مقبوضہ کشمیر: بھارتی ریاستی دہشتگردی کے دوران مزید دو نوجوان شہید

سرینگر: بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے دوران مزید دو کشمیری نوجوان شہید ہو گئے۔ وادی میں کرفیو برقرار ہے جبکہ پہلی بار 15 رکنی وفد نے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ سے ملاقات کی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ہے، قابض فوج نے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر ڈالا۔ دونوں نوجوانوں کو ضلع پلوامہ میں شہید کیا گیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں نوجوانوں کی شناخت عفید فاروق لون اور عباس احمد بٹ شامل ہیں، جنہوں نے نام نہاد ریاستی آپریشن کے دوران اونتی پورہ میں شہید کیا گیا، گندر بل، بانڈی پورہ ، کپواڑہ، بارہمولا، سرینگر، اسلام آباد، کولگام، شوپیاں، رمبن، ڈوڈا، کشتواڑ سمیت دیگر علاقوں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے 12 روز میں متعدد نوجوانوں کو شہید کیا ہے۔

اُدھر مقبوضہ کشمیر میں خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے لیکر اب تک زندگی قید ہے، مسلم اکثریت والے علاقے میں 65 روز سے کرفیو لگا ہوا ہے، رات کو مسلسل چھاپے مارنے کا تسلسل جاری ہے، اس دوران متعدد نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے، حراست میں لیے گئے متعدد نوجوانوں کو بیدردی کے ساتھ شہید بھی کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق وادی کی بڑی مارکیٹیں بند ہیں، اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے، سڑکیں سنسان ہیں، ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں نکالنے کے لیے تیار نہیں۔ سکول بھی بند ہیں، والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہسپتالوں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ وادی میں آفس کھلے ہوئے ہیں تاہم کوئی بھی نظر نہیں آ رہا ہے ہر طرف ہو کا عالم ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ روز ڈاکٹرز کی طرف سے جاری ہونیوالی خوفناک داستان کے بعد ہر کوئی پریشان ہے کہ کہیں بڑا انسانی بحران سر نہ اٹھا لے جبکہ ہر گلی، مرکزی شاہراہ سمیت دیگر علاقوں میں صرف فوجی ہی نظر آ رہے ہیں جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کررہی ہے۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں حریت لیڈر اور جموں اینڈ کشمیر ایمپلائز موومنٹ کے رہنما محمد شفیع لون کا کہنا ہے کہ بھارت جدوجہد آزادی کی تحریک کو دبانے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔ اس کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے، کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ہند نواز اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ کا کہنا ہے کہ مودی سرکار حراست میں لیے گئے رہنماؤں اور نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد فاروق عبد اللہ سے پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی ہے۔ 15 رکنی وفد نے ملاقات کی۔

اس دوران ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے آپریشن بند، سول سوسائٹی، تاجروں، سیاسی رہنماؤں سمیت دیگر لوگوں کو رہا کیا جائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکولوں کے طلبہ اور بچوں کو بھی فوری طور پر رہا کیا جائے جنہیں نام نہاد آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

(Visited 12 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں