سانحہ کربلا اور شہادتِ امام حسینؓ

یزید نے جب فوراً اپنی خلافت کا اعلان کر دیا تو اس نے امام حسینؓ سے بھی اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مطالبہ کردیا لیکن امام حسینؓ نے کسی کی پرواہ کیے بغیر اس بات کا سرعام اعلان کردیا کہ یزید خلافت کا اہل نہیں ہے، اس لئے اسے خلیفۃ المسلمین نہیں بنایا جاسکتا۔ یزید کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے والیٔ مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ وہ امام حسینؓ کو میری بیعت پر مجبور کرے اور ان کو اس معاملہ میں مزید کسی قسم کی مہلت نہ دے۔

ولید کے پاس جب یہ خط پہنچا تو وہ فکر میں پڑ گیا کہ اس حکم کی تعمیل وہ کس طرح کرے؟ چناں چہ اس نے سابق والیٔ مدینہ مروان بن حکم کو مشورہ کے لئے بلایا، اس نے کہا کہ اگر امام حسینؓ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو ٹھیک، ورنہ ان کو یہیں پر شہید کر دیا جائے لیکن ولید ایک عافیت پسند شخص تھا، اُس نے مروان کی بات کی پرواہ کیے بغیر امام حسینؓ کے لئے راستہ کھول دیا اور وہ واپس چل پڑے۔

مروان نے ولید کو ملامت کی کہ تو نے موقع ضائع کردیا، مگر ولید نے کہا کہ: ’’ اللہ کی قسم ! میں امام حسینؓ کو شہید کرنے سے ڈرتا ہوں، امام حسینؓ کے خون کا مطالبہ جس کی گردن پر ہوگا وہ قیامت کے دن نجات نہیں پا سکے گا۔‘‘ چنانچہ امام حسینؓ اپنے اہل و عیال کو لے کر مکہ مکرمہ آگئے۔

اہل کوفہ کو جب اس بات کا علم ہوا کہ امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا ہے تو کچھ حضرات سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان پر جمع ہوئے اور آپؓ کو خط لکھا کہ ہم بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، آپؓ فوراً کوفہ تشریف لے آئیں، ہم سب آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلیںگے۔

اِس کے دو دن بعد ان لوگوں نے اسی مضمون کا ایک خط امام حسینؓ کی طرف لکھا اور چند دوسرے خطوط بھی آپؓ کے پاس بھیجے، جن میں یزید کی شکایات اور اس کے خلاف اپنی نصرت و تعاون اور آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔

چند وفود بھی آپؓ کی خدمت میں بھیجے۔ امام حسینؓ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ کیا اور ان کے ہاتھ یہ خط لکھ کر اہل کوفہ کی طرف بھیجا کہ :’’میں اپنی جگہ اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو بھیج رہا ہوں تاکہ یہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر مجھے ان کی اطلاع دیں۔ اگر حالات درست ہوئے تو میں فوراً کوفہ پہنچ جاؤںگا۔‘‘

مسلم بن عقیلؓ نے جب چند دن کوفہ میں گزارے تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ لوگ واقعتاً یزید کی بیعت سے متنفر اور امام حسینؓ کی بیعت کے لئے بے چین ہیں، چناں چہ انہوں نے چند ہی دنوں میں اہل کوفہ سے اٹھارہ ہزار مسلمانوں کی امام حسینؓ کے لئے بیعت کر لی اور حسب ہدایت امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دے دی۔

جب لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوئی امام حسینؓ نے کوفہ جانے کا عزم کر لیا ہے تو بجز عبد اللہ بن زبیرؓ کے اور کسی نے آپ کو کوفہ جانے کا مشورہ نہیں دیا بلکہ بہت سے حضرات آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مشورہ دیا کہ آپؓ کوفہ ہرگز نہ جائیں لیکن امام حسینؓ کو کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا مکمل شرح صدر ہو چکا تھا۔

اِس لئے آپؓ اپنی خداداد بصیرت اور دُور اندیشی کے سبب مؤرخہ ۸ یا ۹ذی الحجہ ۶۰ھ کو مکہ مکرمہ سے کوفہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ کوفہ میں جب ابن زیاد کو آپؓ کی آمد کی اطلاع ملی تو اُس نے مقابلے کے لئے پیشگی ہی اپنا ایک سپاہی ’’قادسیہ‘‘ کی طرف روانہ کردیا۔

امام حسینؓ جب مقام’’ زیالہ‘‘ پر پہنچے تو آپؓ کو یہ المناک خبر پہنچی کہ آپؓ کے رضاعی اور چچا زاد دونوں بھائیوں کو اہل کوفہ نے قتل کر دیا ہے۔ اب آپؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو ایک جگہ جمع کرکے ان سے فرمایا کہ اہل کوفہ نے ہمیں دھوکا دیا ہے اور ہمارے متبعین ہم سے پھر گئے ہیں۔

امام حسینؓ اور ان کے ساتھی ابھی راستہ میں چل ہی رہے تھے کہ دوپہر کے وقت دُور سے کچھ چیزیں حرکت کرتی نظر آئیں، غور کرنے پر معلوم ہوا کہ گھڑ سوار ہیں، اس لئے امام حسینؓ اور آپؓ کے ساتھیوں نے ایک پہاڑی کے قریب پہنچ کر محاذِ جنگ بنالیا۔

ابھی یہ حضرات محاذ کی تیاری میں مصروف ہی تھے کہ ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج حر بن یزید کی قیادت میں مقابلہ پر آگئی اور اِن سے مقابلہ کے لئے آکر پڑاؤ ڈال دیا۔

حر بن یزید کو حصین بن نمیر نے ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج دے کر ’’قادسیہ‘‘ بھیجا تھا، اس لئے یہ اور اِس کا لشکر آ کر امام حسینؓ کے مقابل ٹھہر گئے۔

امام حسینؓ نے حر بن یزید سے فرمایا:’’تمہارا کیا ارادہ ہے؟‘‘ حر نے کہا ’’ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم آپؓ کو ابن زیاد کے پاس پہنچا دیں۔‘‘ امام حسینؓ نے فرمایا ’’میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جا سکتا۔‘‘ حر نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! پھر ہم بھی آپؓ کو یہاں تنہا نہ چھوڑیں گے۔‘

ابھی یہ حضرات محاذ کی تیاری میں مصروف ہی تھے کہ ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج حر بن یزید کی قیادت میں مقابلہ پر آگئی اور اِن سے مقابلہ کے لئے آکر پڑاؤ ڈال دیا۔

حر بن یزید کو حصین بن نمیر نے ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج دے کر ’’قادسیہ‘‘ بھیجا تھا، اس لئے یہ اور اِس کا لشکر آ کر امام حسینؓ کے مقابل ٹھہر گئے۔

امام حسینؓ نے حر بن یزید سے فرمایا:’’تمہارا کیا ارادہ ہے؟‘‘ حر نے کہا ’’ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم آپؓ کو ابن زیاد کے پاس پہنچا دیں۔‘‘ امام حسینؓ نے فرمایا ’’میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جا سکتا۔‘‘ حر نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! پھر ہم بھی آپؓ کو یہاں تنہا نہ چھوڑیں گے۔‘

جب آپؓ مقام’’نینویٰ‘‘ پر پہنچے تو ایک گھڑ سوار کوفہ سے آتا ہوا نظرآیا، یہ سب اس کی آمد میں اپنی اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے۔ اس نے آکر امام حسینؓ کو تو نہیں البتہ حر بن یزید کو سلام کیا اور ابن زیاد کا خط اس کو دیا۔ حر نے ابن زیاد کا خط پڑھ کر اس کا مضمون امام حسینؓ کو سنایا اور ساتھ ہی اپنی مجبوری بھی ظاہر کی کہ: ’’اِس وقت میرے سر پر جاسوس مسلط ہیں، اس لئے فی الحال میں آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مصالحت نہیں کرسکتا۔‘‘

اِس کے بعد ابن زیاد نے کوفہ سے عمرو بن سعد کو مجبور کرکے چار ہزار کا لشکر دے کر امام حسینؓ کے مقابلے کے لئے بھیج دیا۔ عمرو بن سعد نے یہاں پہنچ کر امام حسینؓ سے کوفہ آنے کی وجہ پوچھی تو آپؓ نے پورا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ’’ اہل کوفہ نے خود مجھے یہاں آنے کی دعوت دی ہے۔ اگر اب بھی ان کی رائے بدل گئی ہو تو میں واپس مدینہ جانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ عمرو بن سعد نے اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر ابن زیاد کی طرف لکھا کہ امام حسینؓ واپس جانے کے لئے تیار ہیں۔

ابن زیاد نے جواب میں لکھا کہ: ’’ امام حسینؓ کے سامنے صرف یہ ایک شرط رکھو کہ وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں! جب وہ ایسا کر لیں گے تو پھر ہم غور کریں گے کہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ اور ساتھ ہی عمرو بن سعد کو یہ حکم دیا کہ وہ امام حسینؓ کا پانی بند کر دیں۔‘‘

یہ واقعہ امام حسینؓ کی شہادت سے تین دن پہلے کا ہے۔ یہاں تک کہ جب یہ سب حضرات پیاس کی شدت سے نڈھال ہوئے تو امام حسینؓ نے اپنے بھائی عباس بن علیؓ کو تیس گھڑ سواروں اور تیس پیادوں کے ساتھ پانی لانے کے لئے بھیجا، جب یہ لوگ پانی لینے کے لئے جا رہے تھے تو راستہ میں عمرو بن سعد کی فوج سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی لیکن اس کے باوجود پانی کی تقریباً بیس مشکیں یہ حضرات اپنے ساتھ بھر کر لے آئے۔

امام حسینؓ نے عمرو بن سعد کے پاس پیغام بھیجا کہ ’’ آج رات ایک دوسرے کے لشکروں کے ساتھ ہماری ملاقات ہونی چاہیے تا کہ ہم سب بالمشافہ ایک دوسرے کے سامنے گفتگو کرسکیں۔‘‘ عمرو بن سعد نے آپؓ کا یہ پیغام قبول کیا اور رات کو دونوں لشکروں نے باہم ایک دوسرے سے ملاقات کی۔

ملاقات میں امام حسینؓ نے اپنے متعلق عمرو بن سعد کے سامنے مندرجہ ذیل تین شرطیں رکھیں

اول: میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں۔

دوم: میں یزید کے پاس چلا جاؤں اور خود اس سے اپنا معاملہ طے کرلوں ۔

سوم: مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچا دو، وہ لوگ جس حال میں ہوں گے میں بھی اسی حال میں رہ لوں گا۔

عمرو بن سعد نے امام حسینؓ کی یہ تینوں باتیں سن کر ابن زیاد کی طرف دوبارہ ایک خط روانہ کیا جس میں لکھا تھا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ بجھا دی اور مسلمانوں کا کلمہ متفق کر دیا۔ مجھ سے امام حسینؓ نے ان (مذکورہ) تین باتوں کا اختیار مانگا ہے جن سے آپ کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور امت کی اسی میں صلاح و فلاح ہے۔‘‘

ابن زیاد نے جب یہ خط پڑھا تو وہ کافی متاثر ہوا لیکن شمر بن ذی الجوشن جو ابن زیاد کے پاس ہی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا کہنے لگا کہ ’’ کیا آپ امام حسینؓ کو مہلت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ قوت حاصل کرکے دوبارہ تمہارے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوں؟ ‘‘

ابن زیاد نے شمر کی رائے کو قبول کرتے ہوئے عمرو بن سعد کی طرف اسی مضمون کا ایک خط لکھا اور اسے شمر کے ہاتھ روانہ کیا اور اسے ہدایت کی کہ اگر عمرو بن سعد میرے اس حکم کی فوراً تعمیل نہ کرے تو تو اسے قتل کر دینا اور اس کی جگہ لشکر کا امیر تو خود بن جانا۔

شمر جب ابن زیاد کا خط لے عمرو بن سعد کے پاس پہنچا تو وہ سمجھ گیا کہ شمر کے مشورہ سے یہ صورت عمل وجود میں آئی ہے اور میرا مشورہ ردّ کر دیا گیا ہے۔

اس لئے عمرو نے شمر سے کہا کہ ’’تو نے بڑا ظلم کیا ہے کہ مسلمانوں کا کلمہ متفق ہو رہا تھا اور تو نے اس کو ختم کرکے قتل و قتال کا بازار گرم کر دیا ہے۔‘‘

بالآخر امام حسینؓ کو یہ پیام پہنچایا گیا تو آپؓ نے اس کے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اتنے میں شمر کا لشکر سامنے آگیا۔ آپؓ کے بھائی حضرت عباسؓ آگے کی جانب بڑھے اور اپنے مدمقابل حریف سے گفتگو شروع کی لیکن اس نے بلا مہلت قتال کا اعلان کر دیا۔

حضرت عباسؓ نے جب جنگ کا اعلان سنا تو انہوں نے جا کر امام حسینؓ کو اس کی اطلاع دے دی۔ امام حسینؓ نے فرمایا ’’ ان سے کہو کہ آج کی رات قتال ملتوی کردو تاکہ آج کی رات میں وصیت، نماز، دعا اور استغفار میں گزار لوں۔‘‘

حضرت عباسؓ نے امام حسینؓ کا پیغام جا کر شمر تک پہنچا دیا۔ شمر ذی الجوشن اور عمر وبن سعد نے لوگوں سے مشورہ کیا اور آپؓ کو اس رات عبادت کرنے کی مہلت دے دی اور واپس چل دیئے۔

امام حسینؓ نے رات کو اپنے اہل بیتؓ اور اصحاب کو جمع کرکے ایک خطبہ دیا جس کا لب لباب یہ تھا

’’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں، راحت میں بھی اور مصیبت میں بھی۔ اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے ہمیں شرافت نبوت ﷺ سے نوازا، ہمیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے، جن سے ہم آیات سمجھیں اور ہمیں تو نے قرآن پاک سکھلایا اور دین کی سمجھ عطا فرمائی، ہمیں تو اپنے شکر گزار بندوں میں داخل فرما۔‘‘

اس کے بعد امام حسینؓ نے بنو عقیل کو مخاطب کرکے فرمایا ’’ تمہارے ایک بزرگ مسلم بن عقیلؓ شہید ہو چکے ہیں، تمہاری طرف سے وہی ایک کافی ہیں، تم سب واپس چلے جاؤ، میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ اپنے بزرگوں اور بڑوں کو موت کے سامنے چھوڑ کر اپنی جان بچا لائے بلکہ اللہ کی قسم! ہم تو آپؓ پر اپنی جانیں اور اولاد و اموال سب کچھ نچھاور کر دیں گے۔‘‘

آپؓ کی ہمشیرہ حضرت زینبؓ بے قرار ہو کر رُونے لگیں تو آپؓ نے انہیں تسلی دی۔ ہمشیرہ کو یہ وصیت فرما کر امام حسینؓ باہر آگئے اور اپنے اصحاب کو جمع کرکے تمام شب تہجد اور دعا و استغفار میں مشغول رہے۔ یہ عاشورہ کی رات تھی اور صبح عاشورہ (۱۰ محرم) کا دن تھا۔

دسویں محرم جمعہ یا ہفتہ کے دن فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی عمرو بن سعد لشکر لے کر امام حسینؓ کے سامنے آ گیا۔ اس وقت امام حسینؓ کے ساتھ کل بہتر (۷۲) اصحاب تھے جن میں سے بتیس (۳۲) گھڑ سوار اور چالیس (۴۰) پیادہ پا تھے۔

چنانچہ آپؓ نے بھی اس کے مقابلہ کے لئے اپنے اصحاب کی صف بندی فرما لی۔ عمرو بن سعد نے اپنے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کا ایک امیر بنا لیا تھا۔

ان میں سے ایک حصہ کا امیر حر بن یزید تھا جو سب سے پہلے ایک ہزار کا لشکر لے کر امام حسینؓ کے مقابلہ کے لئے بھیجا گیا تھا اور امام حسینؓ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اس کے دل میں اہل بیتؓ اطہار کی محبت کا جذبہ بیدار ہو چکا تھا، وہ اس وقت اپنی سابقہ کارروائی پر نادم ہو کر امام حسینؓ کے قریب ہوتے ہوتے یک بارگی گھوڑا دوڑا کر آپؓ کے لشکر میں آملا اور عرض کیا کہ میری ابتدائی غفلت اور آپؓ کو واپسی کے لئے راستہ نہ دینے کا نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہوا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ واللہ! مجھے یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ لوگ آپؓ کے خلاف اس حد تک پہنچ جائیں گے اور آپؓ کی کوئی بات نہ مانیں گے، اگر میں یہ جانتا تو ہرگز آپؓ کا راستہ نہ روکتا، اب میں آپؓ کے پاس توبہ تائب ہو کر آیا ہوں۔

اس کے بعد امام حسینؓ نے روسائے کوفہ کا نام لے لے کر پکارا ’’اے شیث بن ربعی، اے حجاز بن ابحر، اے قیس بن اشعث، اے زید بن حارث! کیا تم لوگوں نے کوفہ بلانے کے لئے مجھے خطوط نہیں لکھے تھے؟‘‘ لیکن یہ سب لوگ مکر گئے۔

امام حسینؓ نے فرمایا کہ ’’میرے پاس تمہارے تمام خطوط موجود ہیں۔‘‘ اس کے بعد فرمایا ’’اے لوگو! اگر تم میرا آنا پسند نہیں کرتے تو مجھے چھوڑ دو تاکہ میں کسی ایسی زمین میں چلا جاؤں جہاں مجھے امن ملے۔‘‘

قیس بن اشعث نے کہا کہ ’’آپ اپنے چچا زاد بھائی ابن زیاد کے حکم پر کیوں نہیں اتر آتے؟ وہ پھر آپ کا بھائی ہے، آپ کے ساتھ برا سلوک نہیں کرے گا ‘‘ لیکن امام حسینؓ نے فرمایا کہ ’’مسلم بن عقیلؓ کے قتل کے بعد بھی اگر تمہاری رائے یہی ہے تو اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اس کو قبول نہ کروں گا ‘‘ یہ فرما کر آپ گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔

حضرت زہیر بن القینؓ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں کونصیحت کی کہ ’’تم آلِ رسول ﷺ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے سے باز آجاؤ، اگر تم اس سے باز نہ آئے تو خوب سمجھ لو کہ تم کو ابن زیاد سے کوئی فلاح نہ پہنچے گی بلکہ بعد میں وہ تم پر بھی قتل و غارت کرے گا۔‘‘

جب گفتگو طویل ہونے لگی تو شمر ذی الجوشن نے اپنا پہلا تیر ان پر چلا دیا، اس کے بعد حر بن یزید جو توبہ تائب ہو کر امام حسینؓ کے لشکر میں شامل ہو گئے تھے آگے بڑھے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا

’’ تم ہلاک و برباد ہو جاؤ ! کیا تم نے ان کو اس لئے بلایا تھا کہ جب یہ آجائیں تو تم ان کو قتل کردو؟ تم نے تو کہا تھا کہ ’’ ہم اپنا تن، من، دھن سبھی کچھ ان پر قربان کر دیں گے۔‘‘ اور اب تم ہی ان کے قتل کے درپے ہو گئے ہو۔ ان کو تم نے قیدیوں کی مثل بنا رکھا ہے اور دریائے فرات کا جاری پانی ان پر بند کر دیا ہے جسے یہودی، نصرانی اور مجوسی سبھی پیتے ہیں اور علاقے کے خنزیر اس میں لوٹتے ہیں، امام حسینؓ اور ان کے اہل بیتؓ پیاس سے مرے جا رہے ہیں، اگر تم نے اپنی اس حرکت سے توبہ نہ کی اور اس سے باز نہ آئے تو یاد رکھنا !کل قیامت کے دن میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ تمہارا پانی بند کرے گا۔

اب حر بن یزید پر بھی تیر پھینکے گئے وہ واپس آگئے اور امام حسینؓ کے آگے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد تیر اندازی کا سلسلہ شروع ہو گیا، پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔

فریق مخالف کے بھی کافی آدمی مارے گئے۔ امام حسینؓ کے بعض رفقا بھی شہید ہوئے۔ حر بن یزید نے امام حسینؓ کے ساتھ ہو کر شدید قتال کیا اور بہت سے دشمنوں کو قتل کیا۔

اس کے بعد شمر نے چاروں طرف سے امام حسینؓ اور ان کے رفقا پر ہلہ بول دیا جس کا امام حسینؓ اور ان کے رفقا نے بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ وہ کوفہ کے لشکر پر جس طرف سے حملہ کرتے میدان صاف ہو جاتا۔

اُدھر دوسری طرف عمرو بن سعد نے جو کمک اور تازہ دم پانچ سو گھڑ سوار بھیجے وہ مقابلہ پر آکر ڈٹ گئے لیکن امام حسینؓ کے رفقا نے ان کا بھی نہایت جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور گھوڑے چھوڑ کر میدان میں پیادہ پا آگئے۔ اس وقت بھی حر بن یزید نے دشمنوں سے سخت قتال کیا لیکن اب دشمنوں نے خیموں میں آگ لگانا شروع کر دی تھی۔

امام حسینؓ کے اکثر وبیشتر ساتھی شہید ہو چکے تھے اور دشمن کے دستے آپؓ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ حضرت ابو شمامہ صائدیؓ نے امام حسینؓ سے عرض کیا کہ ’’میری جان آپؓ پر قربان ہو لیکن دل یہ چاہتا ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو چکا ہے، نماز ادا کرکے اپنے پروردگار کے پاس جاؤں۔‘‘

ابو شمامہ صائدیؓ نماز کی حسرت دل ہی دل میں لیے شہید ہو گئے لیکن امام حسینؓ نے اپنے چند اصحاب کے ساتھ نمازِ ظہر ’’ صلوٰۃ الخوف‘‘ کے مطابق ادا فرمائی۔

نماز ادا کر لینے کے بعد جنگ شروع ہو گئی۔ اب یہ لوگ آپؓ تک پہنچ چکے تھے۔ زہیر بن القینؓ نے آپؓ کی مدافعت میں سخت قتال کیا، وہ بھی شہید ہو گئے۔

اس وقت امام حسینؓ کے پاس بجز اپنے چند گنے چنے رفقا کے اور کوئی نہ رہا تھا اور بچے کھچے رفقا بھی خوب اچھی طرح سمجھ گئے کہ اب ہم نہ امام حسینؓ کی جان بچا سکتے ہیں اور نہ اپنی جان، اس لئے ہر شخص کی خواہش یہ ہوئی کہ میں امام حسینؓ کے سامنے سب سے پہلے شہید کیا جاؤں۔

اس لئے ہر شخص نہایت شجاعت و بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرتا رہا۔ اسی اثنا میں امام حسینؓ کے بڑے صاحبزادے علی اکبر شعر پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے

’’میں حسین بن علیؓ کا بیٹا ہوں، رب کعبہ کی قسم! ہم اللہ کے رسول ﷺ کے بہت قریب ہیں۔‘‘ اتنے میں مرہ بن منقذ آگے بڑھا اور ان کو نیزہ مار کر زمین پر گرا دیا۔

پھر کچھ اور بدبخت آگے بڑھے اور لاش مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ امام حسینؓ لاش کے قریب تشریف لائے اور فرمایا ’’اللہ تعالیٰ اس قوم کو برباد کرے جس نے تجھ کو قتل کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے بے وقوف ہیں ‘‘ پھر ان کی لاش اٹھا کر خیمہ کے پاس لائی گئی۔ عمرو بن سعد نے حضرت حسنؓ کے بیٹے قاسم بن حسنؓ کے سر پر تلوار ماری جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور ان کے منہ سے نکلا ’’ہائے میرے چچا (حسینؓ)‘‘۔

امام حسینؓ نے بھاگ کر ان کو سنبھالا اور عمرو بن سعد پر تلوار سے جوابی وار کیا جس سے کہنی سے اس کا ہاتھ کٹ گیا۔ امام حسینؓ بھتیجے کی لاش اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے اور اپنے بیٹے اور دوسرے اہل بیتؓ کی لاشوں کے قریب لاکر رکھ دی۔

اب امام حسینؓ تقریباً تن تنہا اور بے یار ومددگار رہ گئے تھے لیکن آپؓ کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ کافی دیر تک یہی کیفیت رہی کہ جو شخص بھی آپؓ کی طرف بڑھتا فوراً واپس لوٹ جاتا، یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب شخص مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اس نے امام حسینؓ کے سر مبارک پر حملہ کر دیا جس سے آپؓ شدید زخمی ہو گئے۔

اس وقت آپؓ نے اپنے چھوٹے صاحبزادے عبداللہ بن حسین کو اپنے پاس بلایا اور ابھی اپنی گود میں بٹھایا ہی تھا کہ بنو اسد کے ایک بدنصیب شخص نے ان پر ایک تیر چلایا جس سے وہ بھی شہید ہو گئے۔

امام حسینؓ نے اپنے معصوم بچے کا خون دونوں ہاتھوں میں لے کر زمین پر بکھیر دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ’’اے اللہ! تو ہی ان بدبخت اور ظالموں سے ہمارا انتقام لینا۔‘‘

اب امام حسینؓ کی پیاس حد کو پہنچ چکی تھی۔ آپؓ پانی پینے کے لئے دریائے فرات کے قریب تشریف لے گئے مگر حصین بن نمیر ایک ظالم شخص نے آپؓ کی طرف ایک تیر پھینکا جو آپؓ کے منہ پر جا کر لگا جس سے آپؓ کے دہن مبارک سے خون پھوٹنے لگ گیا۔

اس کے بعد شمر ذی الجوشن دس آدمی اپنے ساتھ لے کر امام حسینؓ کی طرف آگے بڑھا۔ آپؓ اس وقت پیاس کی شدت سے نڈھال اور زخموں سے چور ہو چکے تھے لیکن اس کے باوجود ان کا دلیرانہ مقابلہ کرتے رہے اور جس طرف سے آپؓ آگے بڑھتے یہ سب کے سب وہاں سے بھاگتے نظر آتے تھے۔

شمر نے جب یہ دیکھا کہ امام حسینؓ کو قتل کرنے میں ہر شخص لیت ولعل سے کام لے رہا ہے تو اس نے آواز لگائی کہ ’’ سب یکبارگی ان پر حملہ کر دو ۔‘‘

اس پر بہت سے بدنصیب آگے بڑھے اور نیزوں اور تلواروں سے یکبارگی امام حسینؓ پر حملہ کر دیا اور اس طرح ان ظالموں کا دلیرانہ مقابلہ کرتے کرتے بالآخر کار امام حسینؓ نے جام شہادت نوش فرمال یا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

عمرو بن سعد دو روز کے بعد بقیہ اہل بیتؓ امام حسینؓ کی بیٹیوں، بہنوں اور بچوں کو ساتھ لے کر کوفہ کے لئے نکلا ہی تھا کہ انہیں امام حسینؓ اور اُن کے اصحاب کی لاشیں پڑی ہوئی نظر آئیں۔

عورتوں اور بچوں نے جب یہ منظر دیکھا تو کہرام مچ گیا۔ گویا آسمان و زمین رونے لگ گئے۔ عمرو بن سعد نے جب اہل بیتؓ کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا تو اُس وقت امام حسینؓ کی ہمشیرہ حضرت زینب رضی اللہ عنہہ نے بہت میلے اور خراب کپڑے پہن رکھے تھے اور اُن کی باندیاں اُن کے اردگرد تھیں، وہ ایک طرف جا کر خاموش ہو کر بیٹھ گئیں۔

ابن زیاد نے پوچھا: ’’یہ ایک طرف جا کر علیحدہ بیٹھنے والی کون ہے؟۔‘‘ حضرت زینب رضی اللہ عنہہ نے کوئی جواب نہ دیا، ابن زیاد نے تین مرتبہ اسی طرح دریافت کیا، مگر حضرت زینب رضی اللہ عنہہ اسی طرح خاموش رہیں، جب کسی باندی نے کہا کہ ’’ یہ زینب بنت فاطمہؓ ہیں۔‘‘ تو ابن زیاد بولا ’’شکر ہے اللہ کا جس نے تمہیں رُسوا کیا اور قتل کیا اور تمہاری بات کو جھوٹا کیا۔‘‘

اِس پر حضرت زینب رضی اللہ عنہہ کڑک دار لہجے میں بولیں ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمیں محمد مصطفیٰ ﷺ کے نسب سے شرف بخشا اور قرآنِ مجید میں ہمارے پاک ہونے کو بیان کیا۔ رُسوا وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔‘‘

یہ سن کر ابن زیاد غصہ سے بھڑک اُٹھا اور کہنے لگا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے غیظ سے شفا دی اور تمہارے سرکش کو ہلاک کیا۔‘‘ حضرت زینب رضی اللہ عنہہ کا دل بھر آیا، وہ اپنے تئیں سنبھال نہ سکیں، اس لئے بے اختیار رونے لگیں اور فرمانے لگیں ’’ اگر یہی تیری شفا ہے تو تو اسی کو اپنی شفا سمجھے رکھ۔‘‘

ابن زیاد کی شقاوت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ حکم دیا کہ ’’امام حسینؓ کے سر کو ایک لکڑی پر رکھ کر ’’کوفہ‘‘ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں سر عام گھمایا جائے تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں۔‘‘

چنانچہ یہ سب کچھ بھی ہوا اور پھر اِس کے بعد ابن زیاد نے امام حسینؓ اور آپؓ کے دیگر اصحاب کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام بھیج دیا اور ان کے ساتھ اہل بیتؓ کی خواتین اور بچوں کو بھی قیدی بنا کر روانہ کردیا۔

جب یہ لوگ ملک شام پہنچے تو انعام کے شوق میں حر بن قیس جو اِن کو لے کر گیا تھا فوراً یزید کے پاس پہنچا۔

یزید نے پوچھا ’’کیا خبر ہے؟‘‘ حر بن قیس نے میدانِ کربلا کے معرکے کی ساری تفصیل بتائی اور آخر میں کہنے لگا کہ ’’امیر المومنین کو بشارت ہو کہ مکمل فتح حاصل ہوئی ہے، اہل بیتؓ سارے کے سارے مارے گئے اور ان کی ساری عورتیں اور بچے قیدی بن کر حاضر ہیں۔‘‘

جب وہ یزید کے سامنے پیش کیے گئے تو حضرت زینبؓ نے حضرت علیؓ کے لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’تو کمینہ ہے! نہ تجھے اس کا اختیار ہے اور نہ ہی یزید کو اِس کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا، یہ دوسری بات ہے کہ تم ہماری ملت ومذہب سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلو!۔ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تو نے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم کرتا ہے، گالیاں دیتا ہے اور اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے۔‘‘ یہ گفتگو سن کر یزید شرمندہ ہو گیا، اس کے بعد کچھ نہ بول سکا۔

اِس کے بعد یزید نے اہل بیتؓ کی عورتوں کو اپنی عورتوں کے پاس بھیج دیا۔ حضرت سجادؓ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں یزید کے سامنے لائے گئے تو اُنہوں نے یزید کے سامنے آ کر کہا کہ ’’اگر رسول اللہ ﷺ ہمیں اس طرح قید میں دیکھتے تو قید سے رہا فرما دیتے۔‘‘

یزید نے کہا کہ ’’سچ ہے ‘‘ اور قید سے رہا کر دینے کا حکم دے دیا۔ حضرت سجادؓ نے کہا ’’رسول اللہ ﷺ ہمیں اس طرح مجلس میں بیٹھا دیکھتے تو اپنے قریب بلا لیتے۔‘‘

یزید نے ان کو اپنے قریب بلا لیا اور کہا کہ: ’’اے علی بن حسینؓ! تمہارے والد ہی نے مجھ سے قطع رحمی کی اور میرے حق کو نہ پہچانا اور میری سلطنت کے خلاف بغاوت کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ کیا جو تم نے دیکھا۔‘‘ جواب میں حضرت سجاد نے قرآنی آیت پڑھ کر اسے لاجواب کر دیا۔

عام مورخین ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ امام حسینؓ کی شہادت کے بعد تقریباً دو تین مہینوں تک آسمانی فضا کی یہ کیفیت رہی کہ جب سورج طلوع ہوتا اور دھوپ درودیوار پر پڑتی تو اتنی سرخ ہوتی تھی جیسے دیواروں کو خون سے رنگا گیا ہو۔‘‘

(تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع)

(Visited 89 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں