مقبرہ طاہر خان نہڑ کو لاحق خطرات…

مقبرہ طاہر خان نہڑ کو لاحق خطرات...

سیت پور ضلع مظفر گڑھ کا قدیم شہر ہے۔ یہ شہر ایک بڑے ٹیلے پر آباد ہے۔ سیت پور کو قریب سے بہنے والے دریاۓ چناب سے ہمیشہ سیلاب کہ خطرہ رہتا ہے۔یہ شہر برصغیر کے قدیم مقامات میں سے ایک ہے۔ سیت پور سیتا رانی کے نام پر آباد ہوا تھا۔۔۔تین سو سال قبل مسیح راجہ سنگھ کے نام سے دیو گڑھ اور اسکی دو بہنوں سیتا رانی کے نام سے سیت پور اور اوچا رانی کے نام سے اوچ شریف جیسے شہر آباد کئے گئے۔

تاریخی قصبہ سیت پور زر خیزی کے حوالے سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔۔سکندر اعظم جب ایران کے آخری کیان بادشاہ داراسوم کو شکست دے کر پنجاب میں راجہ پورس کو شکست دیتے ہوئے ملتان پہنچا تو ملہی قوم کے ہاتھوں زخمی ہوا اور پھر کچھ روز سیت پور میں قیام کے بعد بلوچستان کے راستے اپنے وطن لوٹ گیا۔۔1445 میں ملتان کو اس وقت کے گورنر بہلول خان لودھی نے اپنے چچا اسلام خان نہڑ کو سیت پور کی حکمرانی سونپی. نہڑ خاندان کا تعلق مغلیہ سلطنت سے تھا۔

مقبرہ طاہر خان نہڑ کو لاحق خطرات...
مقبرہ طاہر خان نہڑ کو لاحق خطرات…

اسلام خان نے سیت پور کو اپنا دار لخلافہ بنایا۔ اسلام خان نے جن شہروں پر حکمرانی کی.ان میں ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، کوہ سلیمانی کا مشرقی حصّہ اور سندھ کے شمالی علاقے شامل تھے۔ نہڑ خاندان نے پندر ھویں اور سولہویں صدی تک اس شہر پر حکمرانی کی۔ اور یہ شہر نہڑ خاندان کا دار لحکومت رہا۔یہاں طاہر خان نہڑ کہ مقبرہ اور بادشاہی مسجد ملتانی فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ اور قابل دید عمارت ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ہزارو سال پرانی تاریخ کے اثار ملتے ہیں۔ تاریخ کے طالبہ، ماہرین آثار قدیمہ اور سیاحوں کے لیے یہ قصبہ بڑی اہمیت کہ حامل ہے۔

روایت ہے کےسخی حکمران ہونے کی وجہ سے طاہر خان نہڑ سخی کہلا نے لگا تھا۔ اس نے کثیر سرمائے سے اپنے باپ کا مقبرہ اور شاہی مسجد بھی تعمیر کروائی جو کے اب تک موجود ہے۔ مقبرے میں طاہر خان سخی اپنے والد کے پہلو میں ہی ابدی نیند سو رہے ہیں۔ لیکن اسکے تعمیر کردہ مزار نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ طاہر خان نہڑ کہ خاندان تین صدیوں تک وہاں حکمران رہا نہڑ خاندان کے آخری حکمران کا نام بخشن خان تھا۔ نہڑ خاندان حکمرانی کے اوائل روز سے ہی مشکلات سے دو چار رہا تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے بلوچ قبائل بھی ان کے لیے خطرے کا باعث بنے تھے۔ اسکے علاوہ نہڑ خاندان کے اندرونی خلفشار اور شیخ راجواور سیت پور کے مخدوم جو سیت پور کے ناظم مقرر کئے گئے تھے انہوں نے نہڑ خاندان کی حکومت کو اندرونی طور پر کمزور کر دیا تھا۔

1800ء میں نواب بہاول پور نے مخدوم راجوں کا تخت الٹ دیا تھا لیکن پھر بھی کچھ علاقوں میں نہڑ خاندان کی حکومت رہی تھی۔۔نہڑ خاندان کے زوال کے بعد سیت پور کا نام احمد شاہ درانی کے پنجاب حملے کے وقت اور زاہد خان کے گورنر ملتان کے دور میں نومیان رہا تھا اس تاریخی شہر کی اصل خوبصورتی شاہی مسجد اور طاہر خان نہڑ کا مقبرے کی بدولت ہے مقبرہ نفیس اینٹوں کے اونچے چبوترے پر قائم ہے۔۔۔زمین سے اپنی چوٹی تک مقبرے کی تین واضح حد بندیاں نظر آتی ہیں گنبد کے آخر پر کنڈکٹر coductor لگایا گیا ہے۔ جو اسے آسمانی بجلی سے محفوظ رکھتا ہے سیت پور کہ ذکر شیخ نوید اسلم کی کتاب پاکستان کے اثار قدیمہ میں واضح طور پر کیا گیا ہے پر افسوس ہمارے اس اثاثے کی قدروقیمت کی کسی کو فکر نہیں نہڑ خاندان کا یہ مقبرہ محکمہ آثار قدیمہ سنبھال نہیں سکا سیلاب اور دریائی راہ گزر گاہ نے اس شہر کے بے شمار تاریخی مقامات کا نام و نشان مٹا دیا ہے۔

تحریر: مہمان مصنفہ، امبر فاطمہ

(Visited 50 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں