ویگنوں کو محفوظ بنائیں

ویگنوں

غیر محفوظ پرائیویٹ ویگنوں کا استعمال نہ صرف ملک بھر میں عام ہے بلکہ ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں، جس کے باعث اب تک کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ شہر قائد میں مدرسے کی ویگن میں سوار 13بچوں کے جھلس جانے کا واقعہ بھی اسی غفلت کا نتیجہ ہے جو بیچ راستے ریت میں دھنس کر بند ہو گئی اور دوبارہ اسٹارٹ کرنے پر دیکھتے ہی دیکھتے آگ کی لپیٹ میں آگئی۔

اس واقعہ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے اور انکوائری کرکے بات کی تہہ تک پہنچا جائے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، تاہم یہ بات ملحوظ رکھی جانا چاہئے کہ گاڑی میں ایل پی جی اور سی این جی سلنڈرز موجود تھے جن کے پھٹنے کی صورت میں کچھ بھی ہو سکتا تھا اور ایسے متعدد سانحات رونما بھی ہو چکے ہیں جو گیس سلنڈر پھٹ جانے کا ساخشانہ تھے جن میں کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بنیں۔

loading...

یہ بھی پڑھیں: نارووال : سکول وین ٹرین کی زد میں آگئی، متعدد بچے زخمی
بین الاضلاعی روٹس پر بالخصوص ایک ویگن میں کئی کئی گیس سلنڈرز نصب کرنا ٹرانسپورٹرز نے معمول بنا رکھا ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی اگر ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام چشم پوشی سے کام لیتے ہیں تو اس میں بدعنوانی کا عنصر غالب ہے۔ بہت سے شہروں میں لوکل روٹس پر چلنے والی یہ ویگنیں چلتے پھرتے بم ہیں جو نہ صرف مسافروں بلکہ آبادی کے لئے بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت بن چکی ہے کہ عموماً حادثات کے بعدہی اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے اور ایسے اقدامات چند روز جاری رہتے ہیں اس کے بعد پھر پہلے جیسے حالات سے ہی مسافروں اورماحول کو ہمہ وقت خطرات لاحق رہتے ہیں۔ حکام کے لئے لازم ہے کہ حالات پر نظر رکھنے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام موثر اور یقینی بنائے، گاڑیوں میں نصب ایک سے زائد گیس سلنڈرز ختم کرائے جائیں اور انہیں حادثات سے محفوظ رکھنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں