’دو ٹکے کا مرد‘

آج کل ایک پاکستانی ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کا ڈائیلاگ بہت وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک باوفا شوہر بےوفا بیوی کو ’دو ٹکے کی عورت‘ کے لقب سے پکارتا ہے۔ اس ڈائیلاگ نے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی حاصل کی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ڈائیلاگ کی دھوم کیوں مچی ہوئی ہے؟ اس لیے کہ مشرقی معاشرے میں عورت کا دھوکہ دینا اچھنبے کی بات ہے جبکہ مردوں کے لیے تو یہ عام سی بات ہے؟ یہی کام کوئی مرد کرے تو معاشرہ اسے مرد کا حق سمجھتا ہے۔ یا یہ کہنا درست ہو گا کہ سماج مردوں کو بے وفائی کرنے پر رعایت دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے وہ تو مرد ہے، اس سے تو غلطی ہوسکتی ہے لیکن عورت کی غلطی کو گناہ گردانا جاتا ہے۔ اس معاشرے کے مرد اور عورت کے لیے الگ الگ معیار ہیں۔ جب ایک مرد بیوی کی بجائے باہر کی خواتین پر دھیان دیتا ہے، شراب پیتا ہے، زنا کرتا ہے، بیوی کو مارتا ہے تب اسے کوئی دو ٹکے کا مرد نہیں کہتا۔

الٹا بیوی کو چپ رہنے کا درس دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے تمہیں تو سمجھوتہ کرنا ہے۔ پوری عمر اسی کے ساتھ گزارنی ہے اور اگر بیوی غم و غصے میں کچھ کہہ بھی دے تو اسے انا کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔

تب نہ سسرالی واہ واہ کرتے ہیں اور نہ محلے والے اور نہ یہ سماج عورت کو معاف کرتا ہے بلکہ ہر کوئی عورت پر لعن طعن کرتا ہے۔

میکے سمیت سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ شوہر کی ہر غلطی درگزر کرو جبکہ کوئی عورت شوہر کے علاوہ کسی سے ہنس کر بھی بات کر لے تو اس کے کردار کو مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ لڑکی اپنی سچائی کا یقین دلا دلا کر تھک جاتی ہے مگر پھر بھی اس پر شک کیا جاتا ہے۔ طعنے دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔

غیر محفوظ تعلق قائم کرنے والے مرد حضرات کے عام بہانے

کیا خواتین، مردوں کے لیے آج کل فیشن سے بے نیاز رہنا ممکن ہے؟

’مردوں کو کب سکھایا جائے گا کہ وہ خواتین کے ساتھ کیسے پیش آئیں؟‘

آئیے، مظلوم کو دل کھول کر بے عزت کریں!

یہ معاشرہ عورت کو تو دو ٹکے کی کہنا کی ہمت رکھتا ہے لیکن دھوکہ دینے والے مردوں کو دو ٹکے کا کہنے کی جرات نہیں کرتا۔ مرد شادی کا جھانسہ دے کر کئی لڑکیوں کو جذباتی اور ہر طرح کا دھوکہ دے سکتا ہے لیکن پھر بھی وہ دو ٹکے کا نہیں کہلاتا لیکن لڑکی والدین کی پسند سے شادی کر لے تب بھی وہ بے وفا پکاری جائے گی۔ اسے ہلکے کردار کا کہا جائے گا۔

اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی سے پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے تب بھی الزام لڑکی پر آتا ہے، اسے مردوں کو پھانسنے والی کہا جاتا ہے۔ اسے دو پل میں دو ٹکے کا کر دیا جاتا ہے۔

آج بھی اس معاشرے میں عورت کو نام نہاد غیرت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے لیکن مرد سے تو سوال تک نہیں کیا جاتا، وہ ہر الزام سے بری الذمہ ہوتا ہے۔ یہ معاشرہ صرف عورتوں کی غلطیوں اور لرزشوں پر نظر رکھتا ہے۔ یہاں تو ان مردوں کو بھی دو ٹکے کا نہیں کہا جاتا جو جائیداد کے لیے بہنوں کی شادی قرآن سے کرا دیتے ہیں اور نہ ہی 20 سال تک بہن کو ایک کمرے میں قید رکھنے والے بھائیوں کو دو ٹکے کا کہتا ہے۔

جہاں عورت کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہو، اسے عزت نہ دی جاتی ہو، اس معاشرے کی نظر میں
صرف عورت دو ٹکے کی کہلاتی ہے۔</p

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

(Visited 175 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں