بی زمانی بیگم

غسل خانہ

زمین شق ہو رہی ہے۔ آسمان کانپ رہا ہے۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے۔ آگ کے شعلوں میں دنیا ابل رہی ہے۔ زلزلے پر زلزلے آرہے ہیں۔ یہ کیا ہورہا ہے؟

’’تمہیں معلوم نہیں؟‘‘

’’نہیں تو۔ ‘‘

’’لو سنو۔ دنیا بھر کو معلوم ہے۔ ‘‘

’’کیا؟‘‘

’’وہی زمانی بیگم۔ وہ موٹی چڈر۔ ‘‘

’’ہاں ہاں، کیا ہوا اسے!‘‘

’’وہی جو ہوتا ہے لیکن اس عمرمیں شرم نہیں آئی بدبخت کو۔ ‘‘

’’یہ بدبخت زمانی بیگم ہے کون؟‘‘

’’ہائیں وہی اسکندر کی ہوتی سوتی۔ موئی نکھیائی چنگیز کے پاس رہی۔ ہلاکو کی داشتہ بنی۔ کچھ دن اس لنگڑے تیمور کے ساتھ منہ کالا کرتی رہی۔ وہاں سے نکلی تو نپولین کی بغل میں جاگھسی۔ اب یہ موا ہٹلر باقی رہ گیا تھا۔ ‘‘

’’تو کیا اب ہٹلر کے گھر ہے؟‘‘

’’ہوا گھر گھاٹ کیسا۔ نباہ ہو سکتا ہے کبھی ایسی عورت کا۔ ‘‘

’’طلاق ہو گئی ہے کیا؟‘‘

’’تم کیسی باتیں کرتی ہو بُوا۔ طلاق تو وہاں ہو جو سہرے جلوؤں کی بیاہی ہو اور پھر ایسے مردوں کا کیا اعتبار ہے۔ دو دن مزے کیے اور چلو چھٹی۔ ‘‘

’’تو اب ہو کیا رہا ہے۔ یہ فضیحتہ کس بات کا۔ ‘‘

’’فضیحتہ کیا ہے پورے دنوں سے ہے۔ بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ ‘‘

’’تو ہو کیوں نہیں چکتا۔ ‘‘

’’ہاں سچ تو یہ کوئی پلوٹھی کا تو ہے نہیں۔ ‘‘

’’ڈاکٹر آرہے ہیں۔ دیکھو آج نہ کل ہو جائے گا۔ ‘‘

ڈاکٹر آتے رہے۔ لیکن بی زمانی کے بچہ پیدا نہ ہوا۔ درد و کرب کی لہروں میں اضافہ ہو گیا۔ زلزلے اور زیادہ زور سے آنے لگے۔ شعلوں کی زبانیں اور زیادہ تیز ہو گئیں۔ ڈاکٹروں نے کانفرنس کی۔ حکمت کی ساری کتابیں چھانی گئیں۔ طے ہوا کہ حاملہ کو طہران لے جائیں۔ وہاں روس کے ماہر ڈاکٹرکو بلایا جائے اور اس سے مشورہ کیا جائے۔ طہران میں خاص طور پر جلدی جلدی ایک میٹرنٹی ہوم تیار کیا گیا۔ بی زمانی بیگم درد سے تڑپتی رہی اور دنیا کے تین بڑے ڈاکٹر مشورہ کرتے رہے۔ ایک بولا۔

’’صاحبان اس میں کوئی شک نہیں کہ ہونے والا بچہ ہمارا نہیں لیکن انسانیت کے نام پر ہمیں مریضہ کو اس مشکل سے نجات دلانا ہی پڑے گی۔ ‘‘

دوسرا بولا۔

’’ہم تین بڑے ڈاکٹر تین قسم کے طریقہ علاج کے ماہر ہیں۔ سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک طریقہ علاج پر متفق ہوں۔ اگر ایسا ہو گیا تو بی زمانی بیگم کے بچہ پیدا ہونا کوئی مشکل کام نہیں۔ ‘‘

تیسرا بولا۔

’’بالکل درست ہے۔ آئیے ہم فوراً یہ نیک کام شروع کردیں۔ ‘‘

تینوں طریقے ملا کر ایک اور طریقہ بنایا گیا۔ جس پر تینوں بڑے ڈاکٹر متفق ہو گئے۔ دنیا کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ مگر بی زمانی بیگم کے بچہ پیدا نہ ہوا۔

’’یہ کیا ہورہا ہے۔ بچہ پیدا کیوں نہیں ہوا ابھی تک۔ ‘‘

’’بچہ تو پیدا ہورہا تھا مگر اسے روک دیا گیا ہے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’ڈاکٹر سوچ رہے ہیں کہ اسے گود کون لے گا۔ ‘‘

’’ہوں!‘‘

’’تو فیصلہ کیا ہوا؟‘‘

’’تم کیسی باتیں کرتی ہو بُوا۔ ایسے معاملوں کا اتنی جلدی فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے۔ خیر چھوڑو اس قصے کو۔ کچھ نہ کچھ ہو ہی جائے گا۔ جس کے ہاں اولاد نہیں وہ غریب گود لے لے گا۔ اولاد ہر ایک کے تھی۔ کسی کے ہاں چار بچے تھے۔ کسی کے ہاں پانچ اور کسی کے ہاں سات۔ اب فیصلہ کیسے ہو۔ ایک اور کانفرنس ہوئی۔ ڈمبارٹن اوکس میں ایک اور میٹرنٹی ہوم افراتفری میں بنایا گیا۔ تینوں بڑے ڈاکٹر وہاں جمع ہوئے۔ ہر ایک نے سوچا۔ ہر ایک نے معاملہ کی اہمیت سمجھنے کی کوشش کی۔ اور بی زمانی بیگم بستر پر پڑی درد سے کراہتی رہی۔ ایک بولا۔

’’صاحبان۔ ہم صاحب اولاد ہیں۔ اس بچے کے وجود کے ہم ذمہ دار نہیں۔ لیکن انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کی پیدائش میں ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔ آخر اس میں ہونے والے بچے کا کیا قصور ہے۔ ‘‘

دوسرا۔

’’ہم ڈاکٹر ہیں۔ ہمارا مذہب دوا ہے۔ ہم چاہیں تو اس ہونے والے ناخلف بچے ہی کو جس سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں۔ ایک فرمانبردار۔ اطاعت شعار۔ آزادی پسند اور انسانیت دوست نوجوان بنا سکتے ہیں۔ ‘‘

تیسرا بولا۔ ’بالکل درست ہے۔ اس بچے کی پیدائش سے دنیا کا ایک بہت بڑا بوجھ دور ہو جائے گا۔ ہم ڈاکٹر ہیں۔ اپنے فرض سے ہمیں غافل نہیں رہنا چاہیے۔ ‘‘

طے ہو گیا۔ ایک دستاویز پر انگوٹھے لگا دیے گئے کہ ہونے والے بچے کو یہ تینوں ڈاکٹر گود لیں گے۔ تینوں ملکر اس کی پرورش کریں گے۔ لیکن بی زمانی بیگم کی تکلیف پھر بھی رفع نہ ہوئی۔ وہ پڑی درد سے کراہتی رہی۔

’’آخر یہ مصیبت کیا ہے؟‘‘

’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘

’’قصہ یہ ہے کہ بچے کو گود لینے کا تو فیصلہ ہو گیا ہے لیکن اس بی زمانی کا بھی تو کچھ بندوبست ہونا چاہیے۔ ‘‘

’’میں تو کہتی ہوں۔ سات جھاڑو اور حقہ کا پانی۔ ‘‘

’’لعنت بھیجیں موئی حرافہ پر۔ ‘‘

’’نہیں بوا۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ کم بخت کہیں پھر‘‘

’’اوہ۔ ‘‘

ایک اور کانفرنس ہوئی۔ تینوں بڑے ڈاکٹر آخری بار پوٹسڈم میں جمع ہوئے۔ جلدی جلدی ایک میٹرنٹی ہوم تیار کیا گیا۔ بی زمانی بیگم درد سے پیچ و تاب کھاتی رہی اور ادھر کانفرنس ہوتی رہی۔ ایک بولا۔

’’صاحبان‘‘

دنیا کی فلاح اور بہبودی کے لیے آج اس بات کا قطعی طور پر فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ بی زمانی بیگم کا یہ بچہ اس کا آخری بچہ ہو۔ ‘‘

دوسرا بولا۔

’’دنیا کے تھن اس عورت کے لاتعداد حرامی بچوں کو دودھ پلا پلا کر سوکھ گئے ہیں۔ اب ہمیں اس کو بانجھ کرنا ہی پڑے گا۔ ‘‘

تیسرا بولا۔

’’بالکل درست ہے۔ ہونے والے بچے کی صحت اور تندرستی کا خیال رکھتے ہوئے بھی ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ‘‘

طے ہو گیا کہ بچہ فوراً پیدا کیا جائے اور بی زمانی بیگم کو ہمیشہ کے لیے بانجھ کردیا جائے۔ عمل جراحی شروع ہوا۔ میٹرنٹی ہوم کے باہر دنیا کی ساری قومیں جمع ہو گئیں۔ بہت دیر تک سناٹا چھایا رہا۔ اس کے بعد میٹرنٹی ہوم کا دروازہ پھٹ سے کھلا۔ ایک سفید پوش نرس باہر نکلی اور اس نے اپنی باریک آواز میں اعلان کیا۔

’’مبارک ہو بی زمانی بیگم کے بچہ پیدا ہو گیا ہے۔ زچہ اور بچہ دونوں بیہوش ہیں۔ ‘‘

دنیا کی ساری قومیں فکر و تردو میں غرق ہو گئیں۔ ایک بوڑھا لنگوٹی پہنے کھانستا کھنکارتا نرس کی طرف بڑھا۔ نرس نے پوچھا۔

’’تم کون ہو؟‘‘

۔ بوڑھے نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور لرزاں آواز کہا۔

’’میرا نام ہندوستان ہے۔ ‘‘

’’اوہ۔ کیا چاہتے ہو تم؟‘‘

’’میں صرف یہ پوچھنے آیا ہوں کہ لڑکا ہوا ہے یا لڑکی؟‘‘

دنیا کی ساری قومیں بے اختیار کھکھلا کر ہنس پڑیں۔ (اے۔ آئی۔ آر۔ بمبئی سے منشور)

سعادت حسن منٹو
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں