جا نے کہ انسانی جسم کا کون سا حصہ سب سے پہلے عمر رسیدہ ہوتا ہے؟

زیادہ تر لوگوں کے لیے بوڑھاپا پریشانی کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ خواتین کے ساتھ ساتھ مرد بھی اس پریشانی کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس کا اظہار نہیں کرتے۔

اس پریشانی کا ایک سبب شاید یہ بھی ہے کہ عمر رسیدگی کے اثرات ظاہری طور پر بھی نمایاں ہو جاتے ہیں اور اس سے لوگوں کو آپ کی عمر کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی آپ سے یہ پوچھے کہ انسانی جسم کا وہ کون سا حصہ ہے جو سب سے پہلے بڑھتی ہوئی عمر کا شکار ہوتا ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟

دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالیں کیوںکہ دماغ ہوتا ہے سر میں اور سر ہی جسم کا وہ حصہ ہے جو سب سے پہلے بڑھتی ہوئی عمر کا نشانہ بنتا ہے۔

قبل اس کہ آپ مزید پریشان ہو جائیں، سن لیں کہ سر اور جسم کے درمیان عمر رسیدگی کا یہ فرق صرف نینو سیکنڈز کا ہے۔مثال کے طور پر اگر ایک شخص کی عمر 79 برس ہے تو سمجھ لیں کہ جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں اس کا سر 90 نینو سیکنڈز زیادہ بوڑھا ہوگا۔

یہ فرق اس قدر معمولی ہے کہ ایک انسان کے لیے اسے سمجھنا تقریباً کیا مکمل طور پر ناممکن ہے۔

انسانی سر کے بقیہ جسم سے پہلے عمر رسیدہ ہونے کا تعلق آئن اسٹائن کی ریلیٹوٹی تھیوری (نظریہ اضافیت) سے ہے جسے بعد میں دوسرے سائنسدانوں نے بھی ثابت کر دیا۔

وقت کی شرح کا تعلق آپ کی جسمانی حرکت کی تیزی اور کشش ثقل سے آپ کی نزدیکی سے ہے۔مثال کے طور پر سطح مرتفع کی اونچائی پر موجود گھڑیاں سطح سمندر کے قریب موجود گھڑیوں کے مقابلے میں قدرے تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین اس نظریے کو ہر طرح کی باریک بینی سے جانچ لینا چاہتے تھے۔

اس جانچ کے لیے انہوں نے اٹامک گھڑیوں کا استعمال کیا جو حرکت اور کشش ثقل کے لیے انتہائی حساس تھیں۔انہوں نے ایک گھڑی کو دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایک میٹر کی ایک تہائی تقریباً ایک فٹ اونچا کیا تو وہ پہلے والی گھڑی کے مقابلے میں وہ نسبتاً تیزی سے چلنا شروع ہو گئی کیونکہ اس پر کشش ثقل کا ہلکا سا اثر ہوا تھا۔

اس تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کشش ثقل صرف ایک فٹ کی اونچائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے تو لازمی طور پر پاؤں اور سر کے درمیان وقت کے اثرات میں ہلکا سا فرق تو ہوگا اور اسی طرح سر جسم کا سب سے پہلے عمر رسیدگی کا شکار ہونے والا حصہ ٹھہرا۔

لیکن یہ فرق کسی بھی طور پر اتنا واضح نہیں ہوتا کہ انسانی آنکھ اسے دیکھے اور محسوس کر سکے۔

اب یہ پڑھنے کے بعد آپ اس بات کو اپنے سر پر سوار مت کر لیجیے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ اس پریشانی کے بعد آپ کی عمر بڑھنے کا عمل مزید تیز ہو جائے۔

loading...

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں