مہنگائی کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

مہنگائی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ وقفہ سوالات مکمل ہوتے ہی اپوزیشن ارکان کھڑے ہوگئے، ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

پلے کارڈز پر مہنگائی بم نا منظور، عوامی استحصال نہ منظور،عوام کا معاشی قتل بند کرو،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نا منظور اور حکومت مخالف نعرے درج تھے۔ اپوزیشن ارکان نے آئی ایم ایف کے سابقہ افسر کو گورنر سٹیٹ بینک کے عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ امر واقع ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسکے مالی اور اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات کے نتیجہ میں اسکے اقتدار کے آغاز ہی میں عوام کو جس بری طرح مہنگائی کے جھٹکے لگنا شروع ہوئے اسکی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

اس پر مستزاد یہ کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملازمتوں سے متعلق اپنی بعض پالیسیوں کی بنیاد پر بے روزگاری میں بھی اضافہ کر دیا جبکہ کاروباری طبقات اور سرمایہ کار حضرات بھی عدم تحفظ کا شکار نظر آئے۔

اس طرح جس معاشرے کو وزیراعظم عمران خان ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں وہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجہ میں اپنے اچھے مستقبل سے مایوس ہونیوالی قوم کے اضطراب کی عکاسی کرتا نظر آیا۔بے شک وزیراعظم اور انکی کابینہ کے ارکان اچھے حالات کیلئے عوام کو چھ سے آٹھ ماہ تک صبر کی تلقین کرتے بھی نظر آتے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے اچھے مستقبل کے دکھائے جانیوالے سہانے سپنوں کے برعکس آج زمینی حقائق یہی ہیں کہ مہنگائی کے تسلسل کے ساتھ جھٹکے لگانے والی حکومتی پالیسیوں نے عوام کو عملًا زندہ درگور کردیا ہے جنہیں وفاقی وزیر فیصل واوڈاکے اس دعوے پر بھی ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ قوم 200 روپے لٹر پر بھی پٹرول خریدنے پر بخوبی آمادہ ہو جائیگی۔

یقیناً وزیر موصوف کے اس دعوے کو آزمانے کیلئے ہی پٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخ چند روز کیلئے معرض التوا میں رکھ کر عوام پر اچانک 9 روپے فی لٹر تک پٹرولیم نرخوں میں اضافے کا ہتھوڑا برسایا گیا۔ حکومت کی جانب سے ماہ رمضان المبارک سے صرف چند روز قبل عوام پر توڑی گئی اس افتاد پر اپوزیشن اور عوام کے مختلف حلقوں کی جانب سے جو سخت ردعمل سامنے آرہا ہے وہ فیصل واوڈاکے دعوے کی مکمل نفی کرتا نظر آتا ہے۔

اس سلسلہ میں پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پٹرولیم نرخوں میں اضافے کیخلاف مظاہرے کرنیوالے جیالوں پر مقدمات نے آمریت کی یاد تازہ کردی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہبازشریف نے باور کرایا ہے کہ حکومت اپنی نالائقی کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے انتباہ کیا ہے کہ مہنگائی کا سونامی سب کچھ بہا لے جائیگا جبکہ اسفندیار ولی نے حکمرانوں سے اقتدار چھوڑنے کا تقاضا کردیا ہے۔یہ طرفہ تماشا ہے کہ حکومتی ٹیم کی جانب سے حکومتی اقدامات کا دفاع بھی غلط بیانی کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جن کی وزارت کا قومی مالیاتی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں قوم کو یہ مژدہ سنایا کہ ہم پٹرولیم نرخ نہ بڑھاتے تو خسارے میں مزید اضافہ ہوجاتا۔

اسی طرح وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یہ کہہ کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ تیل کے عالمی نرخ بڑھنے کے باعث پٹرولیم نرخوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ قومی میڈیا کی رپورٹس میں دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخ بتدریج کم ہو رہے ہیں جو مئی 2018 تک 72 ڈالر فی بیرل تھے اور اب مئی 2019 میں 70 ڈالر فی بیرل ہیں۔

میڈیا کی فعالیت کے دور میں یقینا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا مشکل ہوتا ہے اس لئے حکومت کو عوام میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے انہیں مسلسل مہنگائی کے دلدل کی جانب دھکیلنے سے گریز کرنا ہوگا تاہم حکومت آئی ایم ایف کے چھ سات ارب ڈالر کے پیکیج کی خاطر اسے جس تناسب سے نئے ٹیکس عائد کرنے اور مروجہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوںمیں اضافہ کرنے کا عندیہ دے رہی ہے اسکے بعد تو مہنگائی کے اٹھنے والے نئے سونامیوں کے آگے زندہ درگور عوام کا تنفس کا سلسلہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائیگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے آٹھ ماہ کے دوران پٹرولیم نرخوں میں ساڑھے 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں ٹرانسپورٹ اور ریل کے کرایوں میں اضافے کے علاوہ روزمرہ استعمال کی اشیا بھی خوفناک حد تک مہنگی ہو گئی ہیں۔

یہ حقیقت کھل کر سامنے آرہی ہے کہ ماہ رمضان المبارک سے قبل ہی حکومت کے لگائے گئے سستے بازاروں میں بھی اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ اب ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی وفاقی اور صوبائی بجٹ پیش ہونے ہیں جن میں آئی ایم ایف کو بتائے گئے مجوزہ ٹیکس لاگو کئے جائینگے تو اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کے اقتصادی مسائل میں مزید کتنا اضافہ ہوگا۔

اس پر مستزاد یہ کہ حکومت آئی ایم ایف کی جانب سے ایمنسٹی سکیم سے چھٹکارا پانے کے دکھائے جانیوالے راستے پر چلنے پر بھی آمادہ نظر نہیں آرہی اور عوام کیلئے اسی زہر کو تریاق بنانا چاہتی ہے جس نے پہلے ہی عوام کو مہنگائی کی چکی کے پاٹوں میں پیسے پیستے ادھ موا کردیا ہے۔ تریاق کا یہ نسخہ بھی آئی ایم ایف کے روبرو زانوئے تلمذ تہہ کرنے کیلئے آزمایا جارہا ہے تو اپوزیشن اور دوسرے عوامی حلقے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ حکومت نے قومی معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے جس کیلئے آئی ایم ایف کے نمائندے رضا باقر کو گورنر سٹیٹ بنک کے منصب پر تعینات کیا گیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ حکومت نے عوام پر مسلسل بوجھ ڈالنے والی پالیسیوں سے رجوع نہ کیا اور انہیں ریلیف دینے کے اقدامات نہ اٹھائے تو اس کا پہلا بجٹ ہی اس کیلئے آزمائش بن جائیگا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں