آگ کے گرد نماز پڑھنے کا مسئلہ حل

نماز

ریاض: سعودی علماء نے نماز سے متعلق مسلمانوں کا ایک بڑا مسئلہ حل کرتے ہوئے ر فتویٰ جاری کردیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ان دنوں سعودی عرب میں موسم سرما کے پیش نظر جگہ جگہ انگیٹھیوں اور آگ کے الاﺅ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ریاست میں یہ بات پھیلا دی گئی کہ انگیٹھی یا الاﺅ کے سامنے نماز پڑھنا درست نہیں کیونکہ اس سے آتش پرستی کا شبہ پیدا ہو جاتا ہے۔

تاہم سعودی علماء بورڈ کے رکن اور مشیر ایوان شاہی شیخ ڈاکٹر سعد الششری نے بتایا ہے کہ انگیٹھی یا آگ کے اطراف نماز پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انگیٹھی یا آگ کے الاﺅ کے سامنے نماز پڑھنے کی ممانعت کسی بھی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں ہوئی۔ اگر کوئی شخص انگیٹھی یا الاﺅ کے سامنے نماز ادا کرتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

انہوں نے یہ وضاحت ایک عرب چینل ‘الرسالہ’ کے پروگرام میں سوال و جواب کے سیشن میں بات کرتے ہوئے دی۔

مزید پڑھیں: کیا خواتین نیل پالش لگا کر نماز پڑھ سکتی ہیں ؟

ان کا کہنا تھا کہ بعض حنابلہ اور چند علماء آگ کے اطراف نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، جبکہ دیگر اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے۔

منع کرنے والے حنابلہ اور ان کے ہمراہی یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آتش پرستی کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو لوگ اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کی اس حوالے سے کوئی دلیل قرآن و سنت میں نہیں ملتی اور یہی رائے سب سے زیادہ درست ہے۔

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں