یہ بھی عورت ہے !

عورت

امام واقدی ؒ فرما تے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے بڑی مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ فاقوں تک نوبت پہنچی، گھر سے اطلاع آئی کہ عید کی آمد آمد ہے، کچھ بندوبست کر لیجئے، ہم تو گزارہ کر لیں گے لیکن بچوں کے ساتھ کیا کریں گے۔

یہ سن کر گھر سے نکلا اور ایک تاجر دوست کے پاس چلا گیا۔ اس نے میری حالت دیکھ کر سمجھ گیا، میں نے کہا ایسا معاملہ ہے۔ اس نے بارہ سو درھم کی سر بمہر ایک تھیلی عنایت فرما دی۔ گھر آیا تو ایک ہاشمی دوست تشریف فرما تھے، اس کے گھر بھی فقر و افلاس نے ڈیرہ لگا یا تھا۔

ہاشمی دوست نے کہا: عید کی آمد آمد ہے، گھر میں کوئی راشن نہیں آپ کچھ کر لیں۔ میں بیوی کے پاس چلا گیا، اس سے کہا کہ ہاشمی بھائی اس ارادہ سے آیا ہے۔ بیوی نے کہا: آپ کا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ اس تھیلا میں سے آدھا اس کو دے دوں گا اور آدھا پر اپنا گزارہ چلا لیں گے۔

بیوی نے کہا: عجیب بات ہے! آپ ایک عام آدمی کے پاس گئے، اس نے آپ کو بارہ سو درھم دیئے، اور آپ ہاشمی کو نصف دے رہے ہیں۔ یہ سب اس کو دی دیں۔ چنانچہ میں نے وہ تھیلا کھولے بغیر ان کو پکڑا دی اور وہ چلے گئے۔

جیسے ہی ہاشمی بھائی گھر پہنچ گئے تو تاجر دوست اس کے گھر حاضر ہو گئے، کہا کہ بھائی گھر میں فقر و فاقہ ہے، آپ کچھ قرضہ دے دے، ہاشمی نے وہی تھیلا حاضر کیا اور کہا کہ یہ لے لو۔ تاجر نے جب دیکھ لیا تو حیران ہو گیا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ تھیلا ہاشمی دوست کے پاس چھوڑ کر سیدھا میرے پاس آیا۔

کسی مسلمان کی تدفین تابوت میں جائز ہے یا نہیں ؟

میں نے سارا قصہ سنا یا، اصل میں تاجر دوست کے پاس بھی صرف وہی تھیلا تھا جو اس نے مجھے دیا تھا، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ جب وہ خود ہاشمی کے پاس گیا تو سارا راز کھل گیا۔

ایثار و ہمدردی کے اس عجیب واقعہ کی اطلاع جب وزیر یحییٰ بن خالد کو ہوئی تو وہ دس ہزار دینار لے کر آئے، کہنے لگے: ان میں سے دو ہزار آپ کے، دو ہزار تاجر کے، دو ہزار ہاشمی بھائی کے اور چار ہزار آپ کی اہلیہ کے ہیں، کیونکہ وہ سب سے زیادہ قابل اعزاز ہے۔

یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے ایک زندہ مثال قائم کی، اسی طرح ایثار، ہمدردی، حسنِ سلوک اور صلہ رحمی اگر ہر مسلمان میں پیدا ہو جائے تو جنت نما معاشرہ وجود میں آئے گا۔ ہمیں ان حضرات کی تاریخ سے سبق لینا چاہیے، انہوں نے کیسے زندگی گزاری، ایک دوسرے کے خاطر کیا کیا قربانیاں دی۔

خصوصاً اس عورت کے کارنامے کو دیکھئے، جس نے شوہر کو سب کچھ لٹا دینے پر مجبور کر دیا۔ اگر اس زمانے کی عورت ہوتی تو وہ کہتی کہ ہم نے خود مانگ کر لیا ہے تو اس کو کیسے دیدے، لیکن جس طرح ان حضرات میں ایثار و ہمدردی کا جذبہ تھا، اسی طرح اپنے اولاد اور گھر والوں کو بھی یہ سبق سکھایا تھا۔

اللہ تعالی ہمیں بھی وہ جذبہ اور خلوص عنایت فرمائیں۔

تحریر:عبدالوحیدشانگلوی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں