شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ قومی خواندگی کے تحت بہت بڑی مہم چلائی جائے گی جس میں ہر ضلع میں تقریباً 5000خواندگی اور ہنرمندی کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا تیز ترین سکھلائی والے سلیبس متعارف کرائے جائیں گے، قومی سطح پر نیشنل لٹریسی کو آرڈینیشن سینٹر قائم کیاجائے گا۔نئے پاکستان کے قیام کو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود لاہور ڈویژن کے خواتین کالجوں میں پرنسپلوں سمیت اہم مضامین کی 52 فیصد سے زائد آسامیاں اساتذہ کی منتظر ہیں اور ڈویژن کے 13 خواتین کالج سربراہ کے بغیر چل رہے ہیں۔

جس سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے مختلف سماجی اور معاشی رکاوٹوں کو پھلانگ کر کالجوں میں پہنچنے والی ڈویژن بھر کی ہزاروں طالبات کلاس روم میں پہنچ کر بھی استاد کی نعمت سے محروم ہیں۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے ذرائع کے مطابق لاہور ڈویژن کے چار اضلاع لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کی طرف سے گریڈ 17سے گریڈ 20تک کی انگلش، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان، میتھ، عربی، باٹنی، کیمسٹری، شماریات، تاریخ، اکنامکس، فزکس، سیاسیات، ایجوکیشن، کامرس، ہوم اکنامکس، زوالوجی، ماس کمیونی کیشن، جغرافیہ، کمپیوٹر سائنسز، فائن آرٹس، سائیکالوجی سمیت اہم مضامین کی منظور شدہ 573 آسامیوں میں سے 376 خالی ہیں اور صرف 197 خواتین اساتذہ کالجوں میں تدریسی فرائض انجام دے رہی ہیں جو ڈویژن کی ہزاروں طالبات کی تعلیمی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے طالبات کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ڈویژن میں گریڈ 17 کی 140، گریڈ 18 کی 59، گریڈ 19 کی133 اور گریڈ 20 کی 44 اسامیاں خالی ہیں جبکہ ضلع لاہور کے 8 کالجوں اسلامیہ کالج کینٹ، اسلامیہ کالج کوپر روڈ، ڈگری کالج بند روڈ، ڈگری کالج بلال گنج، کوٹ خواجہ سعید کالج، باغبانپورہ کالج، چونا منڈی کالج، رائیونڈ کالج،ضلع قصور کے 3 کالجوں قصور کالج، چونیاں کالج اور پتوکی کالج اور ضلع شیخوپورہ کے 2 شیخوپورہ کالج اور صفدر آباد کالج میں پرنسپلوں کی آسامیاں خالی ہیں۔

پنجاب حکومت کی کارکردگی کے بارے میں چیف جسٹس نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ان ریمارکس کو حکومت کی مجموعی کارکردگی پر محمول کیا جائے تو بھی ان کا بالکل درست اطلاق ہوتا ہے کیونکہ اب تک کوئی ایک شعبہ بھی مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا جہاں کارکردگی میں بہتری ہوئی ہو ۔ جناب چیف جسٹس نے یہ کہہ کر پوری حکومت کو آئینہ دکھا کر اس کی حقیقت واضح کر دی ہے کہ کارکردگی صرف باتوں تک محدود ہے اور کچھ نہیں۔

پنجاب حکومت کی اب تک کی کارکردگی پر اس سے بہتر اور جامع تبصرہ نہیں ہو سکتا ۔پنجاب کابینہ کے جتنے بھی اجلاس ہوئے ہیں ان کے اختتام پر وزیر اعظم عمران خان اپنے نامزد کردہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی تعریف کرنا نہیں بھولے۔ جہاں کہیں موقع ملا انہوں نے وزیراعلیٰ کے معترضین کو کھری کھری بھی سنائیں ۔ اس کے جواب میں عثمان بزدار بھی ہر دوسرے چوتھے روز اپنے بیان میں وزیر عظم کے ویژن کا ذکر کرنا فراموش نہیں کرتے۔

لیکن نہ تو پنجاب حکومت کی کوئی ایسی کارکردگی سامنے آئی ہے جو واقعی قابلِ تعریف و تحسین ہو اور نہ ہی وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کا کوئی ایسا روپ سامنے آیا ہے۔جس سے لگے کہ وہ واقعی وژنری لیڈر ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ وہ سعودی عرب گئے تو 3 ارب ڈالر کا قرض لے آئے جس پر 3.18 فیصد سود دینا ہوگا۔ اسی طرح یو اے ای سے بھی اتنی ہی رقم 3.20 فیصد سود پر بطور قرض مل گئی۔ دونوں سے ادھار تیل بھی مل جائیگا چین نے بھی سنا ہے کوئی بہت اچھا پیکیج دے دیا ہے جس پر خوشی کے شادیانے تو بجائے جا رہے ہیں لیکن اس کی رونمائی نہیں ہو رہی، شادمانی کے ان لمحات میں یہ نہیں سوچا جا رہا کہ اس طرح قرضوں سے کب تک کام چلایا جائے گا۔

پنجاب میں صحت کے شعبے کی جو حالت ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سروسز ہسپتال کی گیارہ الٹراساؤنڈ مشینوں میں سات بالکل خراب اور قریباً ناکارہ ہو چکی ہیں ریڈیالوجی کے شعبے میں صرف دو مشینیں کام کر رہی ہیں ایسے میں ظاہر ہے مریض یا تو مجبوراً دوسرے ہسپتالوں سے رجوع کریں گے یا پرائیویٹ کلینکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جہاں کے اخراجات ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ دعوے تو بہت کئے جا رہے ہیں لیکن جس انسٹی ٹیوٹ پر بائیس ارب روپیہ لگ چکا ہے اگر وہاں پہلا آپریشن ہی نہیں ہو سکا تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ باقی ہسپتالوں کا کیا حال ہوگا جن کی وارڈوں میں بلیاں اور چوہے آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں ایسے میں اگر عوام کی تفریح طبع کے لئے ایوان صدر اور گورنر ہاؤس کے دروازے کھولے جا رہے ہیں تو اس سے کیا حاصل کیا۔

یہ سیرسپاٹے طبی سہولتوں کا متبادل ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی جو لہر آئی ہوئی ہے اس میں پنجاب حکومت کی بے تدبیریوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔ جس نے تجاوزات گرانے کے نام پر لوگوں کو بیروزگار کرنا شروع کر رکھا ہے اور بنے بنائے کام بگاڑے جا رہے ہیں ایسے میں لوگوں کو جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ نمائشی اقدامات کے ذریعے کب تک لوگوں کو گمراہ کیا جاتا رہے گا۔ صحت کے شعبے میں کیا ہو رہا ہے اس کی ایک جھلک یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وی سی پروفیسر جاوید اکرم نے بھی دکھانے کی کوشش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مافیا مقامی بیورو کریٹس سے مل کر پاکستان میں سستی ادویات بننے نہیں دیتا پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے ڈھائی کروڑ مریض ہیں لیکن مہنگا ہونے کی وجہ سے صرف پانچ لاکھ لوگوں کا علاج ہو رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی دو کروڑ پنتالیس لاکھ لوگوں کا سرے سے علاج ہی نہیں ہو رہا اور وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔

سستی ادویات کو پاکستان میں رجسٹر ہی نہیں کیا جا رہا، مافیا کے لوگ بیورو کریٹس اور سیاستدانوں کو خرید لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیپا ٹائٹس کا ڈیڑھ لاکھ ٹیکہ تیار کیا تھا لیکن رجسٹر نہیں کیا گیا اس لئے توڑ دیا بین الاقوامی معیار کے ٹیسٹ بھی کرائے جا چکے پھر بھی ادویات رجسٹر نہیں ہوئیں۔ مہنگی ادویات، بنگلہ دیش، بھارت اور امریکہ سے منگوائی جاتی ہیں لگتا ہے ارباب اختیار کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں