موت ایسے بھی ہوتی ہے….!!

موت

ہر شخص خوش رہنا چاہتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی شاید ہی ایسا شخص ہو جو خوشگوار اور خوش و خرم زندگی نہ گزارنا چاہتا ہو۔ جنوبی کوریا میں خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے ایک نیا رجحان بہت مقبول ہو رہا ہے۔ اس رجحان کے مطابق جیتے جاگتے لوگ اپنی زندگی کے آخری لمحے سے لے کر مرنے تک کی ریہرسل کرتے ہیں اور اس کو خوشگوار موت کا نام دیا جاتا ہے.

اس ریہرسل میں شامل ہونے والا ہر شخص پہلے اپنی زندگی کی آخری تصویر کھنچواتا ہے اور پھر اپنی وصیت لکھتا ہے اور پھر تھوڑی دیر کے لیے تابوت میں لیٹ جاتا ہے اور خود کو مُردہ محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس وقت جنوبی کوریا میں ’’موت کی ریہرسل‘‘ کے  2000ء سے زائد سینٹر کام کررہے ہیں، یہاں پر ہر سال لاکھوں لوگ قربِ موت اور آخری رسومات کی ریہرسل کرتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام مراکز غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے تحت کام کررہے ہیں جہاں موت کی ریہرسل کے لیے آنے والوں سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا۔

حمل کی خواہش کرنے والی خواتین ماہرین کے اس مشورے پر عمل کریں …..!

واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں خودکشی کرنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہاں پر ہر سال تقریباً 11000 افراد خودکشی کرتے ہیں۔ آبادی کے تناسب سے یہ شرح 20.2 فی 100,000 بنتی ہے جو عالمی ادارہ صحت کے بیان کردہ عالمی اوسط یعنی 10.53 فی 100,000 سے تقریباً دوگنی ہے جو بلاشبہ ایک تشویش ناک امر ہے۔

loading...

موت کی ریہرسل کروانے والے مراکز کا مقصد، جنوبی کوریا میں خودکشی کی بلند شرح کو کم کرنا ہے۔

یہ مراکز چلانے والے افراد اور نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں موت کے تجربے سے گزرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کتنی قیمتی ہے۔ لہذا، اس ریہرسل کے بعد لوگوں کی اکثریت کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ انہیں اپنی زندگی خوشگوار محسوس ہونے لگتی ہے اور ان کے ذہنوں میں مرنے یا خودکشی کرنے کے خیالات بھی بہت کم آتے ہیں۔

(Visited 113 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں