بھارت فاشسٹ ملک بن گیا

مقبوضہ کشمیر

دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک بھارت میں برسر اقتدار راشٹریہ سیوک سنگھ کی بی جے پی حکومت نے اقتدار کے موجودہ دور کو فاشسٹ ملک میں تبدیل کر دیا ہے اور ہر اس آواز کو دبایا جا رہا ہے،جو انسانی حقوق یا انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے اٹھائی جاتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل(بھارت) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں اس ریاست کے مختلف حصوں میں بھارتی درندوں نے جن افراد کو قتل کیا، ان کی تعداد 81 ہے اور یہ سب مسلمان یا دلت تھے،جن کو ہجوم بنا کر قتل کیا گیا، حال ہی میں ایک نوجوان بچے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے آر ایس ایس کے غنڈوں نے جے شری رام نہ بولنے پر زندہ جلا ڈالا،اسی طرح گؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو گھیر کر مار دیا جاتا ہے اور کوئی مقدمہ بھی نہیں بنتا،اس ظلم کے خلاف بھارت کے 59 دانشور حضرات، ادیبوں، فلمسازوں اور فنکاروں نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا اور ان کی توجہ ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے مسلمان اور دلت افراد کی طرف دلائی گئی اور اس ظلم کو روکنے کی اپیل کی گئی۔اب بھارتی ٹی وی کی خبر کے مطابق ان سب کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔

اسی طرح بھارتی حکومت نے زیر حراست کشمیری رہنما یٰسین ملک اور نظر بند حریت رہنماؤں کے خلاف بھی غداری کے الزام پر مقدمات درج کر لئے اور گزشتہ روز یٰسین ملک کو دہلی کی عدالت میں پیش کیا گیا کہ ان کو مقبوضہ کشمیر سے گرفتار کر کے یہاں لایا گیا ہے۔بھارت میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے خود اس کے اپنے آئین کی توہین ہوئی اور اب مقبوضہ کشمیر کو وسیع تر جیل بنے بھی دو ماہ سے اوپر ہو گئے ہیں.

پروڈکشن وارنٹ
Photo: FIle

ان مظلوموں پر مسلسل ظلم ہو رہا ہے،اس سلسلے میں عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مذمت کی اور شہری آزادیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا اب تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایک بار پھر بھارتی اقدام کی مذمت کی اور مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی آزادی بحال کرنے پر زور دیا،انہوں نے بھارت اور پاکستان سے بھی کہا ہے کہ دونوں ملک تنازعہ کشمیر حل کرنے کے لئے بات چیت کریں۔اس ساری صورتِ حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم اپنے فاشزم پر کھڑا ہے اور کسی مخالف رائے کی فکر نہیں کر رہا۔

مقبوضہ کشمیر

ان حالات میں پاکستان حکومت کا فرض بن گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین اور دو سالہ عبوری دور والوں سے ملاقاتیں کر کے ان کو نہ صرف اس صورتِ حال سے آگاہ کرے، بلکہ دُنیا میں کشمیریوں کی آواز کو زیادہ بلند کرے، پانچوں مستقل ارکان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ ان مظالم کو بند کرانے اور کشمیر کو حق ِ خود ارادیت دلانے کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بُلا کر بھارت کو مجبور کریں، دوسری صورت میں اس کے خلاف بھی پابندیاں لگائی جائیں۔

(Visited 32 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں